کبھی کبھی تاریخ کی بھی آنکھیں جھپکنے لگتی ہیں۔ وقت کا گرد آلود پردہ چند لمحوں کے لیے ہٹتا ہے اور ایک اجلی، بے داغ روشنی سے کوئی چہرہ ابھرتا ہے — وقار، جرات، فہم، اور دیانت کا مجسمہ — جسے جسٹس محمد رستم کیانی کہتے ہیں
یہ وہ نام ہے جس پر لفظ “جج” فخر سے ججتا ہے اور قلم لرز کر رک جاتا ہے کہ کہیں تحریر کی سطح اس کردار کے وقار کو چھو نہ پائے۔ وہ صرف عدلیہ کے منصب پر فائز نہ تھے، بلکہ ایک عہد، ایک نظریہ، ایک صداقت کی علامت تھے ۔ وہ نہ صرف ایک بے باک اور دیانتدار جج کے طور پر جانے جاتے ہیں بلکہ ایک اعلیٰ پایے کے دانشور، ادیب اور مصلح بھی تھے ایم آر کیانی 18 اکتوبر 1902 کو،کوہاٹ کے ایک گاؤں میں برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم لاہور اور پھر برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی سے حاصل کی۔ وہ علم و فضل کے زیور سے آراستہ ایک باوقار شخصیت تھے جنہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وکالت کے شعبے میں قدم رکھا۔
ایم آر کیانی نے وکالت کے بعد عدالتی خدمات کا آغاز کیا اور جلد ہی اپنی غیر معمولی صلاحیتوں، قانون کی گہری سمجھ بوجھ، صاف گوئی اور اصول پسندی کی وجہ سے ممتاز مقام حاصل کیا۔ وہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو آزادیٔ عدلیہ اور آئین کی بالادستی کے لیے ان کی غیر متزلزل وابستگی تھی ۔ جسٹس کیانی کی شہرت ایک ایسے جج کے طور پر ہے جو آمریت کے خلاف آواز بلند کرنے سے نہیں گھبراتا تھا۔ وہ ایوب خان کے دورِ حکومت میں بھی عدلیہ کی آزادی کا پرچم بلند کیے رہے۔ ان کے فیصلے اور تبصرے وقت کے حکمرانوں کے لیے ناپسندیدہ ہوتے، مگر وہ کبھی بھی دباؤ کا شکار نہ ہوئے۔
ایسے وقت میں جب عہدے اختیار بن چکے تھے اور عدالتی مسندیں اقتدار کے سائے میں لرز رہی تھیں، جسٹس کیانی اپنے فیصلوں میں ضمیر کی روشنائی سے لکھتے تھے۔
وہ قانون کو کتاب سے زیادہ ایک زندہ شعور سمجھتے تھے — ایسا شعور جو کمزور کے آنسو کو دلیل مانتا اور طاقتور کی دھونس کو رد کر دیتا
ان کا کہنا تھا:
“جج کو صرف قانون کا غلام ہونا چاہیے، کسی حکومت کا نہیں۔” انہوں نے قانون کو محض دفعات کی زبان میں نہیں پڑھا بلکہ اسے ضمیر کی روشنی میں پرکھا۔ عدالت میں بیٹھے وہ ایسے منصف، تھے جو وقت کے آمروں کو آئینہ دکھاتے تھے ، ان کی زبان میں شگفتگی تھی اور قلم میں وقار، معاشرتی سچائی کو عدالت کے کٹہرے میں لا کھڑا کرتے ان کے فیصلے گہرے فہم و فراست کے مظہر تھے اور ان کی تحریریں ایک بیدار ذہن کی آواز، ان کے اندازِ بیان میں ایک شگفتہ مزاح بھی۔ وہ مزاح جس کی جڑیں سنجیدگی میں پیوست ہوتی ہیں۔ ان کی تحریریں صرف نکتہ نظر نہیں، بصیرت کے چراغ ہیں آج بھی اہلِ نظر کے لیے آئینے کی حیثیت رکھتا ہے — ایسا آئینہ جس میں ہم صرف معاشرے کا نہیں، اپنا چہرہ بھی دیکھ سکتے ہیں -افکار پریشاں ایم آر کیانی کی خود نوشت ہے۔ یہ کتاب ان کی ان تقاریر کا مجموعہ ہے جو انہوں نے مغربی پاکستان کے مختلف مقامات پر کیں۔ اس میں کچھ مضحکہ خیز مضامین ہیں جو ان کے مزاح کی عکاسی کرتے ہیں۔ انھوں نے پاکستان میں آمریت کے خلاف اپنے تصور کو مناسب طریقے سے بیان کیا ہے۔ یہ ان کے خیالات کا ایک ایسا مزاحیہ مجموعہ ہے جس نے انہیں شہرت تک پہنچایا. ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ریٹائرمنٹ پر سرکاری قلم کی سیاہی خود خالی کر دی۔
کہا:
“یہ سیاہی سرکار کی امانت ہے۔ میں اب اس کا حق دار نہیں۔”
جسٹس رستم کیانی کا یہ واقعہ تاریخ کے ان اوراق پر رقم ہے جہاں عدل اور قیادت ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے کھڑے نظر آتے ہیں۔
1960کا ذکرہے جسٹس رستم کیانی چیف جسٹس مغربی پاکستان ہائی کورٹ لاہور کے جج کی حیثیت سے لاہور میں تھے بے یقینی کی فضا تھی۔ حکومت نے عید کا اعلان کر دیا، مگر مقامی علما نے اسے ماننے سے انکار کر دیاتھا۔
عوام عید گاہوں کی طرف رواں تھے، مگر پیش امام دستبردار تھے۔ مذہبی اختلاف، انتشار کی فضا اور لوگوں کی آنکھوں میں حیرت کے سائے تھے۔
ایسے میں، پنجاب یونیورسٹی کی گراؤنڈ میں چیف جسٹس مغربی پاکستان، محمد رستم کیانی پہنچے۔
لوگوں نے انہیں بتایا کہ پیش امام صاحب نماز پڑھانے سے انکار کر رہے ہیں۔
کیانی صاحب آگے بڑھے، جائے نماز پر کھڑے ہو گئے اور اعلان کیا:
“صفیں باندھ لیجیے، میں عید کی نماز پڑھاتا ہوں۔”
انہوں نے نہ صرف نماز پڑھائی بلکہ خطبہ بھی دیا — سنجیدہ، مدلل، اور باوقار۔
یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا موقع تھا کہ ایک چیف جسٹس نے ریاستی انتشار اور مذہبی جمود کے بیچ کھڑے ہو کر قیادت سنبھالی — نہ اقتدار کے لیے، نہ شہرت کے لیے، صرف عوام کے اتحاد اور شعور کے لیے ۔جسٹس ایم آر کیانی کا وجود، پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسے کردار کی یادگار ہے جو کتابوں میں کم، اور دلوں میں زیادہ زندہ ہے۔
• وہ جج تھے، مگر صرف قانون کے نہیں، اقدار کے بھی جج۔
• وہ امام بنے، مگر صرف نماز کے نہیں، اجتماعیت کے بھی امام۔
• انہوں نے قلم چھوڑا، مگر ضمیر کی روشنائی سے ہمیشہ لکھتے رہے۔
آج جب ہمیں اصول، دیانت اور قیادت کے چراغ بجھتے دکھائی دیتے ہیں، تو جسٹس کیانی کی شخصیت ایک جگنو کی مانند یاد آتی ہے، جو اندھیرے میں نہ صرف خود جلتا ہے، بلکہ دوسروں کے لیے راستہ بھی بناتا ہے ۔ جسٹس محمد رستم کیانی 15 نومبر 1962ء کو اس دنیا سے رخصت ہوئے، مگر ان کی روشن فکر، جرات مندانہ فیصلے، اور اصولوں سے جڑی زندگی آج بھی زندہ ہے۔ ان کا انتقال ایک ایسے عہد کا خاتمہ تھا جس میں قلم، ضمیر کا ترجمان تھا اور منصب، خدمت کی ذمہ داری۔
وہ چلے گئے، مگر اپنے پیچھے عدل، دیانت، اور علم کا ایک ایسا چراغ چھوڑ گئے جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کی وفات محض ایک فرد کا جانا نہیں، ایک تحریک، ایک نظریے اور ایک عظیم کردار کا چلا جاناہے

