کراچی: سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوسرے روز مالی سال 2026-27 کے بجٹ پر بحث کا سلسلہ جاری رہا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی نور محمد نے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے مشکل معاشی حالات اور محدود وسائل کے باوجود ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری رکھا اور متعدد منصوبے مکمل کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں بجٹ پیش کرنا ایک بڑا چیلنج تھا، تاہم صوبائی حکومت نے دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے عوامی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کیے ہیں۔
نور محمد کا کہنا تھا کہ صوبے میں ترقیاتی کاموں کا سلسلہ جاری ہے، لیکن عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید ترقیاتی منصوبوں اور اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ شہری اور دیہی علاقوں کے مسائل بہتر انداز میں حل کیے جا سکیں۔
انہوں نے سندھ میں پانی کی شدید قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں پانی کی کمی سنگین صورتحال اختیار کر چکی ہے، جس کے باعث زراعت، لائیو اسٹاک اور عوامی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔
پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سندھ میں پانی کے بحران کا فوری نوٹس لیا جائے اور صوبے کو اس کا جائز پانی فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پانی کا مسئلہ صرف سندھ ہی نہیں بلکہ ملکی معیشت اور زرعی شعبے کے لیے بھی اہمیت کا حامل ہے۔




