کراچی کی تعلیمی تاریخ میں خواتین کے لیے قائم کیے جانے والے اداروں کا ذکر کیا جائے تو اپوا گرلز کالج ایک نمایاں اور قابلِ احترام مقام رکھتا ہے۔ یہ ادارہ محض ایک کالج نہیں بلکہ کراچی میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم کے فروغ، معاشرتی شعور کی بیداری اور نئی نسل کی تربیت کے عزم کی ایک روشن علامت ہے۔ اس کے قیام نے ایسے دور میں طالبات کے لیے اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھولے جب شہر میں لڑکیوں کے لیے کالجوں کی تعداد آبادی اور تعلیمی ضروریات کے مقابلے میں نہایت کم تھی۔
قیامِ پاکستان کے ابتدائی برسوں میں کراچی تیزی سے ترقی کرتا ہوا ایک بڑے شہری مرکز میں تبدیل ہو رہا تھا۔ ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے خاندانوں کی آباد کاری کے باعث شہر کی آبادی میں نمایاں اضافہ ہوا اور اس کے ساتھ تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولتوں کی ضرورت بھی بڑھتی گئی۔ خواتین کی تعلیم اس دور کے اہم مسائل میں شامل تھی۔
اس زمانے میں کراچی کی ایک بڑی آبادی کے لیے لڑکیوں کا صرف ایک سنٹرل گورنمنٹ کالج برائے خواتین موجود تھا۔ طالبات کی تعداد بڑھنے کے باعث کالج میں داخلے بہت جلد مکمل ہوجاتے تھے۔ نتیجتاً بہت سی طالبات اعلیٰ تعلیم کے حصول سے محروم رہ جاتی تھیں۔ بعض لڑکیوں کو مجبوری کے تحت لڑکوں کے کالجوں میں داخلہ لینا پڑتا، جبکہ بہت سی طالبات کو تعلیم کا سلسلہ ہی ترک کرکے گھر بیٹھ جانا پڑتا تھا۔
یہ صورتِ حال اس امر کی متقاضی تھی کہ کراچی میں خواتین کے لیے مزید معیاری تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں، جہاں طالبات کو محفوظ، باوقار اور سازگار ماحول میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع میسر آسکیں۔
اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن (APWA) نے خواتین کی تعلیم کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے۔ اس تنظیم کی بانی اور تحریکِ پاکستان کی ممتاز خاتون رہنما بیگم رعنا لیاقت علی خان نے خواتین کو معاشرے کا فعال اور تعلیم یافتہ حصہ بنانے کے لیے زندگی بھر جدوجہد کی۔
اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی اپوا گرلز کالج فیڈرل بی ایریاکا قیام تھا۔ بیگم رعنا لیاقت علی خان نے 16 اگست 1954ء کو شاہراہ پاکستان پر واقع اپواگرلز کالج کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ یوں کراچی میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے ایک نئے دور کا آغاز ہوا
کالج کی پہلی پرنسپل کے طور پر رحمانی بیگم حسان کا تقرر کیا گیا۔ ان کی سربراہی میں ادارے نے اپنے ابتدائی مراحل طے کیے اور تعلیمی سرگرمیوں کو منظم بنیادوں پر آگے بڑھایا۔
کالج کے قیام کے بعد انتظامیہ نے یہ محسوس کیا کہ طالبات کو محض عمومی تعلیم تک محدود رکھنے کے بجائے سائنس اور جدید علوم کی تعلیم کے مواقع بھی فراہم کیے جانے چاہئے۔ چنانچہ جولائی 1955ء میں کالج میں شعبۂ سائنس شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
شعبۂ سائنس کے قیام کے لیے تقریباً دو لاکھ روپے مالیت کے سائنسی آلات امریکہ، جرمنی اور انگلستان سے منگوائے گئے۔ اس اقدام سے اندازہ ہوتا ہے کہ ادارے کے منتظمین خواتین کی تعلیم کو محض رسمی تعلیم تک محدود رکھنے کے بجائے اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا چاہتے تھے۔ شعبۂ سائنس کے لیے نئے تدریسی عملے کی تقرریاں بھی عمل میں آئیں، جس سے کالج کی علمی اور تعلیمی استعداد میں مزید اضافہ ہوا۔
اسی سال کالج کی مجلسِ ناظران، یعنی گورننگ باڈی، کے عہدیداران اور اراکین کا انتخاب بھی عمل میں آیا۔ اس مجلس میں بیگم رحمت اللہ کو صدر، بیگم صوفی کو معتمد، بیگم شاہنواز کو خازن اور بیگم شفیع کو شریکِ خازن منتخب کیا گیا، جبکہ بیگم چودھری محمد علی اور بیگم منور علی مجلس کے ارکان میں شامل تھیں۔
کراچی یونیورسٹی کی جانب سے ڈاکٹر مجتبیٰ کریم اور ڈاکٹر امیر حسن کو بھی کالج کی گورننگ باڈی میں نمائندہ مقرر کیا گیا۔ اس طرح کالج کے انتظامی معاملات میں نہ صرف APWA بلکہ جامعہ کراچی کی علمی سرپرستی بھی شامل ہوگئی
بیگم صوفی کا کردار بھی خاص طور پر قابلِ ذکر تھا۔ وہ کالج کے قیام کے سلسلے میں سرگرم بانی شخصیات میں شامل تھیں اور APWA کی سیکرٹری کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہی تھیں۔ ان کی انتظامی صلاحیتوں اور تعلیمی وابستگی نے ادارے کی ابتدائی ترقی میں اہم کردار ادا کیا
اپوا گرلز کالج نے اپنے قیام کے بعد بہت تیزی سے ترقی کی۔ چند ہی برسوں میں یہ ادارہ کراچی کی طالبات کے لیے اعلیٰ تعلیم کا ایک اہم مرکز بن گیا۔ کالج میں طالبات کی تعداد میں مسلسل اضافہ اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ اس ادارے کی شہر کو کس قدر ضرورت تھی
کالج کے قیام کے بعد یہاں تقریباً گیارہ سو طالبات تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ یہ تعداد اس دور کے لحاظ سے غیر معمولی اہمیت رکھتی تھی۔ اس سے نہ صرف ادارے کی مقبولیت کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ کراچی میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم کے لیے طلب کس قدر بڑھ چکی تھی۔
یہ طالبات مختلف تعلیمی شعبوں میں تعلیم حاصل کرکے آگے بڑھیں اور عملی زندگی کے مختلف میدانوں میں اپنا کردار ادا کیا۔ یوں اپوا گرلز کالج نے صرف طالبات کو اسناد فراہم نہیں کیں بلکہ ان میں خود اعتمادی، شعور اور معاشرتی ذمہ داری کا احساس بھی پیدا کیا۔
وقت کے ساتھ ساتھ کالج نے بدلتے ہوئے تعلیمی تقاضوں کے مطابق اپنے پروگراموں میں وسعت پیدا کی۔ 1992ء میں بی ایس سی (B.Sc
) کی کلاسوں کا آغاز کیا گیا، جس سے سائنس کی اعلیٰ تعلیم کے لیے طالبات کے مواقع مزید وسیع ہوئے۔
بعد ازاں 2000ء میں آئی سی ایس (ICS) کی کلاسز بھی شروع کی گئیں۔ کمپیوٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر یہ قدم خاص اہمیت کا حامل تھا۔ اس طرح کالج نے روایتی تعلیمی شعبوں کے ساتھ جدید سائنسی اور ٹیکنالوجیکل تعلیم کو بھی اپنے دائرۂ کار میں شامل کیا
وقت کے ساتھ ادارے نے مزید ترقی کی اور مختلف مضامین میں ڈگری پروگرامز کا آغاز کیا۔ یوں 1954ء میں ایک محدود تعلیمی ضرورت پوری کرنے کے لیے قائم ہونے والا ادارہ رفتہ رفتہ خواتین کی اعلیٰ تعلیم کا ایک وسیع اور اہم مرکز بن گیا۔
اپوا گرلز کالج کی تاریخ کو محض ایک تعلیمی ادارے کی تاریخ سمجھنا اس کے حقیقی کردار کو محدود کرنا ہوگا۔ دراصل یہ ادارہ اس وسیع تر سماجی تحریک کا حصہ تھا جس کا مقصد پاکستانی خواتین کو تعلیم، شعور اور خود اعتمادی سے آراستہ کرنا تھا
1950ء کی دہائی میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم کے لیے مواقع آج کے مقابلے میں نہایت محدود تھے۔ ایسے ماحول میں ایک باقاعدہ گرلز کالج کا قیام خود ایک ترقی پسند قدم تھا۔ اس ادارے نے والدین کو اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کا اعتماد دیا اور طالبات کو یہ احساس فراہم کیا کہ وہ بھی علم کے میدان میں آگے بڑھ کر ملک و معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اپوا گرلز کالج کی تاریخ کراچی کی سماجی اور تعلیمی تاریخ سے جدا نہیں کی جاسکتی۔ اس ادارے کے ذریعے متعدد خاندانوں کی بیٹیوں کو وہ مواقع میسر آئے جو اس سے قبل محدود وسائل اور تعلیمی اداروں کی کمی کے باعث ان کی دسترس سے باہر تھے۔
اپوا گرلز کالج کے قیام کے پس منظر میں بیگم رعنا لیاقت علی خان اور APWA کی خواتین کی خدمات کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ انہوں نے اس حقیقت کو محسوس کیا کہ ایک ترقی پذیر ملک کی تعمیر صرف مردوں کی تعلیم سے ممکن نہیں؛ خواتین کو بھی تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنا ضروری ہیں۔
1954ء میں شروع ہونے والا یہ سفر کئی دہائیوں پر محیط ہوچکا ہے۔ شعبۂ سائنس کا قیام، جدید سائنسی آلات کی فراہمی، جامعہ کراچی کے نمائندوں کی شمولیت، بی ایس سی اور آئی سی ایس جیسے پروگراموں کا آغاز اور بعد ازاں مختلف ڈگری پروگرامز کا اجرا اس ادارے کے مسلسل ارتقا کی علامت ہیں۔
آج جب خواتین اعلیٰ تعلیم کے مختلف شعبوں میں طب، سائنس، تدریس، تحقیق، انتظامیہ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر میدانوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں تو ایسے اداروں کی تاریخی خدمات مزید نمایاں ہوجاتی ہیں جنہوں نے اس سفر کی ابتدائی بنیادیں مضبوط کیں۔
اپوا گرلز کالج کراچی کی داستان دراصل ایک ایسے عزم کی داستان ہے جو خواتین کو تعلیم کے ذریعے بااختیار بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔
اپوا گرلز کالج اسی جدوجہد کی ایک زندہ یادگار ہےایک ایسا تعلیمی چراغ جسے خواتین کی تعلیم کے فروغ کے لیے روشن کیا گیا اور جس کی روشنی کئی نسلوں تک پھیلتی رہی





