شاید آپ نے ہائی اسکول میں علمِ حیاتیات پڑھتے ہوئے آٹو فیجی (Autophagy) کے بارے میں ضرور سنا ہو۔ یہ جسم کا ایک قدرتی صفائی اور ری سائیکلنگ کا نظام ہے، جو خلیوں کو صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
آٹو فیجی کا مطلب ہے ”خود کو کھانا“۔ بظاہر یہ اصطلاح عجیب محسوس ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ جسم کا ایک نہایت اہم اور قدرتی عمل ہے۔ اس نظام کے ذریعے خلیے اپنے اندر موجود خراب، پرانے یا غیر ضروری حصوں کو پہچان کر ختم کرتے ہیں اور مفید اجزا کو دوبارہ استعمال میں لاتے ہیں۔
جب یہ قدرتی نظام کمزور ہوجائے تو خراب مواد جسم میں جمع ہونے لگتا ہے، خلیوں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور مختلف بیماریوں کے لیے حالات پیدا ہوسکتے ہیں۔
اب ذرا اسی تصور کو حکمرانی پر لاگو کرکے دیکھتے ہیں۔
جو کام آٹو فیجی انسانی جسم کے لیے کرتی ہے، اچھا طرزِ حکمرانی وہی کام ایک ملک کے لیے کرتا ہے۔ احتساب، قانون کی بالادستی، شفافیت، چیک اینڈ بیلنس اور مضبوط ادارے کرپشن اور بدانتظامی کو پہچانتے، روکتے اور نظام کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
لیکن پاکستان میں کئی دہائیوں سے حکمرانی کا یہ اندرونی احتسابی نظام کمزور ہوتا گیا ہے۔ نتیجتاً کرپشن ختم ہونے کے بجائے نظام کا حصہ بنتی گئی، جبکہ قابل، ایماندار اور اہل افراد آہستہ آہستہ مایوس ہوکر پیچھے ہٹتے یا نظام سے باہر ہوتے گئے۔
جس طرح انسانی جسم کا صفائی اور دفاعی نظام ناکام ہوجائے تو خرابیاں بڑھنے لگتی ہیں، اسی طرح جب کسی ملک کے احتسابی اور اصلاحی ادارے اپنا کردار ادا کرنا چھوڑ دیں تو کرپشن بھی کینسر کی طرح پھیلنے لگتی ہے۔
اصل خطرہ صرف کرپشن کا موجود ہونا نہیں، بلکہ اس سے بھی بڑا خطرہ یہ ہے کہ کرپشن کو پہچاننے، روکنے اور ختم کرنے والا نظام ہی ناکام ہوجائے۔
کسی بھی ملک میں مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، لیکن ایک مضبوط ریاست وہ ہوتی ہے جو اپنی خامیوں کو پہچاننے، انہیں درست کرنے اور وقت کے ساتھ اپنے نظام میں اصلاحات لانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
جب کوئی ملک اپنے اندر موجود خرابیوں کو پہچاننے، روکنے اور درست کرنے کی صلاحیت کھودے تو اسے بیرونی دشمنوں سے زیادہ اپنی اندرونی خرابیوں سے خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔
کیونکہ بیرونی دشمن کسی ملک کو نقصان پہنچا سکتا ہے، لیکن اندر سے بڑھنے والی خرابیاں پورے نظام کو کھوکھلا کرسکتی ہیں۔
اس لیے اچھی حکمرانی کا مقصد صرف حکومت چلانا نہیں، بلکہ ریاستی نظام کو مسلسل شفاف، مضبوط، جوابدہ اور خود احتسابی کے قابل رکھنا بھی ہے۔
جس طرح انسانی جسم کو صحت مند رکھنے کے لیے آٹو فیجی ضروری ہے، اسی طرح ایک ریاست کو صحت مند رکھنے کے لیے احتساب، قانون کی حکمرانی، شفافیت، چیک اینڈ بیلنس اور مضبوط ادارے ضروری ہیں۔
صحت مند جسم خراب اجزا کو ختم کرکے خود کو بچاتا ہے، اور صحت مند ریاست اپنی اندرونی خرابیوں کو ختم کرکے خود کو مضبوط بناتی ہے۔




