باڈھ، ڈوکری اور لاڑکانہ سٹی میں گزارے ہوئے چار دن کسی کرب، آزمائش اور ذہنی اذیت سے کم نہیں تھے۔ یہاں سب سے بڑا مسئلہ بجلی کی عدم دستیابی ہے۔ تین گھنٹے لوڈشیڈنگ کے بعد اگر بجلی آتی بھی ہے تو ہر دس منٹ بعد جھٹکے دیتی رہتی ہے، جس سے گھریلو الیکٹریکل اشیاء جلنا روز کا معمول بن چکا ہے۔ 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر گرمی ہو اور صورتحال یہ ہو تو سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ ریاست کہاں ہے؟
یقیناً لائن لاسز اور بجلی چوری کے مسائل بھی ہوں گے اور سیپکو حکام کے پاس بہت سے جواز بھی، مگر حقیقت یہی ہے کہ واپڈا افسران اور ملازمین نے بجلی چوری کا ایک منظم نیٹ ورک بچھا رکھا ہے۔ کسی امیر کے گھر سے گزرتے وقت کارروائیاں وائبریشن موڈ پر چلی جاتی ہیں، مگر کسی غریب کے گھر کو ٹارگٹ بنا کر ہر مہینے وصولیاں کی جاتی ہیں۔ ایئر کنڈیشنرز، ہیوی موٹرز اور دیگر کمرشل سرگرمیوں کے لیے پہلے معاملات طے ہوتے ہیں، پھر کسی بڑے افسر کے دورے سے پہلے کنڈوں کے تار اتر جاتے ہیں اور جاتے ہی دوبارہ لگ جاتے ہیں۔
24 مئی کو جب باڈھ پہنچا تو معلوم ہوا کہ 11000 لائن کے سات پولوں سے تار چوری ہو چکے ہیں۔ سمجھ نہیں آتی کہ مین روڈ کے ساتھ لگی بجلی کی لائن سے پولیس اور واپڈا لائن مین کی ملی بھگت کے بغیر چوری کیسے ممکن ہے؟ سات پولوں سے ہیوی تار اتارنا، لپیٹنا اور وہاں سے لے جانا تین سے چار گھنٹے کا کام ہے، پھر اس دوران کوئی کیوں نہ پہنچا؟ رسمی ایف آئی آر، نامعلوم افراد، اور قصہ ختم۔ چوروں کی عید ہو گئی۔ تار چوری کے بعد دو دن تک شہری بجلی سے محروم رہے۔
اب آتے ہیں منتخب نمائندوں کی طرف۔ ہمارے قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین، ان کے قریبی افراد اور یوسی چیئرمینز کے گھروں پر تو سرکاری عمارتوں کے بجٹ سے سولر پلانٹس لگ جاتے ہیں، اس لیے سخت گرمی میں بھی ان کے محل نما گھر اور اوطاقیں ٹھنڈی رہتی ہیں۔ مگر غریب کے لیے کسی کو فکر مند نہیں پایا۔
یہ سندھ کی بدقسمتی ہے یا منظم منصوبہ بندی کہ یہاں مافیاز کو برسوں سے دودھ پلایا جا رہا ہے۔ پہلے کسی گاؤں یا شہر میں ایک دو مالی طور پر خوشحال لوگ ہوتے تھے، مگر اب حرام کی کمائی سے ہر گلی محلے میں “بڑے لوگ” پیدا ہو چکے ہیں۔ 90 کی دہائی میں جب کراچی ہجرت کی تو کئی لوگ خالی ہاتھ تھے، آج وہی دونمبریوں کے ذریعے امیرزادے بن چکے ہیں۔ مجھے کسی کی ترقی پر اعتراض نہیں، اگر وہ محنت اور حلال کمائی سے حاصل کی گئی ہو۔
ریاست کی موجودگی کہیں محسوس نہیں ہوتی۔ کوئی ادارہ ایسا نہیں جو حرام سے امیر بننے والوں سے پوچھے کہ دولت کہاں سے آئی؟ بجلی کی وصولی اپنی جگہ، پولیس کی وصولیاں بھی عروج پر ہیں۔ ہر چھوٹے بڑے شہر میں جرائم منظم انداز میں پل رہے ہیں اور پولیس ان کی سرپرست بنی ہوئی ہے۔ جب ایس ایچ اوز مقامی وڈیروں کی سفارش پر مقرر ہوں گے تو پولیس خادم نہیں، مافیا ہی بنے گی۔
اسکولوں کے اساتذہ حد سے زیادہ سیاست میں ملوث ہیں۔ گسٹا، اپکا، پ ٹ الف سمیت کئی تنظیموں میں وڈیروں کے منظورِ نظر لوگ بیٹھے ہیں۔ رشوت کا بازار گرم ہے۔ کل ایک نوجوان ملا جو ڈزیز کوٹہ کی ملازمت کا منتظر تھا، اس نے بتایا کہ صرف کاغذات تیار کروانے کے لیے ایک کلرک نے اس سے پچاس ہزار روپے “عیدی” وصول کی۔ نہ خوف، نہ احساس، نہ احتساب۔ مرحومین کے نام پر پینشن کرپشن آج بھی ٹریژری میں جاری ہے۔
سندھ پبلک سروس کمیشن کی دوکان سے کئی نااہل، کرمنل مائنڈ نوجوان حرام کی کمائی یا سیاسی کوٹے پر نوکریاں حاصل کر چکے ہیں۔
پیٹرول پمپوں پر تین چار روپے فی لیٹر اضافی وصولی معمول بن چکی ہے، اس کے ساتھ ڈنڈی اور غیرمعیاری پیٹرول الگ۔ موبائل انٹرنیٹ تو بھول ہی جائیں۔ تمام کمپنیاں صرف وصولی کر رہی ہیں، سروس کہیں نہیں۔
واقعی لاڑکانہ بدل گیا ہے…
اور بھی بہت کچھ لکھنے کو ہے، جلد لکھوں گا۔
فی الحال اتنا ہی کافی ہے۔
