Latest Article

Article: نصف صدی بعد لوٹتی ہوئی ایک تاریخی سواری

نصف صدی بعد لوٹتی ہوئی ایک تاریخی سواری

پاکستان کے ابتدائی برسوں میں جب کراچی نومولود مملکت کا دارالحکومت اور ترقی کا مرکز تھا، اُس وقت شہر کی سڑکوں پر برطانوی طرز کی سرخ ڈبل ڈیکر بسیں اپنی شان کے ساتھ رواں دواں نظر آتی تھیں۔ 1950ء اور 1960ء کی دہائی میں یہ بسیں صرف ایک سفری ذریعہ نہیں بلکہ کراچی کی شناخت، ثقافت اور شہری زندگی کی علامت سمجھی جاتی تھیں۔
1951ء میں اومنی بس سروس (LOS) نے کراچی اور لاہور میں باضابطہ طور پر Leyland ڈبل ڈیکر بسیں متعارف کروائیں۔ جلد ہی یہ بسیں شہریوں کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔ ان کا سب سے مشہور روٹ نمبر 48 تھا جو کیماڑی سے جامع کلاتھ مارکیٹ تک چلتا تھا۔ اس کے علاوہ صدر، بندر روڈ (موجودہ ایم اے جناح روڈ)، آئی آئی چندریگر روڈ اور شہر کی دیگر اہم شاہراہیں بھی ان بسوں کی آمدورفت سے آباد رہتی تھیں۔
1954ء کے کراچی کی تصاویر آج بھی گواہی دیتی ہیں کہ ریگل چوک، صدر، جامع کلاتھ مارکیٹ اور بندر روڈ پر ڈبل ڈیکر بسوں کا راج تھا۔ روزانہ ہزاروں شہری ان بسوں کے ذریعے اپنے دفاتر، تعلیمی اداروں اور کاروباری مراکز تک پہنچتے تھے۔ خاص طور پر اوپری منزل پر بیٹھ کر سفر کرنا نوجوانوں، طلبہ اور بچوں کے لیے ایک یادگار تجربہ سمجھا جاتا تھا جہاں سے پورا شہر ایک منفرد زاویے سے دکھائی دیتا تھا۔
کراچی روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (KRTC) کے زیر انتظام چلنے والی یہ بسیں کئی دہائیوں تک شہری زندگی کا حصہ رہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ انتظامی کمزوریوں، دیکھ بھال کے فقدان اور پبلک ٹرانسپورٹ کے زوال نے اس خوبصورت روایت کو بھی نگل لیا۔ 1960ء کی دہائی کے آخر اور پھر 1970ء کی دہائی تک یہ عظیم بیڑا آہستہ آہستہ سڑکوں سے غائب ہو گیا۔ یوں کراچی اپنی ایک ایسی شناخت سے محروم ہو گیا جو دنیا کے چند بڑے شہروں کی طرح اسے بھی منفرد بناتی تھی۔
تقریباً پینسٹھ برس بعد دسمبر 2025ء کے اختتام پر حکومت سندھ نے شہر میں جدید پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ کے ساتھ ڈبل ڈیکر بس سروس کو دوبارہ متعارف کرا کے کراچی کی ایک تاریخی یاد کو زندہ کر دیا۔ نصف صدی سے زائد عرصے کے بعد جب یہ بسیں دوبارہ سڑکوں پر آئیں تو بزرگ شہریوں کی آنکھوں میں ماضی کی حسین یادیں تازہ ہو گئیں، جبکہ نئی نسل نے پہلی بار اس تاریخی سواری کا تجربہ کیا۔
گزشتہ ماہ شاہراہِ بھٹو کی افتتاحی تقریب سے قبل صحافیوں کو بھی ڈبل ڈیکر بس میں خصوصی دورہ کرایا گیا۔ اس سفر نے ماضی اور حال کے درمیان ایک خوبصورت پل قائم کر دیا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کراچی اپنی کھوئی ہوئی پہچان دوبارہ حاصل کر رہا ہو اور تاریخ کے اوراق ایک بار پھر زندہ ہو گئے ہوں۔
ڈبل ڈیکر بسیں محض گاڑیاں نہیں بلکہ کراچی کی تہذیبی، سماجی اور تاریخی وراثت کا حصہ ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ یہ روایت محض چند بسوں تک محدود نہ رہے بلکہ ایک منظم اور پائیدار شہری ٹرانسپورٹ نظام کی بنیاد بنے، تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس شہر کی ان خوبصورت یادوں اور روایات سے جڑی رہ سکیں

Share this post :

Facebook
Twitter
LinkedIn

Author: شاہ ولی اللہ جنیدی

Articles
[pt_view id="5e22087ncy"]