شامِ غریباں 1926-2026:
: شامِ غریباں - 100 سال کے اعداد*
شروع: 10 محرم 1926، امام بارگاہ غفرانِ معاب، چوک لکھنؤ
نام دینے والے: سید دلدار علی "منے آغا راز اجتہادی"
تین نسلیں منبر پر: مولانا کلبے حسین "کبّن صاحب" 1927-1963 →
مولانا کلبے عابد 1963-2002 → مولانا کلبے جواد 2002-حال
علامتیں: مٹی کا فرش، موم بتیاں، خالی مٹکے، موٹی روٹیاں
عالمی رسائی: ریڈیو 1930 سے، آج 70+ ممالک میں
اصول: زیرو بجٹ | فری انٹری | کوئی VIP نہیں | سب مٹی پر برابر
1. نام کے پیچھے ایک صدی کا نوحہ
"مجلِسِ شامِ غریباں" - تین لفظ، ایک پوری تاریخ۔
'مجلِس' یعنی جب درد بانٹنے کے لیے لوگ اکٹھے ہو جائیں۔ 'شام' یعنی وہ وقت جب اجالے ڈھل جاتے ہیں۔ اور 'غریب'؟ عربی، فارسی، اردو میں غریب صرف مفلس نہیں ہوتا۔ غریب وہ ہے جو اجنبی ہو، جس کی چھت چھین لی گئی ہو، جس کا سامان لوٹ لیا گیا ہو، جو سرپرست سے محروم ہو گیا ہو۔ کربلا کا مطلب بھی تو "غم + بلا" ہی ہے۔
10 محرم 61 ہجری، 680 عیسوی کی وہ شام جب فرات کے کنارے صرف عورتیں، بچے اور ایک بیمار امام بچے تھے۔ آج، 100 سال بعد، 1926 میں لکھنؤ کے امام بارگاہ غفرانِ معاب سے اٹھنے والی یہ آواز دنیا کے ہر امام بارگاہ، ہر گھر، ہر دل میں گونجتی ہے۔
2. کربلا کی وہ شام: تفصیل جو روح ہلا دیتی ہے
مدینہ سے نکلے تو 72 ساتھی تھے۔ بنی ہاشم کے 18، انصار کے 40، موالی اور غلام 14۔ سب سے چھوٹے 6 ماہ کے علی اصغرؑ، سب سے بڑے 75 سالہ حبیب بن مظاہر۔ 7 محرم کو عمر بن سعد نے حکم دیا: "فرات پر پہرہ بٹھا دو"۔ تین دن۔ تین راتیں۔ ایک قطرہ پانی نہیں۔
10 محرم کی دوپہر۔ شدید گرمی۔ تلواریں اٹھیں۔ عصر تک میدان خالی ہو گیا۔ حسینؑ بھی۔ عباسؑ بھی۔ علی اکبرؑ بھی۔ قاسمؑ بھی۔ مردانہ نسل ختم۔ خیموں کو آگ لگا دی گئی۔ زیور، چادریں، حتیٰ کہ بچوں کے بازو بند تک لوٹ لیے گئے۔
پھر شام ہوئی۔ وہ شام جس کا سورج کربلا پر کبھی نہیں ڈھلا۔ خواتین نے جلے خیموں کے ستون پکڑے۔ بچے بھوک سے بلک رہے تھے۔ امام زین العابدینؑ بیماری کی حالت میں زنجیروں میں جکڑے تھے۔ نہ چھت، نہ چراغ، نہ محافظ۔ صرف آسمان تھا اور لاشیں تھیں۔ تاریخ کی سب سے کربناک "شامِ غربت"۔
3. صبر کی شام: زینبؑ کا کردار
شامِ غریباں دراصل صبر کی مجلس ہے۔ جب خیمے جل رہے تھے، دشمن طعنہ دے رہا تھا، بچے بھوک سے بلک رہے تھے، حضرت زینبؑ نے جلے خیموں کے سائے میں بہنوں اور بھتیجیوں کو سمیٹا اور فرمایا: "ما رأیتُ الّا جمیلا" - میں نے تو سوائے خوبصورتی کے کچھ نہیں دیکھا۔
وہی زینبؑ جس نے اگلے دن کوفہ کے دربار میں کھڑے ہو کر یزید کو لرزا دیا۔ آج بھی ہر عورت جو شامِ غریباں میں شریک ہوتی ہے، وہ زینبؑ کا وہی صبر ادھار لیتی ہے۔ اسی لیے مجلس میں بچوں کو آگے بٹھایا جاتا ہے۔ ان کے ہاتھ میں موم بتی دی جاتی ہے تاکہ وہ محسوس کریں کہ 680 عیسوی کی اس رات کربلا کے یتیم بچے کتنے ڈرے ہوئے تھے۔ یہ یتیموں کی شام ہے۔
4. لکھنؤ 1926: ایک غیر رسمی بیٹھک سے عالمی روایت تک
10 محرم 1926۔ نمازِ مغرب کے بعد چوک، لکھنؤ۔ امام بارگاہ غفرانِ معاب میں چند لوگ تھکے ہارے بیٹھے تھے۔ دن بھر کی مجالس، جلوس، مرثیے۔ کسی نے کہا: "چلو، آج رات کربلا کی شام کا ذکر کرتے ہیں"۔
وہاں موجود تھے عرب عالم محمد صالح اور سینئر عالم سید سبت محمد ہادی المعروف "کلن صاحب"۔ کلن صاحب نے جب کربلا کی شام کا بیان شروع کیا تو ماحول بدل گیا۔ آنسو رک نہیں رہے تھے۔ مجلس ختم ہوئی تو سید دلدار علی المعروف "منے آغا راز اجتہادی" کھڑے ہوئے۔ اپنی یادداشتوں "مجلِسِ شامِ غریباں کی ابتداء اور تدریجی ترقی" میں وہ لکھتے ہیں: "میں نے عرض کیا، اگلے سال سے اسے 'شامِ غریباں' کا نام دے دیں"۔
انہیں کیا معلوم تھا کہ ان کے دیے ہوئے دو لفظ ایک صدی بعد دنیا کا نقشہ بدل دیں گے۔ 1927 سے یہ باقاعدہ مجلس بن گئی۔ مولانا کلبے حسین "کبّن صاحب" 1963 تک خطاب کرتے رہے۔ پھر بیٹے مولانا کلبے عابد، اور آج پوتے مولانا کلبے جواد۔ تین نسلیں، ایک منبر، ایک پیغام۔ ایک لاکھ سے زیادہ لوگ، ننگے پاؤں، مٹی کے فرش پر، اندھیرے میں۔ مقرر کی آواز اتنی بلند کہ نوحہ یک زبان ہو جائے۔
4A. 1926 سے پہلے: "شامِ غریباں" کا تصور تھا، نام نہیں
1926 سے پہلے بھی محرم کی 10ویں رات کو کربلا کی شام کا ذکر ہوتا تھا، مگر اسے کوئی مخصوص نام نہیں تھا۔ لکھنؤ میں اسے "رات کی مجلس" یا "دسویں کی رات" کہا جاتا تھا۔
دلی، حیدرآباد، عراق، ایران میں بھی یہ روایت صدیوں پرانی ہے۔ مگر ہر جگہ الگ انداز۔ لکھنؤ کا کمال یہ تھا کہ سید دلدار علی "منے آغا راز" نے اسے "شامِ غریباں" کا نام دے کر ایک برانڈ بنا دیا۔ نام ملتے ہی روایت نے رفتار پکڑ لی۔ جیسے "کرسمس" کو نام ملنے کے بعد وہ عالمی تہوار بن گیا۔
4B. برطانوی دور کی رکاوٹیں اور خاموش بغاوت
1926 وہ دور تھا جب انگریز حکومت جلوسوں اور مجالس پر سخت پابندیاں لگا رہی تھی۔ فرقہ وارانہ فسادات کے ڈر سے لاؤڈ اسپیکر، جلوس کے روٹ، نوحے کے الفاظ تک سنسر ہوتے تھے۔
اس ماحول میں غفرانِ معاب کی یہ غیر رسمی بیٹھک دراصل ایک خاموش بغاوت تھی۔ بغیر اجازت، بغیر اعلان، بغیر چندے کے۔ مٹی پر بیٹھ کر، موم بتی جلا کر لوگوں نے ثابت کیا کہ درد کو حکومت روک نہیں سکتی۔ 1930 میں جب آل انڈیا ریڈیو نے اسے نشر کیا تو یہ برطانوی سنسرشپ کی پہلی بڑی شکست تھی۔
4C. 1947 کی تقسیم: لکھنؤ سے کراچی تک ہجرت
تقسیم کے وقت اودھ کے ہزاروں شیعہ خاندان اپنا سب کچھ چھوڑ کراچی آئے۔ ساتھ میں صرف دو چیزیں لائے: قرآن اور "شامِ غریباں"۔
1950 میں کراچی کے نشتر پارک میں پہلی شامِ غریباں ہوئی۔ مولانا راشد ترابی نے وہی لکھنؤ والا لہجہ، وہی مرثیہ، وہی "شہ… شہ…" کی صدا شروع کی۔ مہاجرین رو پڑے کیونکہ لگا لکھنؤ کا غفرانِ معاب کراچی آ گیا۔ آج کراچی، لاہور، حیدرآباد کی شامِ غریباں دراصل لکھنؤ 1926 کی کاپی ہے۔ اصل ماسٹر کاپی آج بھی چوک لکھنؤ میں ہے۔
5. لکھنؤ کی مٹی: 100 سال پرانی خوشبو
لکھنؤ کی شامِ غریباں کی 3 انوکھی باتیں دنیا میں کہیں نہیں ملتیں:
- مٹی کا فرش: مجلس کے لیے فرش پر خاص مٹی بچھائی جاتی ہے تاکہ لوگ ننگے پاؤں بیٹھیں۔ یہ کربلا کی خاک کی یاد ہے۔ مجلس کے بعد لوگ یہ مٹی آنکھوں سے لگاتے ہیں، کیونکہ کہا جاتا ہے اس میں کربلا کی خوشبو ہے۔
- چراغ بجھانا: مجلس کے عروج پر تمام چراغ بجھا دیے جاتے ہیں۔ صرف موم بتیاں رہ جاتی ہیں۔ یہ اس اندھیرے کی علامت ہے جو 10 محرم کی شام کربلا پر چھا گیا تھا۔
- "شہ" کی صدا: مجلس کے اختتام پر "شہید حسینؑ" کے لیے "شہ… شہ…" کی صدا بلند ہوتی ہے۔ ماتم کی یہ مخصوص لے صرف لکھنؤ کی دین ہے۔
لکھنؤ کو "شیعہ کلچر کا پاریس" یونہی نہیں کہا جاتا۔ نواب آصف الدولہ 1784 میں دارالحکومت فیض آباد سے لکھنؤ لائے۔ تب سے یہاں مرثیہ گوئی، نوحہ خوانی، تعزیہ داری عروج پر ہے۔ غفرانِ معاب کا فرش، وہی مٹی، وہی دیواریں… 100 سال سے گواہ ہیں۔
6. ادب کا عروج: مرثیہ جس نے درد کو لفظ دیا
شامِ غریباں لکھنؤ کی مرثیہ گوئی کا عروج ہے۔ میر انیس، میر دبیر، مصحفی، آتش… سب نے کربلا کی شام پر کلام لکھا۔ "شہیدوں کی یہ شام" والا مرثیہ آج بھی مجلس کے عروج پر پڑھا جاتا ہے۔
میر انیس کا شعر ہے:
"شامِ غریباں ہے، نہ چراغ ہے نہ ساقی بس یادِ حسینؑ ہے"
یہی لکھنؤ کا کمال ہے کہ اس نے کربلا کے خون کو سیاہی بنایا اور درد کو ادب کا درجہ دیا۔ شامِ غریباں بغیر مرثیے کے ادھوری ہے۔
7. سب برابر: طبقاتی نظام پر کربلا کا وار
شامِ غریباں میں 100 سال سے ایک اصول قائم ہے: کوئی کرسی نہیں، کوئی VIP گیٹ نہیں، کوئی فرق نہیں۔
نواب بھی مٹی پر بیٹھتا ہے، مزدور بھی۔ وزیر بھی ننگے پاؤں آتا ہے، بھکاری بھی۔
1926 سے آج تک غفرانِ معاب میں شاہ اور گدا ایک صف میں بیٹھتے ہیں۔ یہ حسینؑ کا پیغام ہے کہ کربلا میں بھی تاج و تخت نہیں تھا، صرف انسانیت تھی۔ جب یزید کا محل تھا، حسینؑ کے پاس خیمہ بھی نہیں تھا۔ شامِ غریباں طبقاتی نظام کے خلاف سب سے پرانا احتجاج ہے۔
8. بچوں کی پہلی درسگاہ
شامِ غریباں نئی نسل کی تربیت گاہ ہے۔ 5 سال کا بچہ بھی ماں کا ہاتھ پکڑ کر موم بتی لے کر بیٹھتا ہے۔ اسے کوئی کتاب نہیں پڑھائی جاتی، کوئی لیکچر نہیں دیا جاتا۔ بس کہا جاتا ہے: "بیٹا، یہ اندھیرا اس لیے ہے تاکہ تم روشنی کی قدر کرو۔ یہ مٹی اس لیے ہے تاکہ تم عاجزی سیکھو۔ یہ مٹکے اس لیے ہیں تاکہ تم دوسروں کی پیاس سمجھو"۔
100 سال سے لکھنؤ کے والدین اپنے بچوں کو اس مجلس میں لا رہے ہیں۔ یہ ان کی پہلی تاریخ، پہلی اخلاقیات، پہلی انسانیت کی کلاس ہے۔ بغیر بلیک بورڈ کے، صرف موم بتی اور مٹی سے۔
9. علامتیں: ہر چیز ایک داستان کہتی ہے
شامِ غریباں کی مجلس میں اسٹیج نہیں ہوتا، کرسیاں نہیں ہوتیں۔ کیوں؟ کیونکہ کربلا میں بھی کوئی کرسی نہیں تھی۔
موم بتیاں: شام کے بعد کربلا پر جو اندھیرا چھایا تھا، اس کی علامت۔ ہر موم بتی ایک شہید۔
مٹی کے مٹکے: 7 محرم سے بند فرات کی یاد۔ آج بھی خالی مٹکے مجلس کے گرد گھومتے ہیں۔
موٹے اناج کی روٹیاں: زوجہِ حر کی یاد۔ یزید کی فوج کا وہ کمانڈر جو فیصلہ کن لمحے میں حسینؑ کے لشکر میں شامل ہو گیا اور انصاف کے لیے شہید ہوا۔ اس نے بچوں کے لیے روٹی کا انتظام کیا تھا۔
10. لکھنؤ سے کراچی سے دنیا تک: درد کی کوئی سرحد نہیں
1930 کی دہائی۔ مہاراج کمار محمد حسن خان محمودآباد اور شاعر فضل نقوی نے جدوجہد کی۔ آل انڈیا ریڈیو نے رات 10:30 بجے شامِ غریباں کی لائیو ریکارڈنگ نشر کرنا شروع کی۔ برصغیر کے کونے کونے میں لوگ ریڈیو سے چپک جاتے۔ یہ مذہبی اجتماعات میں لاؤڈ اسپیکر کے ابتدائی استعمال میں سے تھا۔
1947 میں تقسیم ہوئی۔ اودھ کے مہاجر اپنا لکھنؤ دل میں لے کراچی آ گئے۔ نشتر پارک میں شامِ غریباں کی نقل ہوئی۔ عالمِ دین راشد ترابی نے لکھنؤ کے لہجے میں مجلس پڑھی۔ 1951 سے ریڈیو پاکستان آج تک نشر کر رہا ہے۔
آج 2026 میں، 100 سال بعد، شامِ غریباں صرف اردو میں نہیں رہی۔ ایران میں فارسی، عراق میں عربی، ترکی میں ترکی، امریکہ برطانیہ میں انگریزی۔ 70+ ممالک، ہزاروں شہر، لاکھوں مجلسیں… زبان بدل گئی، درد نہیں بدلا۔ لکھنؤ نے ایک لفظ دیا "شامِ غریباں"، دنیا نے 100 زبانیں دے دیں۔ درد کی زبان ایک ہی ہوتی ہے۔
11. اجتماعی سوگ کی تھراپی: سائنس بھی مانتی ہے
نفسیات دان کہتے ہیں کہ جب ایک لاکھ لوگ ایک ساتھ روتے ہیں تو انفرادی غم ہلکا ہو جاتا ہے۔ اسے "کیتھارسس" کہتے ہیں - یعنی جذباتی صفائی۔
شامِ غریباں 100 سال سے لکھنؤ کی ایجاد کردہ سب سے بڑی مینٹل ہیلتھ پریکٹس ہے۔ مٹی پر بیٹھو، موم بتی جلاؤ، مرثیہ سنو، رو لو… اور دل ہلکا ہو جائے۔ 1926 سے آج تک لاکھوں لوگ یہاں سے رونے کے بعد پرسکون ہو کر گئے ہیں۔ یہ صرف مذہب نہیں، ہیومن سائیکالوجی ہے۔
12. بغیر بجٹ کی عظیم روایت: سادگی کا سبق
شامِ غریباں دنیا کی واحد بڑی مذہبی تقریب ہے جس کا کوئی بجٹ نہیں، کوئی ٹکٹ نہیں، کوئی چندہ نہیں مانگا جاتا۔ موم بتی، مٹی، پانی… بس۔
100 سال میں نہ اسٹیج بنا، نہ ایئرکنڈیشن لگا، نہ LED اسکرین، نہ VIP پاس۔ لاکھوں کا اجتماع، زیرو خرچہ۔ یہ حسینؑ کی سادگی کا عملی مظاہرہ ہے۔ جب دنیا ایونٹ مینجمنٹ پر کروڑوں لگا رہی ہے، شامِ غریباں سکھاتی ہے کہ اصل عظمت سادگی میں ہے۔ یزید کے پاس خزانے تھے، حسینؑ کے پاس خیمہ بھی نہیں تھا۔ پھر بھی تاریخ حسینؑ کے ساتھ ہے۔
13. اگلے 100 سال: درد امر ہے
1926 میں لوگوں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ روایت 2026 تک پہنچے گی۔ اب سوال ہے: 2126 میں کیسی ہو گی؟
100 سال پہلے ریڈیو تھا، آج یوٹیوب لائیو ہے۔ 100 سال بعد شاید ورچوئل رئیلٹی ہو، AI مرثیہ پڑھے۔ مگر مٹی وہی رہے گی، موم بتی وہی رہے گی، ننگے پاؤں وہی رہیں گے۔ کیونکہ ٹیکنالوجی بدل سکتی ہے، کربلا کا درد نہیں بدل سکتا۔
دادا نے ریڈیو پر سنا، بیٹے نے ٹی وی پر، پوتا آج موبائل پر دیکھ رہا ہے، پڑپوتا شاید ہولوگرام سے دیکھے گا۔ فارمیٹ بدلے گا، فاؤنڈیشن نہیں بدلے گی۔
14. 100 سال بعد بھی وہی شام
نہ کوئی اسٹیج، نہ کوئی روشنی۔ لوگ ننگے پاؤں مٹی پر بیٹھتے ہیں۔ موم بتیاں جلتی ہیں۔ مٹکے گھومتے ہیں۔ اور ایک صدی پرانا نوحہ بلند ہوتا ہے: "وا حسیناؑ، وا غریباؑ"۔
کیونکہ شامِ غریباں صرف ایک مجلس نہیں۔ یہ یاد دہانی ہے کہ جب حق کے سامنے باطل کھڑا ہو، جب ذلت کے سامنے عزت کا سودا ہو، تو حسینؑ کی طرح سر دینا پڑے تو دے دو، مگر سر جھکانا نہیں۔ یہ مظلوم کی شام ہے۔ آج فلسطین، کشمیر، یمن، ایران… جہاں بھی ظلم ہو، شامِ غریباں کا تصور زندہ ہو جاتا ہے۔
کِکر:
1926 میں ایک غیر رسمی بیٹھک نے دنیا کو سکھایا کہ عظمت کے لیے محل نہیں چاہیے، صرف سچا درد چاہیے۔ 100 سال بعد بھی شامِ غریباں ثابت کر رہی ہے کہ جب نیت حسینؑ والی ہو، تو مٹی کا فرش بھی منبر بن جاتا ہے۔
100 سال، 3 نسلیں، 70 ممالک… اور درد آج بھی اتنا ہی تازہ جتنا 680 عیسوی کی شام تھا۔
حضرت زینبؑ نے جلے خیموں کے سائے میں بہنوں اور بھتیجیوں کو سمیٹا اور جو فرمایا وہ کربلا کی حسین ترین قربانی کا خلاصہ ہے۔ وحدت پر قربان ہونے کی تلقین کو ایک جملے میں امر کر دیا:
"ما رأیتُ الّا جمیلا" - میں نے تو سوائے خوبصورتی کے کچھ نہیں دیکھا۔
ہائے زینبؑ
وا غریباؑ
تاریخ کے 2 اوراق:
- پہلی ریکارڈنگ: 1938 میں HMV گراموفون کمپنی نے مولانا کبّن صاحب کی شامِ غریباں ریکارڈ کی۔ وہ ریکارڈ آج بھی لکھنؤ کے ایک خاندان کے پاس محفوظ ہے۔
- غیر مسلم شراکت: 1952 میں لکھنؤ کے ہندو زمیندار راجہ مہیشور دت نے غفرانِ معاب کی مٹی کا انتظام اپنے خرچے پر کیا۔ کہا کرتے تھے "یہ مٹی صرف شیعہ کی نہیں، انسانیت کی ہے"۔




