مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین پر پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا دفاعی معاہدہ بدلتے ہوئے علاقائی حالات میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ معاہدہ تین ایسے ممالک کو ایک مشترکہ دفاعی نظام میں جوڑتا ہے جو اپنی اپنی جگہ غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں اور جن کی مختلف صلاحیتوں کا امتزاج مستقبل میں خطے کی سلامتی کو ایک نئی سمت دے سکتا ہے۔

معاہدے کا بنیادی تصور اجتماعی دفاع ہے، جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف ہونے والی جارحیت کو مشترکہ سلامتی کے لیے خطرہ تصور کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ صرف دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے تک محدود نہیں بلکہ باہمی اعتماد، یکجہتی اور مشترکہ ذمہ داری کا بھی اظہار ہے۔

مکہ مکرمہ کا اس معاہدے کے لیے انتخاب بھی اپنی خاص معنویت رکھتا ہے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے مکہ وحدت، امن اور بھائی چارے کی علامت ہے۔ اسی مقدس شہر میں تین اہم مسلم ممالک کا اپنی سلامتی کے لیے ایک پلیٹ فارم پر آنا ایک گہرا سفارتی پیغام دیتا ہے کہ اجتماعی طاقت کا بہترین مقصد استحکام اور امن کا تحفظ ہونا چاہیے۔

اس شراکت داری میں پاکستان کا کردار خاص طور پر نمایاں ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کئی دہائیوں سے دفاعی روابط قائم ہیں، جبکہ ترکیہ کے ساتھ بھی اسلام آباد کے عسکری اور تزویراتی تعلقات مضبوط ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج کا عملی تجربہ، انسدادِ دہشت گردی میں مہارت اور اہم جغرافیائی محلِ وقوع اسے اس معاہدے کا ایک اہم فریق بناتا ہے۔

ترکیہ کی شمولیت اس تعاون کو جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت کا ایک نیا پہلو فراہم کرتی ہے۔ ترکیہ نے مقامی دفاعی پیداوار، فضائی ٹیکنالوجی اور جدید عسکری نظام میں نمایاں ترقی کی ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کے پہلے سے موجود قریبی دفاعی تعلقات اس نئے تعاون میں ٹیکنالوجی کے تبادلے، تربیت اور مشترکہ منصوبوں کے مزید امکانات پیدا کر سکتے ہیں۔

سعودی عرب اپنی معاشی اور جغرافیائی سیاسی حیثیت کے باعث اس شراکت داری کا ایک اہم ستون ہے۔ علاقائی استحکام ریاض کے لیے صرف سلامتی کا معاملہ نہیں بلکہ معاشی ترقی اور طویل المدتی قومی مفادات کا بھی بنیادی حصہ ہے۔ پاکستان کی دفاعی مہارت اور ترکیہ کی تکنیکی صلاحیت کے ساتھ تعاون سعودی عرب کے لیے اپنی سلامتی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

اس معاہدے کا ایک اہم پہلو دفاعی بازداریت ہے۔ اجتماعی دفاع کا مقصد جنگ کو بڑھانا نہیں بلکہ ممکنہ جارحیت کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ جب کسی ایک ملک کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں متعدد ممالک کے مشترکہ ردِعمل کا امکان موجود ہو تو تنازع کے خطرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یوں مضبوط دفاع، جنگ کے بجائے امن کے تحفظ کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

مستقبل میں تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ فوجی مشقوں، انٹیلی جنس تعاون، عسکری تربیت، دفاعی ٹیکنالوجی، سائبر تحفظ اور تحقیق کے شعبوں میں تعاون کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔ موجودہ دور میں سلامتی صرف روایتی جنگ تک محدود نہیں رہی، بلکہ جدید ٹیکنالوجی، معلومات اور سائبر دنیا بھی قومی دفاع کا اہم حصہ بن چکی ہے۔

پاکستان کے لیے یہ معاہدہ ایک اہم سفارتی اور تزویراتی کامیابی بھی ہے۔ سعودی عرب اور ترکیہ دونوں کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلقات اسے مسلم دنیا کی دو اہم طاقتوں کے درمیان ایک مضبوط پل کی حیثیت دیتے ہیں۔ یہ مقام مستقبل میں پاکستان کے لیے علاقائی سفارت کاری اور باہمی تعاون کے مزید امکانات پیدا کر سکتا ہے۔

مکہ معاہدے کی اصل کامیابی اب اس بات پر منحصر ہوگی کہ اسے کس حد تک عملی تعاون میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ تینوں ممالک کی مختلف طاقتیں — پاکستان کا دفاعی تجربہ، ترکیہ کی ٹیکنالوجی اور سعودی عرب کی معاشی و جغرافیائی سیاسی صلاحیت — اگر متوازن حکمتِ عملی کے تحت ایک دوسرے کی معاون بنیں تو یہ شراکت داری خطے میں سلامتی کے ایک نئے نمونے کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔

مکہ سے شروع ہونے والا یہ سفر صرف دفاع کا سفر نہیں، بلکہ امن کے تحفظ کا عہد ہونا چاہیے۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کی یہ یکجہتی اگر حکمت، اعتماد اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھتی ہے تو آج کا یہ معاہدہ آنے والے کل کے ایک مستحکم، پُرامن اور روشن علاقائی مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے۔

علیزہ عابد عارفین