جب برطانوی گورنرجان گریو سمکُو (John Graves Simcoe) نے اس کا نام یارک (York) رکھا۔ ابتدائی زمانے میں خراب سڑکوں اور ہر طرف کیچڑ ہونے کی وجہ سے یہ بستی Muddy,Yark(کیچڑ والا یارک) کے نام سے بھی مشہور تھی ،بستی کی بنیاد 1803 میں رکھی گئی، جس نے تجارت، خرید و فروخت اور روزگار کے مواقع فراہم کرتے ہوئے شہر کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
بعد ازاں، 1834 میں یارک کا نام تبدیل کرکے ٹورنٹو رکھا گیا اور اسے باقاعدہ طور پر شہر کا درجہ دیا گیا۔ آج ٹورنٹو نہ صرف کینیڈا کا سب سے بڑا شہر ہے بلکہ ملک کا معاشی، تجارتی اور مالیاتی مرکز بھی شمار ہوتا ہے، ٹورنٹو میں بے گھر افراد کی تعداد تقریباً 10,000 سے 15,000 کے درمیان ہے۔ رہائشی بحران اور نشے کے استعمال، خصوصاً کرسٹل میتھ، میں اضافے کے باعث بہت سے لوگ سڑکوں، عوامی پارکوں اور عارضی کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ نشہ کے عادی افراد ہمیں کراچی کی طرح سڑکوں پر مدہوش دکھائی دئے ٹورنٹو میں مکانات کے کرائے انتہائی زیادہ ہونے کی وجہ سے عام آمدنی رکھنے والے بہت سے افراد اپنے رہائش کے اخراجات پورے نہیں کر پاتے اور بالآخر بے گھر ہو جاتے ہیں۔اس وقت ایک اندازاً کے مطابق بے گھر افراد میں سے 25 سے 100 فیصد کسی نہ کسی قسم کی منشیات کی لت کا شکار ہوتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ دماغی صحت اور نشے کے علاج کے لیے مناسب مراکز کی بھی کمی کا سامنا ہے جو اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔شہر کے شیلٹرز (پناہ گاہیں) تقریباً 98 فیصد تک بھرے رہتے ہیں، جس کے باعث بہت سے افراد کو سڑکوں، پارکوں یا دیگر کھلی جگہوں پر رات گزارنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ٹورنٹو کے دورے کے دوران شہر کے مختلف بازاروں، مصروف شاہراہوں اور سڑکوں کے کنارے ایک ایسا منظر بھی دیکھنے کو ملا جو بظاہر ترقی یافتہ معاشروں کے بارے میں قائم عمومی تصور سے مختلف تھا۔ متعدد بے روزگار مرد و خواتین امداد کے منتظر دکھائی دیے، جبکہ کئی افراد منشیات کی لت کے باعث انتہائی ناگفتہ بہ حالت میں فٹ پاتھوں پر بیٹھے یا نیم بے ہوشی کے عالم میں پڑے نظر آئے۔ ان کے چہروں پر محرومی، بے بسی اور سماجی تنہائی کی گہری جھلک نمایاں تھی۔ یہ منظر اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ معاشی خوش حالی اور جدید شہری ترقی کے باوجود دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی بے روزگاری، غربت، ذہنی امراض اور منشیات جیسے سنگین سماجی مسائل سے مکمل طور پر محفوظ نہیں ہیں ۔
ٹورنٹو کی بلند و بالا عمارتوں کے درمیان جب پہلی بار سی این ٹاور (CN Tower) نگاہوں کے سامنے آیا تو یوں محسوس ہوا جیسے فولاد سے تراشا ہوا کوئی عظیم مینار آسمان سے ہم کلام ہو۔ 553.3 میٹر (1,815.3 فٹ) بلند یہ شاہکار محض ایک مواصلاتی ٹاور نہیں، بلکہ کینیڈا کی ترقی، انجینئرنگ کی مہارت اور قومی وقار کی جیتی جاگتی علامت ہے۔1976ء میں مکمل ہونے والا یہ عظیم الشان ٹاور تین دہائیوں سے زائد عرصے تک دنیا کا سب سے بلند آزادانہ کھڑا ڈھانچہ رہا۔ آج بھی مغربی نصف کرہ (Western Hemisphere) میں اس کی ہیبت، شان اور انفرادیت دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتی ہے۔ دور سے اس کا فلک بوس وجود ٹورنٹو کی شناخت بن کر ابھرتا ہے اور قریب پہنچ کر اس کی عظمت کا احساس کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ نیلگوں جھیل اونٹاریو کی وسعت، بلند عمارتوں کا جنگل، سڑکوں پر رواں گاڑیوں کی قطاریں اور دور افق سے ملتا ہوا آسمان، سب مل کر ایک ایسا منظر تخلیق کررہے تھے ،جسے لفظوں میں مکمل طور پر قید کرنا آسان نہیں۔





