کراچی: سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن برہان خان چانڈیو نے کہا کہ سندھ حکومت نے مختلف علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر پر 7 ارب روپے خرچ کیے ہیں، جبکہ پانی کی قلت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے محکمہ آبپاشی نے نہروں کی صفائی کا کام بھی انجام دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پانی کی چوری کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کر چکا ہے اور اس کے خلاف مؤثر کارروائی کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الصوبائی سطح پر پانی کے تنازعات اپنی جگہ، لیکن مقامی سطح پر بھی پانی کی چوری کو روکنا ناگزیر ہے۔
برہان خان چانڈیو نے مطالبہ کیا کہ قمبر شہدادکوٹ میں این آئی سی وی ڈی کی سہولت فراہم کی جائے کیونکہ یہ ایک وسیع اور دشوار گزار علاقہ ہے، جبکہ بلوچستان سے بھی بڑی تعداد میں مریض علاج کے لیے سندھ آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نصیر آباد میں پی پی ایچ آئی کا اسپتال تعمیر ہو چکا ہے، تاہم تاحال اسے فعال نہیں کیا گیا اور نہ ہی وہاں ضروری عملہ تعینات کیا گیا ہے، جس کے باعث عوام کو مطلوبہ طبی سہولیات میسر نہیں ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ قمبر شہدادکوٹ میں عوامی ٹرانسپورٹ کا نظام شروع کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ضلع کبھی خشک سالی اور کبھی سیلاب جیسی صورتحال کا سامنا کرتا ہے، جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات پیش آتی ہیں۔
برہان خان چانڈیو نے آر بی او ڈی سے متعلق مسائل کے حل، سڑکوں کی تعمیر اور سرحدی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے متصل سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی کے مزید اقدامات کیے جائیں اور فور وہیل گاڑیاں و دیگر وسائل فراہم کیے جائیں۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ کراچی سندھ کا حصہ ہے اور اسے سندھ سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی تمام سندھ کے عوام کا مشترکہ شہر ہے اور اس کی وحدت و حیثیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔





