دوپہر تقریباً دو بجے ہم نیاگرا فال کی جانب روانہ ہوئے۔ میزبانِ محترم فاروق بھائی نے راستے میں اپنے دیرینہ دوست سلیم بھائی کو بھی ساتھ لے لیا اور ڈرائیونگ کی ذمہ داری انہی کے سپرد کر دی۔ یوں ہماری اس یادگار سیاحتی مہم کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ گاڑی جیسے ہی میسی ساگا سے ٹورنٹو کی مصروف شاہراہوں سے نکل کر نیاگرا ریجن کی طرف بڑھی، سفر کی دلکشی بھی بڑھتی چلی گئی۔

تقریباً تین گھنٹے کے اس سفر میں کئی مقامات پر ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑا، خصوصاً رین بو برج (Rainbow Bridge) کی جانب امریکہ میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی طویل قطاریں ٹریفک کی رفتار کو سست کیے ہوئے تھیں۔ مگر اس تاخیر نے بھی سفر کی دلچسپی کم نہ ہونے دی۔ کھڑکی سے باہر نظر دوڑاتے تو کہیں سرسبز کھیت لہلہا رہے تھے، کہیں جدید رہائشی بستیاں اپنی خوبصورتی کا احساس دلا رہی تھیں، اور کہیں وسیع و عریض تجارتی مراکز اس خطے کی معاشی ترقی کی گواہی دے رہے تھے۔

راستے میں معلوم ہوا کہ نیاگرا فالز (اونٹاریو) کی آبادی تقریباً ایک لاکھ اٹھارہ ہزار نفوس پر مشتمل ہے، جبکہ سینٹ کیتھرینز۔نیاگرا میٹروپولیٹن علاقہ چار لاکھ چونتیس ہزار سے زائد افراد کا مسکن ہے۔ پورا نیاگرا ریجن اب پانچ لاکھ انتالیس ہزار سے زیادہ باشندوں پر مشتمل ہے، جو اس علاقے کی بڑھتی ہوئی معاشی، سماجی اور سیاحتی اہمیت کا واضح مظہر ہے۔ قدرتی حسن کے ساتھ ترقی یافتہ شہری منصوبہ بندی کا یہ حسین امتزاج ہر آنے والے کو متاثر کیے بغیر نہیں رہتا۔

نیاگرا فال پہنچنے سے قبل رفعِ حاجت کے لیے مختصر توقف کیا گیا۔ اسی دوران سلیم بھائی گاڑی پارک کرنے چلے گئے۔ یہاں پارکنگ کی فیس پانچ کینیڈین ڈالر فی گھنٹہ تھی۔ دلچسپ بات یہ محسوس ہوئی کہ جس طرح کراچی میں خالی پلاٹ نجی پارکنگ میں تبدیل ہو جاتے ہیں، اسی طرح یہاں بھی کئی نجی پارکنگ لاٹس قائم تھے۔ یوں ہزاروں میل دور کینیڈا میں بھی کراچی کی ایک جھلک دکھائی دے گئی اور بے اختیار مسکراہٹ لبوں پر آ گئی۔

چند ہی لمحوں بعد ہم نیاگرا پارکس پہنچ گئے۔ سلیم بھائی نے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے پہلے مختلف مقامات کی نشاندہی کی اور پھر ہمیں ایک ایسے دلکش مقام پر لے گئے جہاں قدرت اور باغبانی کا حسین امتزاج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر تھا۔ سبز مخملیں لان، رنگ برنگے پھولوں کی قطاریں، خوب صورت آرائشی پودے اور ان کے درمیان دنیا بھر میں شہرت یافتہ فلورل کلاک (Floral Clock) اپنی منفرد دلکشی کے ساتھ ہر آنے والے کو مسحور کر رہی تھی۔ مختلف زبانیں بولتے، مختلف رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے سیاح اس حسین منظر کو اپنے کیمروں میں محفوظ کرنے میں مصروف تھے۔ ہم بھی اس یادگار مقام پر کچھ تصویریں بنوانے سے خود کو نہ روک سکے۔

اس کے بعد ہم نے کینیڈا کی سرزمین پر کھڑے ہو کر امریکہ کی جانب واقع نیاگرا فال کے دل فریب مناظر سے لطف اندوز ہوئے۔ سامنے دور تک پھیلا ہوا عظیم آبشار، دونوں ممالک کو ملانے والا رین بو برج، فضا میں خاموشی سے چلتی چیئر لفٹیں اور سیاحوں سے بھری کشتیاں ایک ایسا منظر پیش کر رہی تھیں جس میں فطرت اور انسانی ترقی ایک دوسرے کے شانہ بشانہ دکھائی دیتے تھے۔

اس مقام کی سیر کے بعد ہمار ا سفر کنیڈا کے نیاگرا آبشار کی سمت تھا گاڑی سے گذرتے ہوئےاسی دوران ہماری نظر دس ہزار بدھ سریرا اسٹوپا (Ten Thousand Buddhas Sarira Stupa) پر پڑی، جو نیاگرا کے سیاحتی ضلع میں روحانی سکون کی علامت بن کر ایستادہ ہے۔ روایتی چینی طرزِ تعمیر میں تعمیر ہونے والی یہ عبادت گاہ بدھ مت کے ماننے والوں کے لیے نہایت مقدس مقام کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں دس ہزار بدھوں کی علامتی یادگاریں موجود ہیں، جبکہ اسے چار عظیم بودھی ستوا—اولوکیتیشورا، کستی گربھ، منجوشری اور سمنتابھدرا—کے احترام میں قائم کیا گیا ہے۔ سبز درختوں اور پُرسکون ماحول کے درمیان واقع یہ عبادت گاہ اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ نیاگرا صرف قدرتی حسن کا مرکز ہی نہیں بلکہ مختلف تہذیبوں، مذاہب اور ثقافتوں کے باہمی احترام اور بقائے باہمی کی ایک خوب صورت مثال بھی ہے۔ اس مقام کو دیکھنے کے بعد

نیاگرا آبشار پہنچے اس عظیم آبشار پر نظرمرکوز ہو گئیں۔ ہزاروں ٹن پانی پوری قوت سے بلند چٹانوں سے نیچے گرتا، اس کی گرج فضا میں ایک ہیبت ناک مگر دل آویز موسیقی پیدا کرتی، اور پانی کی باریک پھوار چہرے کو یوں چھو کر گزرتی جیسے قدرت اپنے مہمانوں کا استقبال کر رہی ہو۔ آبشار سے اٹھنے والے سفید بخارات بادلوں کا گمان دلاتے تھے، جبکہ سورج کی کرنیں ان قطروں سے ٹکرا کر کہیں کہیں قوسِ قزح کے رنگ بکھیر دیتی تھیں۔ اس لمحے دل بے اختیار پکار اٹھا:

“فَتَبَارَكَ اللّٰهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ”

واقعی بعض مناظر ایسے ہوتے ہیں جنہیں الفاظ مکمل طور پر اپنے حصار میں نہیں لا سکتے؛ انہیں صرف دیکھا، محسوس کیا اور دل میں محفوظ کیا جا سکتا ہے۔

نیاگرا فال کا پہلا بھرپور دیدار میرے لیے محض ایک سیاحتی تجربہ نہیں تھا، بلکہ قدرتِ الٰہی کی عظمت، انسانی تخلیقی صلاحیت اور کائنات کے حسن کے سامنے خاموش تعظیم کا ایک ایسا لمحہ تھا جو زندگی بھر حافظے کا حصہ رہے گا ۔نیاگرا آبشار کی دل آویز سیر کے دوران ہم نے اس حسین منظر کو اپنی یادوں میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کرنے کی غرض سے خوب تصاویر اور ویڈیوز بنائیں۔ قدرت کے اس عظیم شاہکار کے سامنے گزرا ہر لمحہ ایک خوشگوار احساس سے لبریز تھا۔ اسی دوران ہمارے عزیز دوست عمران احمد نے آبشار کے سامنے واقع تحائف کی دکان سے چند خوبصورت سووینئرز اور بچوں کے لیے یادگاری تحائف بھی خریدے، تاکہ اس یادگار سفر کی خوشبو گھر تک ساتھ لے جا سکیں۔

سیر کے دوران ایک منفرد لفٹ کارنے ہماری توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ یہ فالز انکلائن ریلوےکی تیارکردہ جدید انجینئرنگ کا ایک خوبصورت شاہکار تھی۔ یہ ریلوے فالز ویو کے بلند ہوٹلوں، ریزورٹس اور کیسینوز کو نیچے واقع ٹیبل راک سینٹر سے ملاتی ہے، جہاں سے ہارس شو فالز کا قریب ترین نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ شیشے سے بنے دو خوبصورت کیبن تقریباً تیس درجے کی ڈھلان پر ایک دوسرے کے متوازن وزن کے ذریعے حرکت کررہے تھے جب ایک کیبن نیچے اترتا ہے تو اسی کی قوت دوسرے کیبن کو اوپر لے جاتی تھی۔ یہ مختصر مگر دلکش سفر سیاحوں کے لیے بذاتِ خود ایک منفرد تجربہ بن جاتا ہے۔شام ڈھلنے لگی تو سر ونسٹن چرچل ایونیو پر غروبِ آفتاب کا منظر اپنی پوری رعنائی کے ساتھ سامنے تھا

اسی دوران سلیم بھائی پارکنگ سے گاڑی لے کر آ پہنچے ، چنانچہ ہم لوگ سامان سمیت گاڑی میں سوار ہوئے اور نیاگرا کی دلکش یادیں اپنے دلوں میں سمیٹے واپسی کے سفر پر روانہ ہو گئے۔ راستے بھر آبشار کی گونج، اس کا دل موہ لینے والا منظر اور وہاں گزارے ہوئے حسین لمحات ہماری گفتگو کا محور رہے