ہے۔ بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاح و بہبود اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے بڑے پیمانے پر فنڈز مختص کیے گئے ہیں، تاہم اخراجات اور آمدنی کے درمیان فرق کے باعث خسارے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق صوبائی حکومت نے محصولات میں اضافے، وفاقی محاصل سے حصے اور دیگر ذرائع آمدن کے ذریعے مالی وسائل میں بہتری کی توقع ظاہر کی ہے، جبکہ ترقیاتی اور غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ خسارے کے باوجود ترقیاتی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رکھا جائے گا اور انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، بلدیاتی خدمات اور دیگر اہم شعبوں میں سرمایہ کاری جاری رہے گی۔ اس مقصد کے لیے مالی نظم و ضبط اور وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق 36.9 ارب روپے کا متوقع خسارہ صوبائی مالیاتی پالیسی کے لیے ایک اہم چیلنج ہوگا، تاہم اگر محصولات کے اہداف حاصل کر لیے گئے تو مالی دباؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔





