یہ سچ اب کھل کر سامنے آ چکا ہے کہ سندھ میں سفارش، پیسے اور سیاسی اثر و رسوخ کے ہاتھوں میرٹ کا جنازہ نکل چکا ہے۔ حال ہی میں 2024 کے سی سی ای (Combined Competitive Examination) کے نتائج سامنے آنے کے بعد اقربا پروری، رشوت اور کرپشن کے الزامات پورے ملک میں گونجنے لگے ہیں۔ کمیشن کے چیئرمین محمد وسیم پر نام لے کر نااہلی اور رشوت کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ ادارے کی جانب سے ایسی باتیں کرنے والوں پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت ایف آئی آرز بھی درج کی گئی ہیں، جن میں امریکہ میں موجود صحافی امتیاز چانڈیو، فیاض حسین شر، رفیع اللہ سمیت دیگر شامل ہیں۔ اس سے پہلے سینئر صحافی امداد سومرو پر بھی اسی ادارے کی جانب سے مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔
ایک جمہوری دور میں صحافیوں پر دہشت گردی کے مقدمات قائم کر کے انہیں خاموش کرانے کے بجائے سندھ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کے سامنے خود کو صاف اور شفاف ثابت کرے۔ البتہ جہاں سرکاری طاقت اور پیسے کا زور پورے سندھ میں خاموشی طاری کرنے میں کامیاب ہو چکا ہو، وہاں ایسی زحمت اٹھانے کی بھلا کیا ضرورت!
یہاں ایک بات واضح کرتا چلوں کہ میرٹ کے قتل کا معاملہ صرف موجودہ دور تک محدود نہیں۔ یہ ایک پرانا ناسور ہے۔ اگر ہم اس مسئلے کو صرف چند افراد کی اخلاقی گراوٹ اور بدعنوانی سمجھیں تو یہ ہماری سادہ لوحی ہوگی۔ اصل مسئلہ اس نظام کا ہے، جہاں صوبائی کمیشن کے چیئرمین اور اراکین کا انتخاب ہی میرٹ پر نہیں ہوتا۔ ایسے لوگوں کی تقرری سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اصل ارادے کیا ہیں۔
یہ صرف باتیں نہیں ہیں۔ محسوس ہوتا ہے کہ ایک منصوبہ بندی کے تحت سندھ میں نااہلی، اقربا پروری اور رشوت کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں سندھ میں گورننس نام کی کوئی چیز باقی نہ رہے۔ سندھ پبلک سروس کمیشن کے سابق سربراہ ریٹائرڈ جسٹس آغا رفیق کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ ان پر حکومت کی جانب سے دباؤ تھا کہ من پسند امیدواروں کو نوکریاں دی جائیں۔ جب انہوں نے انکار کیا تو صوبائی حکومت اور اسمبلی نے ان کی پانچ سالہ مدت کم کر کے دو سال کرنے کی باتیں شروع کر دیں۔ جسٹس صاحب نے استعفیٰ دے کر جان چھڑائی۔ ایسے نظام سے کوئی ایک فرد تنہا نہیں لڑ سکتا۔
موجودہ چیئرمین محمد وسیم کے ساتھ بالواسطہ طور پر میرا بھی کام رہا ہے۔ میں ورلڈ بینک کے ایک اہم منصوبے میں کنسلٹنٹ تھا، اُس وقت وہ پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین تھے۔ کئی اجلاسوں میں انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ میں قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وسیم صاحب سے زیادہ “اوپر سے آنے والے احکامات اور سفارشات” پر تیزی سے عمل شاید ہی کوئی کرتا ہو۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انہیں ہمیشہ اہم اور فائدہ مند عہدے ملتے رہتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اس “نظام” کو چلانے کے لیے وسیم صاحب جیسے ہی لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں 2003 کا ایک واقعہ بھی سن لیجیے تاکہ اندازہ ہو سکے کہ میرٹ کے نام پر کیسے کھیل کھیلے جاتے رہے ہیں۔ 2003 میں بھی یہی سی سی ای امتحان ہوا تھا۔ 75 امیدوار کامیاب قرار دیے گئے۔ اُس وقت چیئرمین محمد حسین بھٹو تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا بیٹا بھی کامیاب ہوا تھا۔ موجودہ صورتحال کی طرح اُس وقت بھی اقربا پروری، رشوت اور سفارش کے الزامات لگے۔ معاملہ عدالت تک پہنچا اور نیب بھی متحرک ہوئی۔ 2008 میں کیس دائر ہوا۔ عدالت کے حکم پر 2020 میں انکوائری کمیٹی بنائی گئی۔
تحقیقات میں ثابت ہوا کہ امتحان کے نتائج میں رد و بدل کیا گیا تھا۔ کامیاب امیدواروں کی جوابی کاپیاں غائب کر دی گئی تھیں۔ چونکہ کیس کو بہت زیادہ وقت گزر چکا تھا، اس لیے کمیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ آئینی طور پر وہ اتنے عرصے تک ریکارڈ محفوظ رکھنے کے پابند نہیں۔ تاہم تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ 75 کامیاب امیدواروں میں سے 34 واقعی میرٹ پر تھے کیونکہ انہوں نے وفاقی سی ایس ایس امتحان بھی پاس کیا تھا، جن میں موجودہ بورڈ آف ریونیو کے سیکریٹری سیف اللہ ابڑو بھی شامل ہیں۔
آخرکار نتیجہ یہ نکلا کہ جن لوگوں نے درخواستیں دائر کی تھیں، انہیں نہ نوکری ملی اور نہ ہی کسی اور شکل میں ریلیف ملا۔ ان کی برسوں کی جدوجہد رائیگاں گئی۔ امتحانات میں بے ضابطگیاں ثابت ہونے کے باوجود کسی کو سزا نہ ملی۔ وہی نااہل افسر ترقی کرتے کرتے اٹھارہویں، انیسویں اور بیسویں گریڈ تک جا پہنچے۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ بیماری بہت پرانی ہے۔ ماضی میں شاید چالیس فیصد میرٹ اور ساٹھ فیصد سفارشی بھرتیاں ہوتی تھیں، مگر اب لگتا ہے کہ میرٹ صرف دس فیصد رہ گئی ہے۔ کیونکہ کمیشن کے ایک سابق رکن، جو حال ہی میں ریٹائر ہوئے ہیں، کو میں نے خود یہ کہتے سنا کہ: “تحریری امتحان میں کامیاب کوئی اور ہوتے تھے، لیکن ہم انٹرویو میں اوپر سے آنے والی فہرستوں والے امیدواروں کو کامیاب کر دیتے تھے۔”
ایک اور حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ اس گندگی میں متعلقہ اداروں کے مختلف لوگ شامل ہیں، جن میں میڈیا، عدلیہ، وکلا، حتیٰ کہ بعض وفاقی ادارے بھی شامل ہیں۔ اس لیے یہ مسئلہ صرف چند سربراہان کو ہٹانے سے حل نہیں ہوگا۔ سب سے پہلے ہمیں خود کو بدلنا ہوگا۔ وہ لوگ جو عوامی سطح پر میرٹ کی بات کرتے ہیں، لیکن نجی طور پر پیسہ، سفارش اور ہر حربہ استعمال کرنے کو تیار رہتے ہیں، دراصل اسی نظام کو مضبوط کرتے ہیں۔ یہی اخلاقی دوغلا پن (Dual Morality) اس مسئلے کی اصل جڑ ہے۔
