نیاگرا فال کی دل آویز سیر کے بعد واپسی پر فاروق بھائی ہمیں مسی ساگا کے رج وے پلازہ (Ridgeway Plaza) میں واقع بختیار ریستوران لے گئے، جہاں مشرقِ وسطیٰ کے روایتی اور لذیذ کھانوں سے ہماری پرتکلف تواضع کی گئی۔ گرل کیا ہوا رسیلا گوشت، خوشبودار چاول، نرم و ملائم کباب اور دیگر متنوع پکوان نہ صرف ذائقے میں لاجواب تھے بلکہ ان کی خوشبو اور پیشکش بھی دل موہ لینے والی تھی۔ دن بھر کی مسافت اور سیاحت کی تھکن اس پُرلطف ضیافت نے چند لمحوں ہی میں دور کر دی اور جسم و جاں میں تازگی کا احساس لوٹ آیا۔
کھانے کے بعد فاروق بھائی نے ایک بار پھر ڈرائیونگ سنبھالی اور ہم گھر کی جانب روانہ ہوگئے۔ راستے میں سلیم بھائی نے کینیڈا کے امن و امان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مؤثر کارکردگی پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے علاقے میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے کا ذکر کیا۔
انہوں نے بتایا کہ یکم اکتوبر 2024ء کو صبح تقریباً 3 بج کر 40 منٹ پر مسی ساگا میں جان ڈرائیو (John Drive) اور سینٹرل پارک وے ڈرائیو (Central Parkway Drive) کے قریب واقع ایک رہائش گاہ میں چار مسلح نقاب پوش افراد زبردستی داخل ہوگئے۔ ملزمان نے گھر کے مکینوں کو یرغمال بنا کر نقد رقم اور قیمتی اشیاء کا مطالبہ کیا۔ مزاحمت کے دوران گھر کے مالک، 55 سالہ چینی نژاد شہری روؤ ژو وی (Ruo Zhou Wei)، کو گولی مار دی گئی۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔
اس اندوہناک واقعے سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، لیکن کینیڈین پولیس نے تیز رفتار اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے چند ہی ہفتوں میں اس واردات میں ملوث سات مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔ بعد ازاں ان پر قتل، مسلح ڈکیتی، غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور دیگر سنگین جرائم کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی۔
سلیم بھائی نے بتایا کہ کینیڈا میں قانون کی حکمرانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا اور ہر شہری قانون کی پابندی کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ انہوں نے واپسی کے سفر میں وہ مکان بھی دکھایا جہاں یہ افسوسناک سانحہ پیش آیا تھا۔ مزید بتایا کہ اس واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ نے علاقے میں اضافی سکیورٹی کیمرے نصب کیے، گشت میں اضافہ کیا اور نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا تاکہ مستقبل میں ایسے جرائم کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔ یہ اقدامات اس بات کا واضح ثبوت تھے کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو وہاں کس قدر اہمیت دی جاتی ہے۔
کچھ دیر بعد ہم نے سلیم بھائی کو ان کی رہائش گاہ پر الوداع کہا اور اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگئے۔ رات گئے جب گھر پہنچے تو جسم اگرچہ دن بھر کی سیاحت سے تھکا ہوا تھا، مگر دل نیاگرا فال کے سحر انگیز مناظر، گرجتے ہوئے آبشار، خوشگوار لمحات اور احباب کی بے لوث محبتوں کی یادوں سے معمور تھا۔ دیر تک پرانے بھارتی فلمی نغمے سنتے رہے اور دن بھر کی حسین یادیں ذہن کے پردے پر گردش کرتی رہیں۔
یوں قدرت کے اس عظیم شاہکار کی سیر کا یہ یادگار دن زندگی کے ان قیمتی اور ناقابلِ فراموش لمحات میں شامل ہوگیا جو وقت گزرنے کے ساتھ اپنی اہمیت اور دلکشی میں مزید اضافہ کرتے چلے جاتے ہیں، اور انسان جب بھی انہیں یاد کرتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ زندگی کے خوبصورت سفر کی اصل دولت یہی دل نشیں یادیں ہیں۔





