فاروق بھائی ہمیں لیک اونٹاریو کے کنارے لے گئے۔ شام اپنے پورے حسن کے ساتھ ہماری منتظر تھی۔ نیلگوں پانی کی بے کراں وسعت، نرم و ملائم ٹھنڈی ہوائیں، کنارے پر چہل قدمی کرتے خاندان، سائیکلوں پر محوِ سفر نوجوان، کھیلتے ہوئے بچے اور افق پر آہستہ آہستہ ڈوبتا سورج ایسا منظر پیش کر رہے تھے جیسے قدرت نے اپنے تمام رنگ ایک ہی کینوس پر سجا دیے ہوں۔ ہم نے اس دلکش منظر کے ساتھ چند یادگاری تصاویر بھی بنوائیں، مگر اس لمحے دل میں ایک خیال بھی ابھرا کہ ترقی یافتہ معاشروں کی اصل پہچان صرف فلک بوس عمارتیں، وسیع شاہراہیں یا جدید انفراسٹرکچر نہیں ہوتے، بلکہ وہ محفوظ، صاف ستھرے اور خوبصورت عوامی مقامات ہوتے ہیں جہاں ہر عمر اور ہر طبقے کا انسان بلا خوف و خطر سکون کے چند لمحے گزار سکے۔
رات گئے ہم کینیڈا کے معروف کافی ہاؤس ٹم ہارٹنز پہنچے۔ کافی کی خوشبو، خوشگوار ٹھنڈی ہوا اور پرسکون ماحول نے پہلی ہی رات دل پر ایسی خوشگوار یاد ثبت کر دی جو مدتوں فراموش نہ ہو سکے گی۔ اجنبی سرزمین پر یہ پہلا شبانہ وقفہ اپنے اندر ایک عجیب سی مانوسیت لیے ہوئے تھا۔
4 جولائی کی صبح ایک نئے احساس کے ساتھ طلوع ہوئی۔ ناشتے سے قبل جب گھر کے لان میں نکلا تو ہلکی ہلکی بارش برس رہی تھی۔ بارش کے ننھے قطرے سبز گھاس پر موتیوں کی مانند چمک رہے تھے۔ صاف و شفاف فضا، ٹھنڈی ہوا اور چاروں طرف پھیلی خاموشی فطرت کے حسن کو مزید دوبالا کر رہی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے قدرت اپنے ہاتھوں سے ہر منظر کو نہایت سلیقے اور محبت سے ترتیب دے رہی ہو۔
کینیڈا کا موسم بھی اس کے وسیع جغرافیے کی طرح بے حد رنگا رنگ ہے۔ یہاں موسمِ گرما مختصر مگر نسبتاً گرم، جبکہ موسمِ سرما طویل، سخت سرد اور شدید برفباری سے بھرپور ہوتا ہے۔ بہار کی بارشیں زمین کو نئی زندگی عطا کرتی ہیں، گرمیوں کے طویل دن اور مختصر راتیں زندگی میں تازگی اور توانائی بھر دیتے ہیں، جبکہ خزاں میں سرخ، زرد اور سنہری پتوں سے سجے درخت قدرت کی ایسی شاہکار مصوری پیش کرتے ہیں جسے الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا آسان نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کینیڈا کا ہر موسم اپنی الگ شناخت، دلکشی اور انفرادیت رکھتا ہے۔
طویل فضائی سفر کی تھکن اس قدر غالب تھی کہ رات بستر پر لیٹتے ہی گہری نیند آ گئی تھی، اس لیے صبح تقریباً دس بجے آنکھ کھلی۔ تازہ دم ہونے کے بعد فاروق بھائی کے ساتھ مل کر ناشتہ تیار کیا۔ دودھ، دلیہ، انڈے، ڈبل روٹی اور سیب پر مشتمل یہ سادہ مگر صحت بخش ناشتہ دن کے خوشگوار آغاز کا سبب بنا۔ پردیس میں اپنوں کے ساتھ مل بیٹھ کر ناشتہ کرنا بھی ایک الگ لطف اور قلبی سکون کا احساس دلاتا ہے۔
ناشتے کے بعد فاروق بھائی ہمیں مسی ساگا کے مختلف تجارتی مراکز کی سیر کے لیے لے گئے۔ جدید طرزِ تعمیر سے آراستہ وسیع شاپنگ مالز، عالمی شہرت یافتہ برانڈز کے آؤٹ لیٹس، منظم بازار، کشادہ پارکنگ ایریاز اور خریداروں کی پررونق چہل پہل اس شہر کی مضبوط معاشی سرگرمیوں کی واضح تصویر پیش کر رہے تھے۔ ہر چیز میں ترتیب، صفائی اور نظم و ضبط نمایاں تھا۔ کچھ دیر سیر و سیاحت کے بعد ہم واپس گھر آگئے۔
دوپہر کے کھانے میں فاروق بھائی نے محبت سے آلو گوبھی کا سالن اور پاکستان سے اپنے ساتھ لائی ہوئی چکن کڑاہی گرم کرکے دسترخوان سجایا۔ پردیس میں وطن کے ذائقے صرف بھوک ہی نہیں مٹاتے بلکہ دل کو بھی وطن کی یادوں سے بھر دیتے ہیں۔ سب نے مل بیٹھ کر کھانا کھایا اور بعد ازاں نمازِ ظہر قصر ادا کی۔ یہ لمحات اس احساس کو مزید گہرا کر رہے تھے کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں انسان اپنوں کے ساتھ ہو تو اجنبیت بہت حد تک ختم ہو جاتی ہے۔
اسی دوران فاروق مامجی بھائی کے کزن سلیم بھائی بھی تشریف لے آئے۔ ان کے ساتھ ایک بار پھر شہر کی سیر کے لیے روانگی ہوئی۔ مختلف شاہراہوں سے گزرتے ہوئے ہم ایک بڑے صنعتی علاقے میں پہنچے، جہاں وسیع و عریض ویئر ہاؤسز، جدید صنعتی مراکز اور منظم لاجسٹک نظام کینیڈا کی مضبوط تجارتی اور صنعتی معیشت کا عملی منظر پیش کر رہے تھے۔ سلیم بھائی مختصر ملاقات کے لیے اندر چلے گئے جبکہ ہم گاڑی میں بیٹھے اردگرد کے منظم ماحول، صاف ستھری سڑکوں اور صنعتی سرگرمیوں کا خاموشی سے مشاہدہ کرتے رہے۔
اسی دوران ہمارے ہم سفر عمران بھائی بھی اس خوبصورت سفر کے ہر یادگار لمحے کو اپنے کیمرے میں محفوظ کرنے میں مصروف رہے۔ گاڑی کی کھڑکی سے نظر آنے والی بلند و بالا عمارتیں، خوبصورت پل، جدید تعمیرات، تاریخی عمارات اور شہر کے مختلف لینڈ مارکس ان کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔ وہ مسلسل تصاویر بناتے رہے تاکہ سفر کے یہ حسین مناظر صرف یادوں ہی میں نہیں بلکہ تصویروں کی صورت میں بھی ہمیشہ زندہ رہیں۔ بسا اوقات ایک تصویر وہ کہانی بیان کر دیتی ہے جسے الفاظ بھی مکمل طور پر ادا نہیں کر سکتے۔
کچھ دیر بعد سفر دوبارہ شروع ہوا اور اس مرتبہ ہماری منزل تھی اولڈ ٹورنٹو، جسے کینیڈا کی تاریخ، تہذیب اور ثقافت کا دل کہا جاتا ہے۔ فاروق بھائی اور سلیم بھائی ہمیں اس تاریخی علاقے کی سیر کرانے لے جا رہے تھے۔ جیسے جیسے ہم جدید شاہراہوں سے نکل کر قدیم شہر کی حدود میں داخل ہوتے گئے، شہر کی فضا، طرزِ تعمیر اور ماحول میں ایک واضح تبدیلی محسوس ہونے لگی۔ یوں لگتا تھا جیسے جدید کینیڈا سے نکل کر تاریخ کی کسی پُرسکون گزرگاہ میں داخل ہو گئے ہوں۔
اولڈ ٹورنٹو کی بنیاد اٹھارہویں صدی کے آخری عشرے، یعنی 1790ء کی دہائی میں رکھی گئی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے جدید ٹورنٹو کی ترقی کا سفر شروع ہوا۔ آج بھی اس علاقے کی تاریخی عمارتیں، پتھروں سے بنی گلیاں، قدیم گرجا گھر، محفوظ ورثہ اور کلاسیکی طرزِ تعمیر کینیڈا کے ماضی کی روشن داستان سناتے ہیں، جبکہ ان ہی بنیادوں پر کھڑا جدید ٹورنٹو ایک ترقی یافتہ، متحرک اور عالمی شہر کی صورت میں دنیا کے سامنے اپنی الگ شناخت رکھتا ہے۔
اولڈ ٹورنٹو کی سیر کے دوران بار بار یہ احساس ابھرتا رہا کہ ترقی یافتہ قومیں اپنی تاریخ کو بوجھ نہیں سمجھتیں، نہ ہی اسے وقت کی گرد میں گم ہونے دیتی ہیں، بلکہ اسے اپنی تہذیبی شناخت کا سرمایہ بنا کر نہ صرف محفوظ رکھتی ہیں بلکہ آنے والی نسلوں تک فخر کے ساتھ منتقل بھی کرتی ہیں۔ شاید یہی وہ شعور ہے جو کسی بھی قوم کو اس کے ماضی سے جوڑتے ہوئے مستقبل کی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے





