تائیوان کا مسئلہ موجودہ عالمی سیاست کے پیچیدہ ترین تنازعات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ صرف ایک جزیرے کی حیثیت کا سوال نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان اثر و رسوخ، جغرافیائی سیاست اور عالمی نظام کے مستقبل سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ چین اور تائیوان کے درمیان جاری کشیدگی نے نہ صرف مشرقی ایشیا بلکہ پوری دنیا کے امن و استحکام کو متاثر کرنے کی صلاحیت پیدا کر دی ہے۔ ایسے میں پاکستان کا مؤقف واضح، اصولی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق سمجھا جاتا ہے، جو تائیوان کو عوامی جمہوریہ چین کا اٹوٹ حصہ قرار دیتا ہے۔
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو تائیوان ہمیشہ چین کے سیاسی و تہذیبی دائرے کا حصہ رہا ہے۔ البتہ 1895ء میں پہلی چین-جاپان جنگ کے نتیجے میں جاپان نے اس جزیرے پر قبضہ کر لیا اور تقریباً پچاس برس تک وہاں حکمرانی کی۔ دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر جاپان کی شکست کے بعد تائیوان دوبارہ چین کے حوالے کر دیا گیا۔ بعد ازاں 1949ء میں چینی خانہ جنگی کے دوران کمیونسٹ انقلاب کامیاب ہوا اور ماؤ زے تنگ کی قیادت میں عوامی جمہوریہ چین قائم ہو گئی، جبکہ چیانگ کائی شیک کی نیشنلسٹ حکومت تائیوان منتقل ہو گئی۔ اسی تاریخی پس منظر نے آج کے تنازعے کو جنم دیا۔
چین کا مؤقف یہ ہے کہ تائیوان دراصل اس کا ایک منحرف صوبہ ہے جو عارضی سیاسی حالات کی وجہ سے مرکزی حکومت سے الگ ہو گیا، جبکہ تائیوان کے بعض سیاسی حلقے خود کو ایک خودمختار ریاست تصور کرتے ہیں۔ تاہم بین الاقوامی سطح پر اکثریت ممالک نے “ایک چین پالیسی” کو تسلیم کیا ہے جس کے تحت بیجنگ کو چین کی واحد قانونی حکومت مانا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ اور بیشتر عالمی ادارے تائیوان کو ایک علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتے۔
امریکہ کی پالیسی اس معاملے میں بظاہر متوازن مگر عملی طور پر متضاد دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف واشنگٹن “ایک چین پالیسی” کو تسلیم کرتا ہے اور باضابطہ سفارتی تعلقات بیجنگ کے ساتھ رکھتا ہے، دوسری طرف وہ تائیوان کو دفاعی سازوسامان فراہم کرتا ہے اور اس کے ساتھ غیر رسمی تعلقات کو فروغ دیتا ہے۔ یہی دوہرا معیار خطے میں کشیدگی کو بڑھانے کا سبب بن رہا ہے۔ چین اس عمل کو اپنی خودمختاری میں مداخلت سمجھتا ہے اور اسے خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔
گزشتہ برسوں میں امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت نے تائیوان کے مسئلے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ امریکی سیاسی قیادت کی جانب سے تائیوان کے ساتھ روابط میں اضافہ، اعلیٰ سطحی وفود کے دورے اور دفاعی معاہدوں نے بیجنگ کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ چین بارہا واضح کر چکا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ اس تناظر میں عالمی طاقتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ایشیا میں کسی بھی فوجی تصادم کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت اور امن کے لیے سنگین خطرات پیدا کریں گے۔
پاکستان کا مؤقف اس معاملے میں نہایت واضح اور مستقل رہا ہے۔ پاکستان عوامی جمہوریہ چین کو چین کی واحد قانونی حکومت تسلیم کرتا ہے اور تائیوان کو اس کا ناقابلِ تقسیم حصہ قرار دیتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ چین کی علاقائی سالمیت اور قومی اتحاد کی حمایت کی ہے۔ یہ مؤقف صرف سفارتی مفادات کی بنیاد پر نہیں بلکہ بین الاقوامی اصولوں، ریاستی خودمختاری اور علاقائی استحکام کے تقاضوں کے مطابق بھی ہے۔ چین اور پاکستان کے درمیان گہری اسٹریٹجک شراکت داری اور اعتماد اسی اصولی ہم آہنگی کا نتیجہ ہے۔
اس تناظر میں عالمی طاقتوں خصوصاً امریکہ کو چاہیے کہ وہ طاقت کی سیاست کے بجائے ذمہ دارانہ سفارت کاری کا راستہ اختیار کرے۔ اگر امریکی قیادت واقعی عالمی امن کے قیام کی خواہاں ہے تو اسے چین اور تائیوان کے مسئلے کو کشیدگی کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ دنیا پہلے ہی مختلف تنازعات اور جنگوں سے دوچار ہے، لہٰذا ایک نئے محاذ کی گنجائش باقی نہیں رہی۔
حقیقت یہ ہے کہ ایشیا کا مستقبل تصادم کے بجائے تعاون میں پوشیدہ ہے۔ چین ایک بڑی اقتصادی اور سیاسی طاقت کے طور پر ابھر چکا ہے اور اس کے ساتھ محاذ آرائی عالمی نظام کو مزید عدم استحکام کی طرف لے جا سکتی ہے۔ لہٰذا عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ “ایک چین پالیسی” کے اصول کو تسلیم کرتے ہوئے ایسے اقدامات سے گریز کرے جو خطے میں تناؤ کو بڑھائیں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ تائیوان کا مسئلہ صرف چین کا داخلی معاملہ نہیں بلکہ عالمی سیاست کا ایک اہم امتحان بھی ہے۔ اگر عالمی طاقتیں دانشمندی اور انصاف کے ساتھ اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں تو نہ صرف مشرقی ایشیا بلکہ پوری دنیا میں امن اور استحکام کو فروغ مل سکتا ہے۔ پاکستان کا مؤقف اسی اصولی سوچ کا مظہر ہے جو چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کے ساتھ ساتھ عالمی امن کے قیام کی خواہش بھی رکھتا ہے
چین، تائیوان اور عالمی امن کا سوال
تائیوان کا مسئلہ موجودہ عالمی سیاست کے پیچیدہ ترین تنازعات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ صرف ایک جزیرے کی حیثیت کا سوال نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان اثر و رسوخ، جغرافیائی سی...
Web Desk
Web Desk
Journalist and Writer at Saya Digital — covering Pakistan's top stories, opinions, and analysis.
More Stories

ایس پی ایس سی میں مبینہ میرٹ کی پامالی کے خلاف 9 اکتوبر کو کراچی کی جانب پیدل مارچ کا اعلان
6 hr ago
اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ کی 69ویں کامن ویلتھ پارلیمانی کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں شرکت
16 September 2026
