کراچی: سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں صوبائی وزیر شاہینہ شیر علی نے حکومت کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بجٹ میں نامکمل ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کو ترجیح دی گئی ہے، جبکہ سکھر اور میرپورخاص میں دارالامان کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اب تک 405 خواتین کو قتل اور تشدد جیسے خطرات سے بچا کر تحفظ فراہم کیا گیا ہے، جبکہ انہیں باعزت زندگی گزارنے کے لیے معاشی وسائل بھی مہیا کیے گئے ہیں۔

شاہینہ شیر علی نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے ملک کے لیے عظیم قربانیاں دیں اور فرسٹ وومن بینک کا قیام ان کے تاریخی کارناموں میں شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سکھر میں وومن کمپلیکس بھی زیرِ تعمیر ہے، جس سے خواتین کی معاشی خودمختاری کو فروغ ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کے لیے ای کامرس پروگرامز کو فعال کیا گیا ہے تاکہ خواتین کی تیار کردہ مصنوعات عالمی منڈیوں میں فروخت ہو سکیں اور انہیں ڈالر میں آمدن حاصل ہو۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ جس طرح بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے آغاز پر تنقید کی گئی تھی مگر بعد میں اس کی کامیابی تسلیم کی گئی، اسی طرح پنک اسکوٹی اسکیم پر بھی تنقید ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے خواتین ڈرائیونگ لائسنس حاصل کریں گی اور خودمختار بنیں گی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ کورنگی اسپتال میں آج مفت علاج کی سہولیات دستیاب ہیں، جبکہ ماضی میں صورتحال مختلف تھی۔ انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی جماعتوں کا کام صرف تنقید کرنا رہ گیا ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کا کریڈٹ بھی لینے کی کوشش کی جاتی ہے۔

شاہینہ شیر علی نے کہا کہ ریڈ بس، ای بس اور پنک بس جیسے منصوبوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصطفیٰ کمال کے مثبت کاموں کی تعریف بھی کی گئی، لیکن پھر بھی بعض حلقے یہ تاثر دیتے ہیں کہ کراچی میں کوئی ترقی نہیں ہوئی۔

انہوں نے ایم کیو ایم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت میں شمولیت کے باوجود کراچی کے مسائل حل نہیں کرائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کی تقسیم میں سندھ کے ساتھ زیادتی کے معاملات پر بھی وفاقی سطح پر مؤثر آواز نہیں اٹھائی گئی۔

شاہینہ شیر علی نے کہا کہ آج کراچی اور تھر ترقی کی نئی مثالیں بن چکے ہیں اور ان علاقوں میں ہونے والی پیش رفت دنیا کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنقید کرنے والے تنقید کرتے رہیں گے، لیکن عوام ترقیاتی منصوبوں کے نتائج خود دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ کراچی میں مزید شاہراہیں اور ترقیاتی منصوبے بنیں اور اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کی مثبت تجاویز کا خیرمقدم کیا جائے گا۔