فاروق بھائی ہمیں مسیساگا کے سِوک سینٹر لے گئے۔ جونہی ہماری گاڑی اس عظیم الشان عمارت کے سامنے پہنچی، اس کی دلکش اور منفرد طرزِ تعمیر نے پہلی ہی نظر میں اپنی جانب متوجہ کر لیا۔ عمارت کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے جدید فنِ تعمیر نے اونٹاریو کی دیہی روایت اور مقامی ثقافتی رنگ کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا ہو۔

فاروق بھائی چونکہ مسیساگا کی تاریخ اور اس کے اہم مقامات سے بخوبی واقف تھے، اس لیے انہوں نے اس عمارت کے بارے میں نہایت دلچسپ معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے بتایا کہ مسیساگا سِوک سینٹر کا باقاعدہ افتتاح 1987ء میں ہوا۔ اس سے قبل شہر کا سٹی ہال ایک نسبتاً سادہ عمارت میں قائم تھا، لیکن شہر کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور شہری ضروریات کے پیشِ نظر ایک نئے، باوقار اور منفرد شہری مرکز کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے کینیڈا کی تاریخ کا ایک انوکھے architectural competitions منعقد کیا گیا، جس میں ملک بھر سے 246 ڈیزائن پیش کیے گئے۔ بالآخر معروف ماہرینِ تعمیرات جونز اینڈ کرکلینڈ (Jones and Kirkland) کا پیش کردہ ڈیزائن کامیاب قرار پایا۔

حقیقتا اس عمارت کو غور سے دیکھا جائے تو اس کے تقریباً ہر حصے میں اونٹاریو کے روایتی دیہی ماحول کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ اس کا بلند کلاک ٹاور قدیم دیہی ونڈ مل کا منظر پیش کرتا ہے، جب کہ مرکزی عمارت کسی وسیع و عریض دیہی گودام یا Barn کا گمان دلاتی ہے۔ اس کے ساتھ موجود سلنڈر نما حصہ اناج ذخیرہ کرنے والے Silo کی یاد تازہ کرتا ہے۔ یوں روایت اور جدیدیت کا یہ حسین امتزاج اسے پوسٹ ماڈرن طرزِ تعمیر کی ایک نمایاں مثال بنا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عمارت محض ایک سرکاری دفتر نہیں بلکہ مسیساگا کے شہری منظرنامے کا ایک منفرد architectural landmark بھی محسوس ہوتی ہے۔

سِوک سینٹر کے سامنے وسیع و عریض میدان واقع ہے، جسے Celebration Square کہا جاتا ہے۔ فاروق بھائی نے بتایا کہ سال بھر یہاں مختلف تہوار، ثقافتی میلے، موسیقی کی محفلیں، عوامی تقریبات اور قومی جشن منعقد ہوتے رہتے ہیں۔ سردیوں میں یہی وسیع میدان برف کی سفید چادر اوڑھ لیتا ہے اور ایک خوب صورت آئس اسکیٹنگ رِنک میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

چند لمحوں کے لیے ہم وہیں کھڑے اس منظر کو دیکھتے رہے۔ اس وقت مجھے محسوس ہوا کہ یہ جگہ محض اینٹ، پتھر، شیشے اور فولاد سے بنی ہوئی کوئی سرکاری عمارت نہیں، بلکہ مسیساگا کے شہریوں کی اجتماعی زندگی، تہذیب، تفریح اور خوشیوں کا ایک خوب صورت آئینہ ہے۔ شفاف شیشوں پر پڑتی دھوپ، بلند کلاک ٹاور کی پرشکوہ ہیئت اور اردگرد پھیلی ہوئی سرسبز فضا نے اس مقام کے حسن کو مزید نکھار دیا تھا۔

سِوک سینٹر کی سیر نے ایک خوب صورت احساس کو جنم دیا کہ ترقی یافتہ معاشرے صرف بلند و بالا عمارتیں تعمیر نہیں کرتے بلکہ ایسے عوامی مقامات بھی تخلیق کرتے ہیں جہاں لوگ ایک دوسرے کے قریب آئیں، اپنی ثقافت اور خوشیوں کو بانٹیں اور اپنی اجتماعی شناخت کو مضبوط کریں۔

سِوک سینٹر سے نکلے تو فاروق بھائی ہمیں قریب ہی واقع Square One Shopping Centre لے گئے، جو کینیڈا کے بڑے اور معروف شاپنگ مالز میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں درجنوں برانڈز، ریٹیل آؤٹ لیٹس اور کھانے پینے کے متعدد مقامات موجود تھے۔ شام آہستہ آہستہ اپنے پر پھیلا رہی تھی اور دن بھر کی سیر کے بعد تھکن بھی محسوس ہونے لگی تھی۔ چنانچہ ہم لوگ وہاں سے نکل کرچائے پراٹھہ” نامی پاکستانی ریسٹورنٹ کی جانب روانہ ہوئے۔

اسی دوران سلیم بھائی کا فون آیا۔ ہم نے انہیں بھی وہیں آنے کی دعوت دی، مگر انہوں نے وہاں آنے کے بجائے گھر پر ملاقات کو ترجیح دی۔ریسٹورنٹ پہنچے تو پاکستانی ماحول کی جھلک نے ایک لمحے کے لیے دیارِ غیر میں وطن کی قربت کا احساس پیدا کر دیا۔ پاکستانی کڑک چائے کا آرڈر دیا گیا۔ دل میں خیال تھا کہ شاید وطن جیسی خوشبو اور ذائقہ اس کپ میں بھی محسوس ہوگا، مگر چائے ذائقے کے اعتبار سے ان توقعات پر پوری نہ اتر سکی جو اس ریسٹورنٹ کی شہرت سن کر ذہن میں قائم ہوچکی تھیں۔

تاہم ریسٹورنٹ کی دیواروں پر آویزاں پاکستان کے خوب صورت مناظر، تاریخی مقامات، قومی یادگاروں اور وطن کے مختلف علاقوں کے نقشوں نے دل کو ضرور خوش کر دیا۔ پردیس میں اپنے وطن کی ایک تصویر بھی اچانک ایسی خوشی عطا کرتی ہے جیسے دور دیس میں کوئی اپنا مل جائے۔ چند لمحوں کے لیے نگاہیں ان تصویروں پر ٹھہری رہیں اور دل پاکستان کی گلیوں، شہروں، پہاڑوں اور دریاؤں کی طرف جا پہنچا۔

چائے کے بعد ہم گھر کی جانب واپس روانہ ہوئے۔ وہاں پہنچے تو سلیم بھائی پہلے ہی آ چکے تھے۔ نماز کی ادائیگی کے بعد ایک بار پھر شہر کی سیر کا سلسلہ شروع ہوا۔ البتہ اس مرتبہ ایک خوش گوار تبدیلی یہ تھی کہ گاڑی کی اسٹیئرنگ فاروق بھائی کے بجائے سلیم بھائی کے ہاتھوں میں تھی