گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی برصغیر کی فضا میں ایک عجیب سی مٹھاس گھلنے لگتی ہے۔ بازاروں میں رنگ بکھر جاتے ہیں، باغات میں رونق اتر آتی ہے، اور دلوں میں ایک خوشگوار انتظار جاگ اٹھتا ہے۔
یہ انتظار کسی عام پھل کا نہیں بلکہ اُس نعمتِ خداوندی کا ہوتا ہے جسے دنیا ’’پھلوں کا بادشاہ‘‘ کہتی ہے ۔آم محض ایک پھل نہیں بلکہ برصغیر کی تہذیب، ذائقے اور موسمِ گرما کی دلکش روایت کا استعارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس لذیذ نعمت میں بے شمار فوائد رکھے ہیں۔ گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی جس پھل کا انتظار بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں کو یکساں شدت سے رہتا ہے، وہ آم ہی ہے۔ اس کی خوشبو، مٹھاس اور رس گھروں، بازاروں اور دلوں میں ایک خاص سی تازگی بھر دیتے ہیں۔ پاکستان کو دنیا بھر میں اعلیٰ معیار کے آموں کی پیداوار کے حوالے سے نمایاں مقام حاصل ہے، جبکہ ہندوستان بھی اس میدان میں ممتاز شمار ہوتا ہے۔ برصغیر پاک و ہند کی تاریخ، ثقافت، شاعری اور معاشرت میں آم کو جو مقام حاصل ہے، شاید ہی کسی اور پھل کو نصیب ہوا ہو۔ ہندوستان کے قدیم ترین پھلوں میں شمار ہونے والا آم صدیوں سے انسان کے ذوق، ذائقے اور جذبات کا حصہ چلا آ رہا ہے۔
مقدس ویدوں میں آم کا ذکر عقیدت سے کیا گیا ہے اور قدیم ہندوستان میں یہ دیوی دیوتاؤں کے حضور نذرانے کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ اسی باعث آم کو ایک مقدس اور مبارک پھل تصور کیا جاتا رہا۔
تاریخی حوالوں کے مطابق آم کی کاشت کا آغاز تقریباً چار ہزار برس قبل ہندوستان میں ہوا۔ بعدازاں اس کی خوشبو اور لذت نے سرحدیں عبور کیں اور یہ پھل برما، آسام، بنگلہ دیش اور ملائیشیا سے ہوتا ہوا یورپ تک جا پہنچا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چینی سیاح ہیون سانگ نے پہلی بار آم کو ہندوستان سے باہر متعارف کرایا۔ یورپ میں اگرچہ آم پندرہویں صدی میں پہنچ چکا تھا، مگر اس کی باقاعدہ کاشت سترہویں صدی میں شروع ہوئی۔برصغیر کی تاریخ میں مغلیہ دور کو آم کی سرپرستی کا عہد کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔مغل شہنشاہوں کے دربار سے لے کر عوامی دسترخوان تک، آم ہمیشہ محبت، نزاکت اور ذوقِ زندگی کی علامت رہا۔کہتے ہیں کہ شہنشاہ اکبر نے بہار کے دربھنگہ کے قریب ایک عظیم الشان باغ تعمیر کروایا تھا جسے ’’لاکھ باغ‘‘ کہا جاتا تھا۔ اس باغ میں ایک لاکھ آم کے درخت سایہ فگن تھے، گویا زمین پر سبز خوشبو کا ایک سمندر آباد کردیا گیا ہو۔ اکبر کے نزدیک آم محض ایک پھل نہ تھا بلکہ سلطنت کی رونق اور قدرت کے حسن کا استعارہ تھا۔شاہجہان کی آموں سے محبت کا عالم اس روایت سے جھلکتا ہے کہ اس نے اپنے ہی بیٹے کو، جو دکن کے اہم منصب پر فائز تھا، صرف اس جرم میں معزول اور نظر بند کردیا کہ اس نے شاہی آم اپنے لیے مخصوص کرلیے تھے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مغل دربار میں آم صرف ذائقہ نہیں بلکہ شاہی آداب کا حصہ بھی تھا۔جہانگیر، جو حسنِ فطرت اور باغبانی کا رسیا تھا، اس نے دہلی کے جنوب میں مہرولی کے علاقے جھرنا قطب گاؤں اور لاہور میں آموں کے باغات لگوائے۔
اس کی ملکہ نورجہاں بھی آم اور اس کے خوشبودار مشروب کی دلدادہ تھیں۔ گویا مغل محلوں میں آم کی مہک صرف باغوں تک محدود نہ تھی بلکہ شاہی محفلوں، جاموں اور ذوقِ جمال تک پھیلی ہوئی تھی۔مغل عہد کی دو اہم کتابیں، آئینِ اکبری اور تزکِ جہانگیری، آم کی تاریخ اور اہمیت کا ایسا دل آویز مرقع پیش کرتی ہیں جہاں آم کی اقسام، ان کی خوشبو، رنگت، ذائقے اور معیار کا تفصیلی ذکر ملتا ہے۔ ان تحریروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہر شہنشاہ نے آم کو اپنے ذوق اور محبت کے مطابق ایک الگ مقام عطا کیا
دنیا بھر میں آم کی سو سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں، جبکہ پاکستان میں دو سو سے زیادہ اقسام موجود ہیں۔ ان میں سندھڑی، چونسا، انور رٹول، نیلم، دوسہری، لنگڑا، گلاب خاصہ اور سرولی جیسی اقسام اپنی خوشبو، ذائقے اور معیار کی وجہ سے عالمی شہرت رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی آم دنیا کے مختلف ممالک میں نہ صرف پسند کیے جاتے ہیں بلکہ زرمبادلہ کمانے کا اہم ذریعہ بھی ہیں۔آم کا سائنسی نام Mangifera Indica ہے اور یہ گرم و مرطوب علاقوں یعنی خطوں کا پھل ہے۔ قدرت نے اس میں غذائیت کا خزانہ سمو دیا ہے۔ اس میں وٹامن اے، بی اور سی کے ساتھ ساتھ کیلشیم، فاسفورس اور آئرن کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔ آم جسم میں کولیسٹرول کم کرنے، خون کی کمی دور کرنے اور قوتِ مدافعت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس میں موجود وٹامن سی اور Pectin خاص طور پر مضر کولیسٹرول کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ آم میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جسم کو کینسر اور دل کے امراض سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔پاکستان سالانہ تقریباً اٹھارہ لاکھ ٹن آم پیدا کرتا ہے، اور یہ پھل پیداوار کے لحاظ سے ملک میں دوسرے نمبر پر شمار ہوتا ہے۔ اگرچہ ملک کے چاروں صوبوں میں آم کی کاشت ہوتی ہے، تاہم پنجاب اور سندھ اس پیداوار کا بڑا حصہ مہیا کرتے ہیں۔ تجارتی بنیادوں پر تقریباً بیس اقسام کے آم برآمد کیے جاتے ہیں، جو دنیا بھر میں پاکستان کی خوشبو اور مٹھاس کا تعارف بن جاتے ہیں۔
آم کا تعلق صرف ذائقے سے نہیں بلکہ جذبات سے بھی ہے۔ جونہی درختوں پر بور آتا ہے، باغات میں زندگی لوٹ آتی ہے۔ کہیں جھولے پڑتے ہیں، کہیں لوک گیت گونجتے ہیں، اور کہیں محبت و جدائی کی داستانیں چھیڑی جاتی ہیں۔ دیہی ثقافت میں آم کے باغ ہمیشہ سے محبت، خواب اور رومان کی علامت رہے ہیں۔ نوجوان لڑکیاں آموں کے پیڑوں تلے جھولے جھولتے ہوئے اپنے دل کی بات گیتوں میں ڈھال دیتی ہیں۔ گویا آم صرف کھایا نہیں جاتا، محسوس بھی کیا جاتا ہے۔لسانی اور تہذیبی اعتبار سے بھی آم ایک دلچسپ تاریخ رکھتا ہے۔ سنسکرت میں اسے ’’سوتا‘‘ اور ’’امری‘‘ کہا جاتا ہے، جن کے معنی ہیں ’’خوشبودار پھل‘‘ اور ’’خواہش پوری کرنے والا پھل‘‘۔ فارسی میں اسے ’’انبا‘‘ جبکہ عربی میں ’’ابنج‘‘ کہا گیا۔ گجراتی زبان میں ’’امبا‘‘، ’’آمبا‘‘، ’’انبو‘‘ اور ’’کیری‘‘ جیسے نام رائج ہوئے۔ انگریزی لفظ منگو بھی دراصل ہندوستانی زبانوں ہی سے اخذ کیا گیا۔اردو و فارسی ادب میں آم کو جو مقام حاصل ہوا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ امیر خسرو نے اسے ’’فخرِ گلستاں‘‘ قرار دیا۔ مرزا غالب کی آم دوستی تو ادبی دنیا میں ضرب المثل بن چکی ہے۔ غالب کے خطوط میں آموں کی فرمائشیں، تعریفیں اور شکوے ایک الگ ہی ذائقہ رکھتے ہیں۔ وہ آم کے صرف دو اوصاف بیان کرتے تھے: ’’میٹھے ہوں اور بہت ہوں‘‘۔
اس دور میں خطوط ہی محبت اور تعلق کا ذریعہ تھے، چنانچہ دوست احباب ایک دوسرے کو آموں کی ٹوکریاں بطورِ تحفہ بھیجا کرتے تھے۔شاعر بیدل کے خطوط ہوں یا مولانا حالی کی نظم ’’برکھا رت‘‘، ہر جگہ آم کی خوشبو محسوس کی جا سکتی ہے۔ اکبر الٰہ آبادی کو لکھنؤ کے سفیدے اور ملیح آباد کے دسہری آم سے خاص عشق تھا۔ اپنے دوست کے نام ان کا یہ شعر آج بھی آم دوستی کی خوبصورت مثال سمجھا جاتا ہے
نامہ نہ کوئی یار کا پیغام بھیجئے
اس فصل میں جو بھیجئے بس آم بھیجئے
ایسا ضرور ہو کہ انہیں رکھ کے کھا سکوں
پختہ اگرچہ بیس تو دس خام بھیجئے
معلوم ہی ہے آپ کو بندے کا ایڈریس
سیدھے الہ آباد مرے نام بھیجئے
ایسا نہ ہو کہ آپ یہ لکھیں جواب میں
تعمیل ہوگی پہلے مگر دام بھیجئے
آج بھی جب گرمی اپنے جوبن پر ہوتی ہے تو ہر شخص کی نگاہ آم کے موسم پر جا ٹھہرتی ہے۔ بچے ہوں یا بزرگ، مرد ہوں یا عورتیں، شاعر ہوں یا ادیب سب کا محبوب پھل ہے۔ اس کی مٹھاس صرف زبان کو نہیں بلکہ دل کو بھی شیرین کر دیتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ برصغیر میں آم کو صرف پھل نہیں بلکہ تہذیبی ورثہ سمجھا جاتا ہے۔قدرت نے بے شمار پھل تخلیق کیے، مگر آم کو جو رنگ، خوشبو، رس اور تاثیر عطا کی، وہ کسی اور کے حصے میں نہ آ سکی۔ یہی وجہ ہے کہ صدیوں گزرنے کے باوجود آم آج بھی محبت، ذائقے اور ثقافت کا ایسا استعارہ ہے جو ہر نسل کے دل میں یکساں مقبول ہے۔
ہمارے خطے میں “آم ڈپلومیسی” کی اصطلاح برسوں سے معروف ہے، جس کے ذریعے مختلف ممالک کے درمیان محبت، خیرسگالی اور باہمی تعلقات کو فروغ دیا جاتا رہا۔ اگرچہ وقت کے ساتھ سفارتی انداز بدل گئے ہیں، مگر پاکستانی آم کی مٹھاس آج بھی دنیا بھر میں اپنی مثال آپ ہے۔پاکستانی حکومت کی جانب سے مختلف ممالک کے سربراہان اور اہم شخصیات کو آم بطور تحفہ بھیجے جاتے ہیں، جو نہ صرف محبت اور احترام کی علامت ہوتے ہیں بلکہ باہمی روابط کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد سب سے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان نے بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو کو آم بھجوائے تھے، جسے دونوں ممالک کے درمیان خیرسگالی کی ایک خوبصورت مثال سمجھا گیا۔اسی طرح 1968ء میں جب پاکستان کے وزیرِ خارجہ شریف الدین پیرزادہ چین کے دورے پر گئے تو وہ تحفے کے طور پر آموں کی چالیس پیٹیاں بھی ساتھ لے گئے۔ اُس دور میں چینی عوام آم کے ذائقے سے زیادہ آشنا نہ تھے، مگر وقت نے کروٹ لی اور آج چین ایشیا میں آم پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔پاکستان آج بھی اپنے دوست ممالک کو آم تحفے میں بھیج کر نہ صرف سفارتی تعلقات کو مضبوط بناتا ہے بلکہ دنیا بھر میں پاکستانی آم کی خوشبو، ذائقے اور معیار کا تعارف بھی کراتا ہے۔ یوں آم پاکستان کی زرعی
شناخت کے ساتھ ساتھ نرم سفارت کاری کا بھی ایک خوبصورت اور مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔ بلکہ اپنی منڈی بھی وسیع کر رہا ہے۔گزشتہ سال ملک میں تقریباً 17 لاکھ 35 ہزار ہیکٹر رقبے پر آم کی کاشت کی گئی جس سے پیداوار 17 لاکھ 52 ہزار ٹن سے تجاوز کر گئی۔ اس کے باوجود پاکستان اپنی مجموعی پیداوار کا محض 5 فیصد ہی برآمد کر پاتا ہے، حالانکہ عالمی منڈی میں پاکستانی آم کی مانگ اور مقبولیت غیر معمولی ہے۔پاکستان میں آم کی صنعت کا حجم تقریباً 100 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے اور اس سے براہِ راست یا بالواسطہ چار سے ساڑھے چار لاکھ خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے۔ گزشتہ برس پاکستان نے 149 ملین کلوگرام آم برآمد کیے جن کی مالیت پاکستانی کرنسی میں تقریباً ساڑھے 22 ارب روپے رہی، تاہم رواں سال موسمی تغیرات اور دیگر مسائل کے باعث آم کی پیداوار میں 50 فیصد تک کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جو نہ صرف کاشتکاروں بلکہ ملکی برآمدات کے لیے بھی تشویش ناک امر ہے۔ماہرین کے مطابق پنجاب میں آم کی فی ہیکٹر اوسط پیداوار 11.86 ٹن ہے جبکہ سندھ میں یہ شرح 6.75 ٹن فی ہیکٹر ریکارڈ کی گئی۔ برآمدات میں کمی کی بڑی وجوہات میں باغات میں کیڑوں اور بیماریوں کا مؤثر تدارک نہ ہونا، پھل توڑنے کے غیر سائنسی طریقے، اور بعد از برداشت ناقص نگہداشت شامل ہیں۔ یہی عوامل عالمی معیار تک رسائی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
ہرسال آم کے موسم میں گورنر، وزیراعلیٰ، وزرا اور اراکینِ اسمبلی اور معروف سیاست دان خصوصی دعوتِ آم کا اہتمام کرتے ہیں، جہاں شہر کی ممتاز اور معزز شخصیات کو مدعو کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر نہ صرف آم کی مختلف اقسام سے تواضع کی جاتی ہے بلکہ محبت، رواداری اور سماجی روابط کو بھی فروغ ملتا ہے۔ روایت کے طور پر معزز مہمانوں اور قریبی شخصیات کو تحفتاً اعلیٰ معیار کے آم بھی ارسال کیے جاتے ہیں، جو ہماری ثقافت میں خلوص، مہمان نوازی اور تعلق داری کی خوبصورت علامت سمجھے جاتے ہیں۔ پاکستان میں سیاست، کاروبار اور شوبز سے وابستہ کئی نامور شخصیات بھی آم کے وسیع و عریض باغات کی مالک ہیں اور اس زرعی روایت کو نسل در نسل آگے بڑھا رہی ہیں۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری، سابق وزرائے اعظم میاں نواز شریف ، سید یوسف رضا گیلانی، سابق وزیراعلیٰ غلام مصطفیٰ کھر، بزرگ سیاستدان نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم، جبکہ سندھ کے معروف زمیندار و سیاستدان مخدوم امین فہیم مرحوم جیسے بااثر نام اس حوالے سے خاص شہرت رکھتے ہیں۔ ان شخصیات کے باغات نہ صرف اپنی وسعت بلکہ اعلیٰ معیار کے آموں کی پیداوار کے باعث بھی ملک بھر میں ممتاز سمجھے جاتے ہیں۔
سندھ کے شہر میرپورخاص سے تعلق رکھنے والے معروف سیاسی و زرعی گھرانے کے فیصل کیچلو کو ’’مینگو کنگ‘‘ کے لقب سے جانا جاتا ہے۔ ان کے باغات میں پیدا ہونے والے اعلیٰ نسل کے سندھری آم دنیا بھر میں اپنی مٹھاس، خوشبو اور معیار کے باعث پسند کیے جاتے ہیں اور بڑی مقدار میں برآمد بھی ہوتے ہیں۔
سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے رائے ونڈ، لاہور میں قائم وسیع زرعی فارم ہاؤسز میں آم کے خوبصورت باغات موجود ہیں، جہاں تیار ہونے والی پیداوار اپنی عمدگی کے باعث ملکی منڈیوں میں خاص مقام رکھتی ہے۔ اسی طرح جنوبی پنجاب کے شہر ملتان سے تعلق رکھنے والے گیلانی خاندان کے باغات بھی آم کی پیداوار کے حوالے سے نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ ملتان کو ویسے بھی ’’آموں کا شہر‘‘ کہا جاتا ہے اور یہاں کے باغات پاکستانی آم کی پہچان تصور کیے جاتے ہیں۔
دوسری جانب سندھ کے ہالا اور مٹیاری کے بااثر مخدوم خاندان کے صدیوں پرانے باغات آج بھی اپنی تاریخی اور زرعی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ مرحوم مخدوم امین فہیم کے قائم کردہ یہ باغات اب ان کی نسلوں کی نگرانی میں اسی شان سے آباد ہیں۔
پاکستان کے سندھ اور پنجاب میں ایسے کئی بڑے کمرشل فارم بھی موجود ہیں جو نہ صرف ملکی ضرورت پوری کرتے ہیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک کو لگژری معیار کے آم برآمد کرکے زرمبادلہ کمانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستانی سندھری، چونسا، انور رٹول اور دیگر اقسام اپنی منفرد خوشبو، ذائقے اور معیار کے باعث عالمی منڈی میں پاکستان کی پہچان بن چکی ہیں
بچپن کی یادوں میں بھی آم ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ گرمیوں کی دوپہریں، گھر میں آموں کی پیٹیوں کی گھر میں آمد، اور بچوں کے دمکتے ہوئے چہرے آج بھی ذہن میں تازہ ہیں۔ امی صاحبہ، خالائیں اور پھوپھیاں مل کر آم کا مربہ، میٹھی چٹنی اور کچی کیری کی ہری چٹنی بنایا کرتی تھیں۔ کچی کیری کو کوئلوں میں بھون کر اس کا خوشبودار شربت تیار کیا جاتا، جو گرمی کی شدت کو لمحوں میں دور کر دیتا تھا۔ چنے کے ستو کا ٹھنڈا شربت اور آم کی کیری کا لذیذ اچار پورے گھر کو دیسی ذائقوں کی مہک سے بھر دیتا تھا۔وہ سادہ زمانہ، گھریلو محبتیں، مشترکہ خاندانوں کی رونقیں اور موسمِ گرما کے دیسی ذائقے آج بھی یادوں کے دریچوں میں محفوظ ہیں۔ آم صرف ایک پھل نہیں، بلکہ بچپن کی خوشبو، محبتوں کی مٹھاس اور ہماری تہذیبی روایت کا حسین استعارہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی آم اپنی مٹھاس، خوشبو اور معیار کے باعث ترقی یافتہ ممالک کی منڈیوں میں نہایت پسند کیا جاتا ہے اور وہاں اسے بلند قیمت پر خریدا جاتا ہے، مگر بین الاقوامی مارکیٹ میں مستقل جگہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے باغبان اور ایکسپورٹرز جدید زرعی اصولوں اور درآمد کنندہ ممالک کے مقررہ معیار پر مکمل طور پر عمل کریں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ زرعی سائنسدان، باغبان، ایکسپورٹرز اور حکومتی ادارے ایک مربوط اور جامع پالیسی کے تحت کام کریں تاکہ عالمی منڈیوں میں پاکستانی آم کو نہ صرف اعلیٰ معیار بلکہ خوبصورت اور جدید انداز میں متعارف کرایا جا سکے۔ اگر بعد از برداشت نظام، پیکجنگ، کولڈ چین اور برآمدی معیار کو بہتر بنایا جائے تو پاکستان نہ صرف اپنی برآمدات میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے بلکہ عالمی منڈی میں آم کی تجارت کا ایک مضبوط اور نمایاں مرکز بھی بن سکتا ہے
