یہ بات اکثر کہی جاتی ہے کہ قانون مکڑی کا جالا ہے، جس میں کمزور پھنس جاتا ہے جبکہ طاقتور اسے توڑ کر نکل جاتا ہے۔ کیا امِ رباب چانڈیو کے والد، چچا اور دادا کے تین قتلوں کے کیس میں بھی ایسا ہی ہوا؟ کیا دو طاقتور قبائلی سردار، جو سندھ اسمبلی کے رکن بھی ہیں، اپنے اثر و رسوخ کے باعث عدالت سے بری ہو گئے؟
اس اہم سوال کا سنجیدگی سے جواب دینے کے لیے ضروری ہے کہ 223 صفحات پر مشتمل عدالتی فیصلہ پڑھا اور سمجھا جائے۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ بہت سے لوگ اسے پڑھے بغیر ہی رائے قائم کر رہے ہیں۔ امِ رباب کو انصاف ملنا چاہیے، لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم مضبوط بنیادوں پر سمجھ سکیں کہ معاملہ کہاں بگاڑ کا شکار ہوا۔
کیا جج نے ملزم کے خلاف پیش کیے گئے شواہد کو نظرانداز کیا؟
قانون کی کہاں اور کیسے غلط تشریح کی گئی؟
اور جن بنیادوں پر ملزمان کو بری کیا گیا، ان میں کیا کمزوریاں تھیں؟
جب تک ان سوالات کے واضح اور قانونی جواب سامنے نہیں آئیں گے، انصاف کی راہ میں رکاوٹیں برقرار رہیں گی۔
کیس کے مرکزی ملزمان میں سردار خان اور برہان خان شامل ہیں، جن پر الزام تھا کہ ان کے “ایما” یا حکم پر امِ رباب کے والد، چچا اور دادا کو قتل کیا گیا۔ اس نوعیت کا الزام قانونی طور پر ثابت کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ ماضی میں اس نوعیت کے الزام پر سزا کی ایک نمایاں مثال ذوالفقار علی بھٹو کا کیس ہے، جنہیں جنرل ضیاء الحق کے دور میں پھانسی دی گئی تھی۔ بعد میں اس فیصلے کو عدالتی قتل بھی قرار دیا گیا۔
عام طور پر ایسے کیسز میں سزا دینے کے لیے مضبوط اور واضح شواہد درکار ہوتے ہیں۔ اس کے لیے تین بنیادی چیزیں ضروری ہوتی ہیں:
- ایسا عینی شاہد جو ملزم کو دھمکی دیتے ہوئے دیکھے
- اصل قاتل اور ملزم کے درمیان واضح تعلق
- قاتل کا اعتراف کہ اس نے ملزم کے کہنے پر قتل کیا
اب سوال یہ ہے کہ امِ رباب کے کیس میں کیا ہوا؟ ایک اہم گواہ موجود تھا جس نے دھمکیاں دیکھی تھیں، مگر وہی گواہ غائب ہو گیا۔ ایسی صورت میں “ایما پر قتل” کا الزام کیسے ثابت ہو سکتا ہے؟
اس کے علاوہ، پولیس تفتیش پر اثر انداز ہونا کوئی نئی بات نہیں۔ جب ملزمان بااثر ہوں اور حکومتی حلقوں سے تعلق رکھتے ہوں تو تحقیقات کا رخ متاثر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
فیصلے کی چند کمزوریاں بھی سامنے آتی ہیں:
پہلا نکتہ:
“دانست نامہ” (پوسٹ مارٹم رپورٹ) پر اعتراض کیا گیا کہ اس میں ملزمان کے نام شامل نہیں تھے، جبکہ اس رپورٹ کا مقصد صرف زخموں کی تفصیل دینا ہوتا ہے، نہ کہ ملزمان کی نشاندہی کرنا۔ یہاں قانون کی تکنیکی بات کو ملزمان کے حق میں استعمال کیا گیا۔
دوسرا نکتہ:
ایف آئی آر درج کرنے میں 16 گھنٹے کی تاخیر کو بنیاد بنایا گیا۔ اگرچہ تاخیر شک پیدا کرتی ہے، مگر یہ بھی دیکھنا چاہیے تھا کہ ایک ہی گھر میں تین قتل ہونے کے بعد اہلِ خانہ کس ذہنی کیفیت میں ہوں گے۔ خوف، صدمہ اور پولیس کا رویہ بھی تاخیر کی وجہ بن سکتے ہیں۔
تیسرا نکتہ:
گواہوں کے بیانات میں معمولی تضادات کو بنیاد بنایا گیا، حالانکہ قانونی طور پر تضاد وہ ہوتا ہے جب بنیادی حقیقت بدل جائے، نہ کہ معمولی فرق جیسے عمر یا چھوٹی تفصیلات میں اختلاف۔
چوتھا نکتہ:
گواہوں کو “ذاتی مفاد رکھنے والے” قرار دیا گیا کیونکہ وہ مقتول کے رشتہ دار تھے۔ سوال یہ ہے کہ اگر قتل گھر کے اندر ہوا ہو تو گواہ باہر سے کہاں آئیں گے؟ عام لوگ طاقتور افراد کے خلاف گواہی دینے سے بھی ڈرتے ہیں۔
خلاصہ:
فیصلے میں کئی قانونی کمزوریاں نظر آتی ہیں۔ اگر امِ رباب کو اپیل میں ایک مضبوط وکیل اور نڈر جج مل گیا تو انصاف کی ایک امید ضرور پیدا ہو سکتی ہے

