کراچی کی تاریخ صرف عمارتوں، بازاروں اور سیاسی واقعات تک محدود نہیں بلکہ یہ شہر ایسی شخصیات کی جائے پیدائش بھی رہا ہے جنہوں نے دنیا کے مختلف میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہی میں ایک نام پیٹر بوڈنگٹن کا بھی ہے، جو اگرچہ برطانیہ میں اپنی باکسنگ مہارت کی وجہ سے مشہور ہوئے، لیکن ان کی پیدائش کراچی کے قلب، صدر کے علاقے میں ہوئی تھی۔
پیٹر بوڈنگٹن یکم اکتوبر 1942ء کو فریئر اسٹریٹ پر واقع بنگلہ نمبر 215، ای آئی لائنز (موجودہ ڈاکٹر داؤد پوٹا روڈ) میں پیدا ہوئے۔ اس زمانے میں کراچی برطانوی ہندوستان کا اہم تجارتی اور عسکری مرکز تھا۔ بدقسمتی سے کراچی کے ماضی کی متعدد تاریخی عمارتوں اور رہائش گاہوں کی طرح یہ مکان بھی وقت کی گرد میں اپنی اصل شناخت کھو چکا ہے، تاہم اس کی تصاویر آج بھی ماضی کی یاد دلاتی ہیں۔
پیٹر ایک برطانوی فوجی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور چار بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کے والد کیپٹن تھامس بوڈنگٹن رائل انڈین آرمی سروس کور میں خدمات انجام دیتے تھے، جبکہ والدہ ڈوروتھی مے پہلی بٹالین ایسیکس رجمنٹ کے ایک سارجنٹ کی صاحبزادی تھیں، جو بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں تعینات رہے تھے۔
1947ء کی تقسیم ہند اور برصغیر میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے بعد 1948ء میں ان کا خاندان انگلینڈ کے شہر کوونٹری منتقل ہوگیا۔ اس وقت پیٹر کی عمر صرف چھ برس تھی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ برطانیہ پہنچنے کے بعد وہ صرف اردو زبان بول سکتے تھے اور انہیں انگریزی سیکھنے میں خاصی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم اپنی محنت اور ذہانت کے بل بوتے پر انہوں نے جلد ہی انگریزی زبان پر عبور حاصل کر لیا، اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ اردو زبان ان کی یادداشت سے دھندلا گئی۔
کوونٹری کا وہ دور دوسری جنگ عظیم کے بعد تعمیرِ نو کا زمانہ تھا۔ شہر جرمن بمباری کے نتیجے میں شدید تباہی کا شکار ہوا تھا اور نئی صنعتی سرگرمیوں، خصوصاً آٹوموبائل صنعت، کے ذریعے دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا ہو رہا تھا۔ ایسے ماحول میں پروان چڑھنے والے پیٹر نے وائٹلی ایبی کمپری ہینسو اسکول میں تعلیم حاصل کی اور کھیلوں میں غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ رگبی اور جوڈو میں نمایاں کارکردگی کے بعد ان کی اصل شناخت باکسنگ کے میدان میں بنی۔
1967ء ان کی زندگی کا یادگار سال ثابت ہوا۔ اسی برس انہوں نے امیچور باکسنگ ایسوسی ایشن (ABA) کی چیمپئن شپ جیتی اور یورپی امیچور باکسنگ چیمپئن شپ میں برطانوی ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ ان کامیابیوں نے انہیں برطانیہ کے ممتاز ہیوی ویٹ باکسرز کی صف میں لاکھڑا کیا۔
ستمبر 1967ء میں معروف ٹرینر ٹیری لا لیس کی نگرانی میں انہوں نے پیشہ ورانہ باکسنگ کا آغاز کیا۔ اپنے مختصر مگر شاندار کیریئر میں انہوں نے 22 مقابلے لڑے جن میں 18 فتوحات حاصل کیں، جبکہ ان میں سے 15 کامیابیاں ناک آؤٹ کے ذریعے تھیں۔ ان کے طاقتور مکوں اور جارحانہ انداز نے انہیں شائقین میں بے حد مقبول بنا دیا۔
تاہم قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔ 1972ء میں کمر کی شدید چوٹ نے ان کے ابھرتے ہوئے کیریئر کا خاتمہ کر دیا۔ پیچیدہ سرجری کے باوجود یہ تکلیف ان کے ساتھ زندگی بھر رہی اور انہیں قبل از وقت ریٹائرمنٹ اختیار کرنا پڑی۔
باکسنگ سے کنارہ کشی کے بعد بھی پیٹر بوڈنگٹن کی زندگی سرگرمیوں سے بھرپور رہی۔ انہوں نے تعمیراتی صنعت میں کام کیا، جادوگروں کی عالمی شہرت یافتہ تنظیم “میجک سرکل” کی رکنیت حاصل کی اور کوونٹری کی مختلف سماجی و فلاحی تنظیموں، خصوصاً راؤنڈ ٹیبل، کے ذریعے عوامی خدمت انجام دی۔ انہیں ایک ایسے باوقار اور خوش مزاج انسان کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جس کے مکے میں ہیوی ویٹ باکسر کی طاقت اور شخصیت میں ایلوس پریسلے جیسی کشش موجود تھی۔
زندگی کے آخری برسوں میں وہ کینسر کے مرض میں مبتلا رہے اور کیموتھراپی کے مراحل سے گزرے۔ 2021ء میں COVID-19 سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث 78 برس کی عمر میں ان کا انتقال ہوگیا۔ وہ اپنے دو بچوں اور ایک ایسی میراث کو چھوڑ گئے جو برطانیہ کی باکسنگ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
پیٹر بوڈنگٹن کی داستان اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ کراچی صرف ایک شہر نہیں بلکہ تہذیبوں، ثقافتوں اور عالمی شخصیات کی جنم بھومی بھی رہا ہے۔ صدر کراچی کی ایک گمنام عمارت سے نکلنے والی یہ کہانی برطانوی باکسنگ کے رنگ تک جا پہنچتی ہے اور ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اس شہر کی مٹی میں کتنی ایسی داستانیں دفن ہیں جو دریافت کیے جانے کی منتظر ہیں




