Latest Article

Article: سندھ اسمبلی : حزب اقتدار کی صفوں میں جاری کشمکش

سندھ اسمبلی : حزب اقتدار کی صفوں میں جاری کشمکش

یہ بڑے اچنبے کی بات ہے کہ سندھ میں گزشتہ کئی ہفتوں سے پیپلزپارٹی کو اپنے سیاسی مخالفین سے زیادہ میڈیا کی کڑی تنقید اور فیک نیوز کا مسلسل سامنا ہے ۔ حکومت مخالف اس مہم کے دوران صوبائی حکومت کے درجن بھر سے زائد ترجمانوں کی فوج ظفر موج بھی بالکل بے بس اور لاچار نظر آتی ہے ۔ اب تک ان ترجمانوں کا کام شاید صرف پی پی کے سیاسی مخالفین کی پریس کانفرنسوں یا ان کے بیانات کا ترنت جواب دینے یا پھر اپنی حکومت کی تعریف و توصیف کرنے تک ہی محدود تھا لیکن جب روزانہ نت نئے اسکینڈلز میڈیا کی زینت بن رہے ہوں تو یہ غریب ترجمان کس کس کو جھٹلائیں اور کس کس کے سامنے اپنی حکومت کی صفائی پیش کرنے جائیں ۔ بہر کیف اس وقت پی پی کے ناقدین خاص طور پر سوشل میڈیا کے جنگجوؤں کا سب سے بڑا موضوع سخن صوبے میں گزشتہ اٹھارہ سال سے برسراقتدار جماعت کی ناقص انتظامی کارکردگی اور مبینہ بدعنوانیوں کو عوام کے سامنے آشکار کرنا ہے ۔ معاملہ اب صرف حکومتی کارکردگی پر تنقید تک محدود نہیں رہا بلکہ پی پی کے سیاسی مخالفین سینہ ٹھوک کر یہ دعویٰ بھی کرنے لگے ہیں کہ حکمراں جماعت کی صفوں میں پھوٹ پڑچکی ہے اور پی پی کے کئی ارکان مستقبل کی نئی سیاسی بساط کے لئے اپوزیشن سے درپردہ رابطوں میں مصروف ہیں ۔ اپوزیشن نے اپنے ان دعووں کی تصدیق کے لئے تاحال اشارے کنایوں میں بھی کسی حکومتی رکن کا نام ظاہر نہیں کیا ہے اس لئے ان دعووں پر تو فی الوقت یقین کرنا ممکن نہیں ہے لیکن منگل کو سندھ اسمبلی میں سانحہ بارہ مئی کے حوالے سے پیش کردہ ایک قرارداد کے موقع پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو اپنی ہی جماعت کے اسپیکر کے رویہ کے خلاف بطور احتجاج ایوان سےواک آوٹ کرگئے جو بڑی حیران کن بات ہے اور یہ معاملہ کسی طور بھی پیپلزپارٹی کے لئے نیک سیاسی شگون نہیں قرار دیا جاسکتا ۔ سندھ اسمبلی میں منگل کو جو کچھ ہوا اس سے اپوزیشن کے اس بیانیہ کو تقویت ملے گی کہ اب پیپلز پارٹی بھی دھڑے بندی کا شکار ہوتی نظر آرہی ہے اور اس کا اپنا گھر بھی آرڈر میں نہیں رہا ہے ۔ یہ بڑی حیران کن بات ہے کہ سانحہ بارہ مئی کے حوالے سے آج پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری سے لیکر وزہراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور ان کی کابینہ کے تمام اہم وزراء نے اس دن کی مناسبت سے پیغامات جاری کئے اور اس المناک سانحے میں بے رحمی سے شہید ہونے والے معصوم شہریوں کے لواحقین سے اظہار یکجہتی بھی کیا لیکن جب اسی موضوع پر سندھ اسمبلی میں پرائیوٹ ممبرز ڈے کے موقع پر اپوزیشن کے ایک رکن نے قرارداد پیش کی تو اسپیکر اویس قادر شاہ نے پہلے تو اسے باری سے ہٹ کر قرارداد لانےکی اجازت دیدی لیکن جب نثار کھوڑو نے اعتراض کیا تو اسپیکر صاحب نے بڑی عجلت میں اس قرارداد کو نہ صرف مسترد کردیا بلکہ نثار کھوڑو جو پارٹی کے صوبائی صدر کی حیثیت سے سانحہ بارہ مئی پر اپنی جماعت کا موقف ریکارڈ پر لانا چاہتے تھے انہیں بات کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جس پر وہ خاصے برہم ہوئے اور احتجاجاً ایوان سے واک آوٹ کرکے باہر چلے گئے ۔ نثار احمد کھوڑو جیسے سینئر پارلیمینٹرین کے ساتھ اپنی جماعت کے اسپیکر کا یہ رویہ پریس گیلری میں موجود پارلیمانی رپورٹرز کے لئے بھی خاصا حیران کن تھا کیونکہ کھوڑو صاحب پیپلز پارٹی کے کوئی عام رکن یا جونئیر پارلیمینٹرین نہیں ہیں وہ ماضی میں خود بھی سندھ اسمبلی کے اسپیکر اور قائد حزب اختلاف رہ چکے ہیں ۔ پارلیمانی معاملات پر انہیں مکمل عبور اور دسترس حاصل ہے ۔ وہ اس وقت ایوان کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چئیرمین اور پارٹی کے صوبائی صدر بھی ہیں ۔ اسپیکر سندھ اسمبلی اگر انہیں بھی بولنے کی اجازت نہیں دے سکتے تو پھر نئے ارکان کو تو شاید ایوان میں بات کرنے کا تصور بھی نہیں کرنا چاہیے ۔ اسپیکر سندھ اسمبلی کےاس اقدام سے یہ تاثر بھی قوی ہوگا کہ شاید پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور سندھ اسمبلی میں موجود اس کی پارلیمانی پارٹی کے درمیان سیاسی معاملات پر ذہنی ہم آہنگی یا باہمی رابطے کا شدید فقدان ہے ۔ اسی لئے ایوان کے اندر اور اس کے باہر اختیار کی جانے والی پالیسی کے بارے میں کسی کو کچھ پتہ نہیں ہوتا نہ ہی اسپیکر صاحب کسی سینئر سے مشورہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں ۔ اسپیکر اویس قادر شاہ نے اپنی سیاسی انا کی تسکین یا پھر کم پارلیمانی تجربے کے باعث آج لوگوں کو پیپلز پارٹی کے لئے جگ ہنسائی کا سامان ضرور فراہم کردیا ہے ۔ اگر اسپیکرصاحب ایوان میں موجود کسی سینئر پارلیمنٹرین سے مشورہ کرلیتے تو سانحہ بارہ مئی پر پیپلز پارٹی خود بھی مناسب الفاظ کے ساتھ ایوان میں قرارداد لاسکتی تھی اور اسے اپوزیشن کے ساتھ مل کر منظور کرایا جاسکتا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ اویس قادر شاہ اور نثار احمد کھوڑو کے درمیان باہمی تعلقات کس نوعیت کے ہیں اس کا تو ہمیں علم نہیں لیکن اتنا ضرور معلوم ہے کہ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایسے کئی ویلاگ دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پبلک اکاونٹس کمیٹی کے معاملات اور اس کمیٹی کے سکریٹری کے معاملے پر اسپیکر سندھ اسمبلی اور پی اے سی کے چئیرمین کے درمیان کافی ناچاقی اور نا اتفاقی ہے ۔ اب دیکھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اس پورے معاملے سے کس طرح نمٹے گی ۔ اگر بعض ارکان کے ایک دوسرے کے ساتھ کچھ اختلافات ہیں تو ان کا تصفیہ کرایا جاسکتا ہے ورنہ افراد کی لڑائی کا خمیازہ پوری پارٹی کو بھگتنا پڑے گا ۔

Share this post :

Facebook
Twitter
LinkedIn

Author: محمد منیرالدین

Articles
[pt_view id="5e22087ncy"]