کینیڈا میں 7 جولائی کی صبح معمول سے کچھ مختلف تھی۔ شدید پیاس کے باعث صبح سات بجے آنکھ کھل گئی۔ پانی پینے کے بعد کچھ دیر جاگتا رہا، مگر گھر کے ہر گوشے میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ عمران احمد اور فاروق بھائی ابھی تک خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے تھے، اس لیے میں بھی دوبارہ بستر پر دراز ہوگیا۔ دوسری مرتبہ آنکھ کھلی تو گھڑی کی سوئیاں گیارہ بجنے کا اعلان کر رہی تھیں اور گھر کی خاموشی عمران اور فاروق بھائی کی گفتگو سے ٹوٹ چکی تھی۔

عمران احمد نے بتایا کہ ان کے پرانے دوست شعیب بھائی، جو 1990ء کی دہائی میں کراچی میں ڈی سی پیجر سے وابستہ رہے تھے اور آج کل کینیڈا میں مقیم ہیں، ملاقات کے لیے آرہے ہیں۔ چنانچہ وہ ان کے ساتھ باہر ناشتے پر جارہے تھے۔ عمران کے روانہ ہونے کے بعد میں بھی اپنے روزمرہ کے معمولات میں مصروف ہوگیا۔ غسل سے فارغ ہوکر باہر آیا تو فاروق بھائی کی پُرخلوص آواز سنائی دی:

“ولی بھائی! آئیے، ناشتا تیار ہے۔

ناشتے کی میز پر دودھ، دلیہ، انڈا، ڈبل روٹی اور گرم چائے ہماری منتظر تھے۔ یہ سادہ سا ناشتا اگرچہ ظاہری اعتبار سے معمولی تھا، مگر محبت اور خلوص نے اسے دیارِ غیر میں اپنائیت کی خوشبو سے معطر کر دیا تھا۔

ناشتے کے بعد ڈرائنگ روم میں نشست جم گئی۔ گفتگو کا محور پاکستان کے سیاسی، سماجی اور معاشی حالات تھے کہ اسی دوران عمران احمد بھی واپس آگئے۔ طے پایا کہ دوپہر کے کھانے میں بریانی تیار کی جائے، اور یوں باورچی خانے کی رونق دوبالا ہوگئی۔ فاروق بھائی نے فریزر سے نکالا ہوا مرغی کا گوشت نرم کرنے اور چاول بھگونے کا انتظام سنبھالا، جبکہ میں نے پیاز، ٹماٹر اور ہری مرچیں کاٹ کر تیاری مکمل کی۔ کچھ ہی دیر میں مصالحوں کی اشتہا انگیز خوشبو پورے گھر میں پھیل گئی اور خوش ذائقہ بریانی دسترخوان کی زینت بن گئی۔

لذیذ کھانے کے بعد ارادہ تو فوراً شہر کی سیر کا تھا، مگر بریانی نے اپنا اثر دکھایا اور مختصر سا قیلولہ ناگزیر ہوگیا۔ نمازِ عصر کی ادائیگی کے بعد فاروق بھائی ہمیں مسی ساگا کی کشادہ، صاف ستھری اور منظم شاہراہوں کی سیر کے لیے لے نکلے۔

مسی ساگا میں Queen Elizabeth Way (QEW) ہائی وے پر ہماری گاڑی تیزی سے رواں تھی کہ اچانک میری نظر South Sheridan Way کے کنارے ایستادہ ایک بلند و بالا مینار پر جا ٹھہری۔ یہ اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ (ISNA) مسجد اور اسلامک سینٹر آف کینیڈا کا پُروقار مینار تھا۔ مصروف شاہراہ پر دوڑتی گاڑیوں کے شور کے درمیان یہ مینار خاموشی سے اسلام کی آفاقی دعوت، روحانی وقار اور تہذیبی شناخت کا اعلان کرتا محسوس ہو رہا تھا۔

فاروق بھائی نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس عظیم اسلامی مرکز کی بنیاد 1970ء کی دہائی کے اواخر اور 1980ء کی دہائی کے آغاز میں رکھی گئی تھی۔ اس کا مقصد گریٹر ٹورنٹو ایریا اور کینیڈا بھر میں آباد مسلمانوں کو ایک ایسا مرکزی ادارہ فراہم کرنا تھا جہاں وہ نہ صرف نماز اور عبادات ادا کرسکیں بلکہ اپنی دینی، تعلیمی، سماجی اور ثقافتی ضروریات بھی پوری کر سکیں

ان کی گفتگو سنتے ہوئے احساس ہوا کہ یہ صرف ایک مسجد نہیں بلکہ کینیڈا میں اسلامی تشخص، اتحاد اور اجتماعی شعور کی ایک مضبوط علامت ہے۔ ISNA Canada ملک کے قدیم ترین اور مؤثر اسلامی اداروں میں شمار ہوتا ہے، جو صرف اس مسجد تک محدود نہیں بلکہ کینیڈا بھر کی متعدد مساجد، اسلامی مراکز اور مسلم کمیونٹیز کی رہنمائی، معاونت اور تنظیمی خدمات بھی انجام دیتا ہے۔

اس وسیع و عریض کمپلیکس میں ISNA Elementary School بھی قائم ہے، جہاں نئی نسل کو جدید عصری تعلیم کے ساتھ قرآن و سنت کی تعلیمات سے بھی آراستہ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں نکاح کی تقریبات، حلال سرٹیفیکیشن، خاندانی مشاورت، دینی تعلیم، نوجوانوں کی تربیت اور متعدد سماجی و رفاہی خدمات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ یوں یہ مرکز محض عبادت گاہ نہیں بلکہ ایک فعال، منظم اور زندہ اسلامی کمیونٹی سینٹر کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔

اس مسجد کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کا محلِ وقوع ہے۔ شمالی امریکہ کی مصروف ترین شاہراہوں میں سے ایک QEW کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے روزانہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد اس کے سامنے سے گزرتے ہیں۔ سفید گنبد اور فلک بوس مینار دور ہی سے نگاہوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جدید شہری تمدن کے ہنگاموں کے درمیان یہ مسجد خاموش وقار کے ساتھ اسلام کی شناخت اور مسلمانوں کی موجودگی کا استعارہ بن کر کھڑی ہے۔

گاڑی اپنی منزل کی جانب بڑھتی رہی، مگر میری نگاہیں دیر تک اس مینار کا تعاقب کرتی رہیں۔ اجنبی سرزمین پر اسلام کی یہ روشن علامت دل میں ایک عجیب سی طمانیت اور اعتماد پیدا کر رہی تھی۔ یوں محسوس ہوا جیسے ہجرتوں، محنتوں، قربانیوں اور اجتماعی جدوجہد کی ایک طویل داستان اس مینار کی صورت میں آسمان سے ہم کلام ہو رہی ہو۔

درحقیقت ایسے ہی مراکز اس حقیقت کے زندہ گواہ ہیں کہ مسلمان جہاں بھی آباد ہوتے ہیں وہاں مسجد صرف عبادت کا مقام نہیں رہتی بلکہ علم، خدمت، اخوت، تہذیب اور اجتماعی زندگی کا ایسا روشن چراغ بن جاتی ہے، جس کی روشنی نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے۔ اب ہماری گاڑی میسی ساگا کے قدیم علاقے سے گزر رہی تھی۔سڑک کے دونوں جانب بلند و بالا درخت، سرسبز و شاداب سبزہ زار اور خوبصورت رہائشی بستیاں اس شہر کے قدرتی حسن کو دوبالا کر رہی تھیں۔ یہ علاقہ محض جدید شہری ترقی کی علامت نہیں بلکہ ایک بھرپور تاریخی ورثہ بھی اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ فاروق بھائی نے بتایا کہ یورپی آبادکاری سے قبل یہ سرزمین مقامی فرسٹ نیشنز قبائل، خصوصاً مسیساگا قوم کا مسکن تھی، جن کے نام پر بعد میں اس شہر کا نام میسی ساگا (Mississauga) رکھا گیا۔ انیسویں صدی میں یہاں زرعی بستیاں وجود میں آئیں، جو وقت گزرنے کے ساتھ ایک جدید اور خوشحال شہر میں تبدیل ہوگئیں۔

اسی دوران ہماری گاڑی یونیورسٹی آف ٹورنٹو، میسی ساگا کیمپس کے سامنے سے گزری تو فاروق بھائی نے اس ممتاز درسگاہ کی تاریخ بیان کرنا شروع کی۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی آف ٹورنٹو کی ابتدا 1827ء میں کنگز کالج کے قیام سے ہوئی، جس کی بنیاد شاہی چارٹر کے تحت بشپ جان اسٹراچن اور لیفٹیننٹ گورنر پیریگرین میٹ لینڈ کی کوششوں سے رکھی گئی۔ 1850ء میں ادارے کو سیکولر حیثیت دے کر اس کے خصوصی انگلیکن مذہبی تعلقات ختم کیے گئے اور اسے یونیورسٹی آف ٹورنٹو کا نام دیا گیا، جبکہ 1853ء میں یونیورسٹی کالج ایک غیر مذہبی تعلیمی ادارے کے طور پر قائم ہوا انیسویں صدی کے دوران یونیورسٹی نے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے طب، قانون اور سائنس سمیت متعدد فیکلٹیز قائم کیں اور 1880ء کی دہائی سے خواتین کو باقاعدہ داخلہ دینے والی کینیڈا کی اولین جامعات میں شامل ہوگئی۔

1921ء میں یونیورسٹی کے محققین فریڈرک بینٹنگ اور چارلس بیسٹ نے انسولین دریافت کرکے طب کی تاریخ میں ایک انقلابی سنگِ میل قائم کیا۔ آج یونیورسٹی آف ٹورنٹو کینیڈا کی ممتاز عوامی تحقیقی جامعات میں شمار ہوتی ہے، جس کے تین بڑے کیمپس—سینٹ جارج، مسیساگا اور سکاربورو دنیا بھر کے طلبہ اور محققین کو اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے مواقع فراہم کر رہے ہیں انھوں نے مزید بتایا کہ موجودہ میسی ساگا کیمپس کی بنیاد 1967ء میں Erindale College کے نام سے رکھی گئی تھی، جب کینیڈا اپنی کنفیڈریشن کی صد سالہ تقریبات منا رہا تھا۔

قدرتی جنگلات، بہتے ندی نالوں اور وسیع سبز میدانوں کے درمیان قائم یہ کیمپس اس حقیقت کی بہترین مثال ہے کہ کینیڈا نے ترقی اور ماحولیات کے تحفظ کے درمیان ایک متوازن راستہ اختیار کیا ہے۔ آج یہاں دنیا کے درجنوں ممالک سے تعلق رکھنے والے ہزاروں طلبہ جدید علوم، سائنسی تحقیق اور تخلیقی فکر کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کو نکھار رہے