سی این ٹاور کی سیر کے دوران یہ جان کر بھی خوشگوار حیرت ہوئی کہ اسی ٹاور میں دنیا کا بلند ترین وائن سیلر (Wine Cellar) بھی قائم ہے، جو اس کی عالمی انفرادیت میں ایک اور اضافہ ہے۔ سی این ٹاور سے رخصت ہوتے ہوئے بار بار یہی احساس دل میں ابھرتا رہا کہ بعض عمارتیں صرف اینٹ، پتھر اور فولاد کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ کسی قوم کے عزم، علم، تخلیقی صلاحیت اور مستقبل پر اعتماد کی علامت بن جاتی ہیں۔ ٹورنٹو کا سی این ٹاور بھی ایسی ہی ایک زندہ علامت ہے، جو ہر آنے والے مسافر کو صرف اپنی بلندی ہی نہیں بلکہ اپنی عظمت سے بھی متاثر کیے بغیر نہیں رہتا۔ نزدیک واقع جان اسٹریٹ راؤنڈ ہاؤس بھی (John Street Roundhouse) ٹورنٹو میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے، آج بھی کینیڈا کی ریلوے تاریخ کے ایک شاندار باب کی گواہی دیتا ہے۔ یہ تاریخی مقام سی این ٹاور (CN Tower)، راجرز سینٹر (Rogers Centre) اور رپلے ایکویریم آف کینیڈا (Ripley’s Aquarium of Canada) کے بالکل قریب واقع ہے، اسی لیے یہاں آنے والے سیاح جدید ٹورنٹو کے ساتھ ساتھ اس تاریخی ورثے کی سیر بھی ضرور کرتے ہیں۔لہذا ہم لوگوں نے بھی اس تاریخی مقام کے بارے میں آگاہی حاصل کی
جان اسٹریٹ راؤنڈ ہاؤس دراصل بھاپ کے انجنوں کے عہد کی ایک خصوصی ریلوے ورکشاپ تھی۔ اس قسم کی عمارتیں عموماً نیم دائرے کی شکل میں تعمیر کی جاتی تھیں تاکہ متعدد ریلوے لائنیں ایک مرکزی نقطے سے منسلک رہ سکیں۔ اس کے وسط میں ایک ٹرن ٹیبل (Turntable) نصب ہوتا تھا، جو ایک گھومنے والا پلیٹ فارم تھا۔ بھاپ کے انجن کو اس پلیٹ فارم پر کھڑا کرکے مطلوبہ سمت میں موڑا جاتا اور پھر اسے متعلقہ پٹری پر روانہ کیا جاتا۔ اس دور میں جب بھاپ کے انجنوں کو بار بار سمت تبدیل کرنا پڑتی تھی، یہ نظام ریلوے آپریشن کا نہایت اہم حصہ سمجھا جاتا تھا۔
یہ راؤنڈ ہاؤس کینیڈین پیسیفک ریلوے (Canadian Pacific Railway - CPR) کے مسافر اور مال بردار انجنوں کی دیکھ بھال، مرمت اور پارکنگ کا مرکزی مرکز تھا۔ یہاں مجموعی طور پر 43 ریلوے ٹریک ہوتےتھے، جن پر مختلف انجن کھڑے کیے جاتے اور ان کی فنی ضروریات پوری کی جاتی تھیں۔ اس کمپلیکس میں پانی کی فراہمی، ایندھن کی ترسیل، بھٹیوں سے نکلنے والی راکھ کی صفائی، انجنوں کی مرمت، معائنہ اور دیگر تکنیکی خدمات فراہم کی جاتی تھیں، جس کے باعث یہ مقام کئی دہائیوں تک ٹورنٹو کے ریلوے نظام کا ایک نہایت مصروف اور اہم مرکز ہے
اس کو دیکھنے کے بعد ہمیں ٹورنٹو کے خوبصورت لیک شور کی سیر کرائی گئی۔ جھیل کے کنارے پھیلی دلکش فضا، ٹھنڈی ہوائیں، نیلگوں پانی اور دور تک پھیلے حسین مناظر دیر تک دل و دماغ پر نقش رہے۔ وہاں کچھ وقت اس پرسکون ماحول میں گزارنے کے بعد مغرب کے وقت گھر واپس پہنچے اور نماز ادا کی۔
رات کے کھانے میں فاروق بھائی نے گرل مچھلی، چکن کے قیمے اور تازہ گرم روٹی سے ہماری پرتکلف تواضع کی۔ کھانا اپنی لذت کے اعتبار سے تو بہترین تھا ہی، مگر محبت اور خلوص کے ساتھ پیش کیے جانے کی وجہ سے اس کا لطف مزید دوبالا ہوگیا۔ کھانے کے بعد کچھ دیر آرام کیا، پھر رات تقریباً دس بجے فاروق بھائی ہمیں کافی پلانے لے گئے۔ خوشگوار گفتگو، اپنائیت بھرا ماحول اور پردیس میں اپنے لوگوں کی رفاقت نے وقت کا احساس ہی نہ ہونے دیا۔ جب واپس گھر پہنچے تو رات کے ساڑھے گیارہ بج رہے تھے۔
اب دانت صاف کرکے بستر پر جانے کی تیاری تھی۔ دل اللہ تعالیٰ کے حضور شکر سے لبریز تھا کہ کینیڈا میں میرا پہلا دن اپنوں کی محبت، بے مثال مہمان نوازی، خوشگوار رفاقت اور خوبصورت مقامات کی سیر میں گزرا۔
اس مختصر قیام ہی میں ایک حقیقت پوری طرح واضح ہوگئی تھی کہ کینیڈا کی اصل خوبصورتی فلک بوس عمارتوں، کشادہ شاہراہوں یا جدید انفراسٹرکچر میں نہیں، بلکہ قانون کی پاسداری، صفائی، نظم و ضبط، ماحول دوستی اور مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے درمیان باہمی احترام میں پوشیدہ ہے۔ شاید یہی وہ توازن ہے جس نے اس ملک کو دنیا کے بہترین ممالک کی صف میں لاکھڑا کیا ہے۔
یہ سفر ابھی اپنے آغاز میں تھا۔ یقین تھا کہ آنے والے دن اس سرزمین کے مزید رنگ، نئی کہانیاں اور ان گنت تجربات میرے دامن میں ڈالیں گے، مگر پہلا تاثر یہی تھا کہ کینیڈا صرف ایک ترقی یافتہ ملک نہیں بلکہ ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں انسان، فطرت اور قانون تینوں کو یکساں اہمیت دی جاتی ہے۔
گزشتہ رات سفر کی روداد قلم بند کرتے کرتے رات کے تقریباً ڈھائی بج گئے تھے۔ تحریر مکمل کرنے کے بعد چند لمحوں کے لیے بستر پر نیم دراز ہوا تو کب آنکھ لگ گئی، احساس ہی نہ ہوا۔
پانچ جولائی کی صبح تقریباً دس بجے آنکھ کھلی تو دیکھا کہ فاروق بھائی باورچی خانے میں ناشتے کی تیاری میں مصروف ہیں۔ میں جلدی سے بستر سے اٹھا اور واش روم جانے کے لیے سیڑھیاں اترنے لگا، مگر اچانک پاؤں پھسل گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے کئی سیڑھیاں لڑھکتا ہوا نیچے جا گرا۔
چند لمحوں کے لیے تو حواس گم ہوگئے، لیکن جب خود کو سنبھالا تو بے اختیار زبان پر الحمدللہ جاری ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کا شکر تھا کہ کوئی سنگین چوٹ نہیں آئی۔ صرف کہنی پر معمولی خراش آئی، کمر کے نچلے حصے میں ہلکا سا جھٹکا لگا اور معمولی درد محسوس ہوا، جبکہ ٹانگ مکمل طور پر محفوظ رہی۔
ایسے حادثات انسان کو ایک لمحے میں یہ احساس دلا دیتے ہیں کہ صحت اور سلامتی اللہ تعالیٰ کی کتنی عظیم نعمتیں ہیں، جن کی قدر اکثر انسان آزمائش کے وقت ہی جان پاتا ہے۔ اس واقعے نے دل میں شکر گزاری کے جذبے کو اور بھی گہرا کر دیا۔
ناشتے میں دودھ، دلیہ، انڈے اور ڈبل روٹی سے خوب خاطر مدارت ہوئی۔ اس کے بعد فاروق بھائی کے ساتھ گھر کے قریب واقع ایک حلال فوڈ مارٹ جانا ہوا، جسے ایک عرب باشندہ چلاتا ہے۔ وہاں سے مرغی کا تازہ گوشت خریدا۔ گھر واپس آکر اسے اچھی طرح صاف کیا گیا اور فریج میں محفوظ کر دیا گیا، کیونکہ اگلے روز بریانی بنانے کا پروگرام پہلے ہی طے ہو چکا تھا۔
یوں کینیڈا میں قیام کے دوسرے دن کی صبح ایک غیر متوقع حادثے، اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل و کرم، اپنوں کی محبت اور روزمرہ زندگی کی سادہ مگر خوشگوار مصروفیات کے ساتھ آغاز ہوئی۔ سفر کا ہر نیا دن گویا ایک نئی کہانی اپنے دامن میں سمیٹے میرے استقبال کے لیے تیار تھا۔





