کچھ سفر محض ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچنے کا نام نہیں ہوتے، بلکہ انسان کی سوچ، مشاہدے اور تجربات کے نئے دریچے وا کر دیتے ہیں۔ ایسے ہی سفر زندگی کے افق کو وسیع کرتے اور انسان کو مختلف تہذیبوں، معاشروں اور ثقافتوں سے روشناس کراتے ہیں۔

جمعہ، 3 جولائی، علی الصبح جب گھڑی نے 3 بج کر 50 منٹ کا وقت بتایا تو میں اپنے عزیز دوست عمران احمد کے ہمراہ کراچی کے قائداعظم انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر موجود تھا۔ قطر ایئرویز کی پرواز QR-605 ہمیں دوحہ لے جانے کے لیے تیار کھڑی تھی۔ امیگریشن اور دیگر کارروائیوں سے فراغت کے بعد جب جہاز نے رن وے پر رفتار پکڑی اور چند لمحوں بعد کراچی کی روشنیاں نیچے سمٹتی چلی گئیں تو دل میں خوشی، تجسس اور ایک انجانی دنیا کو قریب سے دیکھنے کی خواہش بیدار ہو چکی تھی۔

ہمارا پہلا پڑاؤ قطر کا جدید ترین حماد انٹرنیشنل ایئرپورٹ تھا، جہاں کراچی سے تقریباً دو گھنٹے کی پرواز کے بعد پہنچے۔ چار گھنٹے کے قیام کے دوران اس عالمی ہوائی اڈے کی شاندار طرزِ تعمیر، نظم و ضبط، جدید سہولتیں اور دنیا بھر سے آنے والے مسافروں کا ہجوم اس کی بین الاقوامی اہمیت کا عملی مظہر دکھائی دیا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے دنیا کے مختلف رنگ ایک ہی چھت تلے جمع ہو گئے ہوں۔ بعدازاں گیٹ C9 سے ٹورنٹو جانے والی پرواز میں سوار ہوئے۔ اگرچہ روانگی مقررہ وقت سے کچھ تاخیر سے ہوئی، لیکن فضاؤں میں تیرہ گھنٹے کا طویل سفر خاموشی، انتظار اور مسلسل بدلتے ہوئے موسموں کا سفر بھی تھا۔ کبھی بادلوں کا سمندر نیچے دکھائی دیتا، کبھی سورج کی کرنیں فضاؤں کو سنہرا رنگ دیتیں اور کبھی نیچے برف سے ڈھکے بے آباد علاقے حیرت میں ڈال دیتے بالآخر مقامی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بج کر 14 منٹ پر جہاز نے ٹورنٹو پیئرسن انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رن وے کو چھوا۔ اس لمحے یوں محسوس ہوا جیسے ایک طویل خواب حقیقت میں ڈھل گیا ہو۔ زمین تو نئی تھی، مگر احساس یہی تھا کہ اب ایک ایسے سفر کا آغاز ہونے جا رہا ہے جس میں ہر دن ایک نئی کہانی، ہر شہر ایک نیا باب اور ہر ملاقات ایک نیا تجربہ ثابت ہوگی۔امیگریشن اور کسٹمز کی تمام کارروائیاں مکمل کرکے جب ہم ایئرپورٹ سے باہر نکلے تو ہمارے میزبان ڈاکٹر فاروق مامجی بھائی اپنے کزن سلیم بھائی کے ہمراہ پرتپاک استقبال کے لیے موجود تھے۔ دیارِ غیر میں اپنوں کے مسکراتے ہوئے چہرے مسافر کی تمام تھکن لمحوں میں دور کر دیتے ہیں۔ ہمیں بھی یہی خوشگوار احساس نصیب ہوا۔ محبت بھرے استقبال کے بعد تقریباً انیس کلومیٹر کا سفر طے کرکے ہم مسی ساگا میں واقع فاروق بھائی کی رہائش گاہ پہنچے، جہاں پرتکلف ضیافت اور مختصر آرام کے بعد ہماری کینیڈا میں پہلی شام کا آغاز ایک یادگار منظر سے ہوا۔یہ ہزاروں میل کا سفر صرف ایک ملک تک پہنچنے کا نہیں تھا بلکہ ایک ایسے معاشرے کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی ابتدا تھی جسے دنیا قانون کی حکمرانی، امن، ترقی، کثیرالثقافتی ہم آہنگی اور اعلیٰ معیارِ زندگی کی مثال کے طور پر پیش کرتی ہے۔

کینیڈا کا نام قدیم ایروکوا (Iroquois) زبان کے لفظ “کاناٹا” (Kanata) سے ماخوذ ہے، جس کے معنی “گاؤں” یا “آبادی” کے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہی لفظ دنیا کے دوسرے بڑے ملک کی شناخت بن گیا۔

تقریباً 9.98 ملین مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا کینیڈا رقبے کے اعتبار سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک اور شمالی امریکہ کا شمالی ترین خطہ ہے۔ مشرق سے مغرب تک اس کی وسعت تقریباً ساڑھے سات ہزار کلومیٹر ہے، اسی لیے یہاں چھ مختلف ٹائم زون رائج ہیں۔ مشرق میں بحرِ اوقیانوس، مغرب میں بحرالکاہل اور شمال میں بحرِ منجمد شمالی اس کی سرحدوں کو چھوتے ہیں، جبکہ جنوب میں امریکہ کے ساتھ دنیا کی طویل ترین غیر فوجی سرحد قائم ہے۔ اسی جغرافیائی وسعت نے کینیڈا کو اس کا خوبصورت قومی شعار عطا کیا: “سمندر سے سمندر تک” (From Sea to Sea)۔

مورخین کے مطابق تقریباً چودہ ہزار برس قبل ایشیا سے آنے والے اولین باشندوں نے اس سرزمین کو اپنا مسکن بنایا۔ صدیوں تک یہی لوگ یہاں کے اصل وارث رہے، مگر سولہویں صدی میں فرانسیسی اور بعدازاں برطانوی آبادکاروں کی آمد نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔ طویل سیاسی کشمکش کے بعد برطانیہ غالب آیا اور 1867ء میں چار صوبوں کے اتحاد سے جدید کینیڈا وجود میں آیا۔ سر جان اے میکڈونلڈ اس نئے وفاق کے پہلے وزیر اعظم بنے، جبکہ وقت کے ساتھ دیگر صوبے بھی اس اتحاد میں شامل ہوتے گئے۔ آج کینیڈا دس صوبوں اور تین علاقوں پر مشتمل ایک مضبوط وفاق ہے۔ اگرچہ 1982ء میں اسے مکمل آئینی خودمختاری حاصل ہوئی، تاہم آئینی بادشاہت کے نظام کے تحت برطانوی بادشاہ اب بھی ریاست کے رسمی سربراہ ہیں۔

آج کینیڈا کی آبادی چار کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس کا دارالحکومت اوٹاوا ہے، جبکہ ٹورنٹو، مونٹریال اور وینکوور دنیا کے ممتاز اور ترقی یافتہ شہروں میں شمار ہوتے ہیں۔ کیوبیک رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے، جبکہ اونٹاریو سب سے زیادہ آبادی کا حامل ہے۔

قدرت نے اس سرزمین کو بے پناہ وسائل سے نوازا ہے۔ پٹرولیم، قدرتی گیس، معدنیات، سونا، زرعی پیداوار، جدید صنعت اور آٹوموبائل سازی کینیڈا کی معیشت کے مضبوط ستون ہیں۔ یہاں انگریزی اور فرانسیسی دونوں سرکاری زبانیں ہیں، مگر اس ملک کی اصل شناخت اس کا کثیرالثقافتی معاشرہ ہے، جہاں دنیا کے تقریباً ہر خطے سے آنے والے لوگ اپنی زبان، تہذیب اور روایات کو برقرار رکھتے ہوئے باہمی احترام اور قانون کی پاسداری کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔