Latest Article

Article: عالمی سطح پر کروڈ آئل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں تیل مہنگا کیو؟

عالمی سطح پر کروڈ آئل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں تیل مہنگا کیو؟

ایران اور امریکا کشیدگی نے جہاں دنیا بھر کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا، وہیں پاکستان بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں۔ تیل کی عالمی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں دیکھتے ہی دیکھتے پٹرولیم مصنوعات ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچیں۔ اس اضافے نے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھائے بلکہ مہنگائی کے ایک ایسے طوفان کو جنم دیا جس نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی، مڈل سکول کی کمر ٹوٹ گئی ہے جبکہ موٹر سائیکل چلانے والا طبقہ شدید متاثر ہے۔ جب تیل مہنگا ہوا تو ہر چیز مہنگی ہو گئی۔ سبزی، دال، آٹا، چینی، ٹرانسپورٹ کرایے—گویا کوئی شعبہ ایسا نہ بچا جس نے اس اضافے کا بوجھ عوام پر منتقل نہ کیا ہو۔ دکانداروں نے قیمتیں بڑھائیں، ٹرانسپورٹرز نے کرایے بڑھائے، اور صنعتکاروں نے پیداواری لاگت کا جواز بنا کر اشیاء مہنگی کر دیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ حکومت بتدریج پٹرول کی قیمتوں میں کمی کر رہی ہے، حالیہ طور پر بائیس روپے فی لیٹر کمی بھی کی گئی۔ بظاہر یہ ایک خوش آئند اقدام ہے، اور حکومت اسے اپنی کامیابی کے طور پر پیش بھی کر رہی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی عوام کو اس کا فائدہ مل رہا ہے؟ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ تیل سستا ہونے کے باوجود اشیائے ضروریہ کی قیمتیں جوں کی توں ہیں، بلکہ کئی جگہوں پر تو مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرایے کم نہیں ہوئے، سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں اپنی بلند سطح پر برقرار ہیں، اور روزمرہ استعمال کی اشیاء بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ یہ وہ خلا ہے جہاں حکومتی پالیسی اور زمینی حقیقت میں واضح فرق نظر آتا ہے۔ حکومت اگر پٹرول سستا کرنے کا کریڈٹ لے رہی ہے تو اسے یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ اس کمی کے اثرات براہِ راست عوام تک منتقل ہوں۔ صرف اعلان کافی نہیں، عملدرآمد ضروری ہے۔ یہاں پر متعلقہ اداروں کی کارکردگی بھی سوالیہ نشان ہے۔ پرائس کنٹرول کمیٹیاں، مارکیٹ کمیٹیاں اور ضلعی انتظامیہ آخر کس لیے ہیں؟ اگر قیمتوں کی نگرانی ان کا کام ہے تو پھر مارکیٹ میں من مانی کیوں جاری ہے؟ کیوں دکاندار اپنی مرضی کے نرخ وصول کر رہے ہیں؟ اور کیوں عوام کو ریلیف صرف خبروں تک محدود نظر آ رہا ہے؟۔ عوام کا مسئلہ سادہ ہے کہ جب تیل مہنگا ہوا تو ہر چیز مہنگی کر دی گئی، اب جب تیل سستا ہو رہا ہے تو وہی چیزیں سستی کیوں نہیں ہو رہیں؟ اگر اضافہ فوری منتقل ہو سکتا ہے تو کمی کیوں نہیں؟۔ یہ وقت ہے کہ حکومت صرف اعلانات سے آگے بڑھے اور عملی اقدامات کرے۔ سخت مانیٹرنگ، جرمانے، اور مارکیٹ میں مؤثر کنٹرول کے بغیر یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ورنہ “تیل سستا، زندگی مہنگی” کا یہ تضاد عوام کے غصے کو مزید بڑھاتا رہے گا۔ عوام کو صرف اعداد و شمار نہیں، حقیقی ریلیف چاہیے، وہ ریلیف جو ان کی روزمرہ زندگی میں محسوس ہو، نہ کہ صرف سرکاری بیانات میں۔

Share this post :

Facebook
Twitter
LinkedIn
[pt_view id="5e22087ncy"]