کراچی میں بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہروکے آبائی گھر آنند بھون، کے نام سے منسوب عمارت آج بھی برقرارہیں بھارت میں مسلمانوں کے نام سے منسوب شہروں ، عمارتوں اور سڑکوں کے نام تعصب کی بنا پر ختم کئے جارہے ہیں جبکہ پاکستان میں آج بھی ایسی عمارتیں اور سڑکیں ہیں جو ہندوں کے نام سے منسوب ہیں ایسی ہی عمارتیں کراچی کے علاقے سولجر بازار میں موجود ہیں ۔ بھارت کے شہر آلہ آباد میں اس نام کی عمارتیں اپنی تاریخی اور سیاسی مناسبت کے اعتبار سے بڑی معروف ہیں
بھارت کے شہرالہ آباد کا نام سنہ 1574 میں مسلم حکمران مغل بادشاہ اکبر نے رکھا تھا۔ یہاں ہندو، مسلمان، سکھ اور مسیحیوں سمیت تمام مذاہب کےافراد آباد ہیں۔تاہم تاریخی اعتبار سے الہ آباد ہندو عقائد سے بہت قریبی تعلق رکھتا ہے ہر بارہ سال میں ایک بار یہاں گنگا اور جمنا دریاؤں کے سنگم پر کمبھ کا میلہ منعقد ہوتا ہے۔ دنیا بھر سے ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد لاکھوں کی تعداد میں یہاں آتے ہیں ۔ الہ آباد مغلیہ سلطنت کی ثقافت انتظامی و فوجی امورکے حوالے سے بھی شہرت رکھتا ہے بلکہ کسی زمانہ میں آزادی کی تحریک کا مرکز تھا۔ سولہویں اور سترہویں صدی میں یہیں سے انڈیا اور موجودہ پاکستان پر حکومتی فیصلے لیے جاتے تھے ۔ اس شہر میں بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہروکا آبائی گھر آنند بھون کے نام سے مشہور ہے ۔ آنند بَھون ہندی زبان کے دو الفاظ کا مجموعہ ہے، آنند کا مطلب ہے خوشی ، آرام وسکون اور بَھون ہندی زبان میں گھر مقام یا مسکن کو کہا جاتا ہے اسطرح آنند بھون سے مراد خوشیوں کا گہوارہ ہیں ۔ بھارت کے شہر الہ آباد میں فیض آبادہائی وے پروسیع و عریض رقبے پر واقع تاریخی مکان آنند بھون کو برصغیر کے ممتاز سیاسی خاندان کے سربراہ پنڈت موتی لال نہرو نے 1927میں اپنی رہائش کے لیے تعمیر کرایا تھا اس مکان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اردو کے ممتاز شاعر ، سید اکبر حسین رضوی( اکبرؔ الہ آبادی) ان دنوں حیات تھے اور پنڈت موتی لال نہرو ان کے پاس گئے تھے اور اکبر الہ آبادی کی رہائش گاہ ’عشرت منزل‘ کے طرز پر اپنے گھر کا نام رکھنے کی درخواست کی تھی ۔اکبر الہ آبادی مرحوم نے پنڈت جی کے گھر کا نام آنند بھون‘ تجویز کیا جو ’عشرت منزل‘ کا ہندی ترجمہ ہے۔ پنڈت نہرو کو یہ نام بہت پسند آیا۔ انھوں نے رہائش گاہ کے بیرونی دروازے پر اردو اور انگلش میں ’آنند بھون‘ اور اپنا نام پنڈت موتی لال نہرو کندہ کرایا تھا ۔اس مکان میں موتی لال نہروکی بیٹی وجے لکشمی پنڈت بھی رہائش رکھتی تھیں ۔اسی آنند بھون سے موتی لعل نہرو نے انگریزی اخبار Independent. (انڈی پینڈنٹ) جاری کیا تھا ۔ اخبار کا ایڈیٹر مسلمان نوجوان بیرسٹر سید حسین کو بنایا گیا تھا۔ بعد میں سید حسن اور وجے لکشمی میں معاشقہ ہوگیا تھا اور وہ سید حسن کے ساتھ فرار ہوگئیں ۔ سید حسن کو آزادی کے بعد مصر کا سفیر مقرر کیا گیا اور وجے لکشمی اقوام متحدہ میں مندوب کے فرائض انجام دیتی رہیں ۔ وجے لکشمی اور سید حسین کے فرار کے موقعے پر اکبر الہٰ آبادی نے ایک نہایت مناسب شعر لکھا
دختِ مہرو کو لے کے صاف اڑا
’’انڈی پینڈنس‘‘ اسی کو کہتے ہیں
آنند بھون کی عمارت کے ایک حصے میں UPCC (اُتر پردیش کانگریس کمیٹی) کا ہیڈکوارٹر بنایا گیا تھا ۔یہاں مہاتما گاندھی ،ابوالکلام آزاد ودیگرشخصیات قیام کرتی تھیں آزادی کے بعد اتر پردیش کانگریس کمیٹی کا دفتر 7 جنتر منتر مارگ، دہلی منتقل کر دیا گیا اور اندرا گاندھی کے زمانہ میں جب کانگریس کا بٹوارہ ہوا تو دفتر 24 اکبر روڈ سے10جن پتھ کے پیچھے منتقل ہوگیا تھا ۔ 1970 میں بھارتی وزیر اعظم اندراگاندھی نے اپنے آبائی گھر آنند بھون کونہرو میوزیم بنا کراسے یوپی حکومت کے حوالے کردیا تھا ۔ اب یہ ایک قومی ورثہ بن چکا ہے۔ قیام پاکستان کے دوران بھی اس گھر کوانتہائی اہمیت حاصل تھی جبکہ ان دنوں بھی یہاں کے مکینوں کا بھارتی سیاست میں اہم کردار ہے ۔1953میں بھارت میں ایک فلم آنند بھَوَن کے نام سے بنائی گئی تھی اس فلم میں بھارت کی ممتاز اداکارہ نگار سلطانہ نے کام کیا تھا۔ بھارت میں نہرو خاندان سے منسوب گھر کے نام پر کراچی کے علاقے سولجر بازار مکھی چیت رام روڈ پر آنند بھون کےنام سے ایک قدیم عمارت موجود ہے۔ اس عمارت پر 1935 کی تاریخ کندہ ہے ۔یعنی بھارت کے شہر الہ آباد میں موجود آنند بھون کی تعمیر کے 8سال بعد اس کی تعمیرہوئی۔ جبکہ کراچی میونسپل کارپوریشن کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق 1932 میں سولجر بازار کے علاقے میں واقع آنند بھون کی زمین شیو جی نانجی اینڈ سنزنامی ایک فرم کے مالک سیٹھ قسمت رائے آسو مل کو الاٹ کی گئی تھی میونسپلٹی ریکارڈ میں بلڈنگ کے دیگرقانونی وارثوں میں انکی تین اولادوں نمل رائے آسومل، وشنو داس آسو مل،تیجا مل آسومل کے نام شامل ہیں تاہم قیام پاکستان کے بعد ہندوخاندان نقل مکانی کرگیا تو یہاں مسلمان خاندان آکر آباد ہوگئے ۔ان دنوں بھی اس مکان میں مسلمان مقیم ہیں عمارت کے نزدیک کراچی کا قدیم پنج مکھی ہنومان مندرواقع ہے
آنند بھون کی عمارت کے سامنے پریت کتیا کے نام سے 1937 کی تعمیر کردہ ایک پرانی عمارت واقع تھی ۔ تاہم اس عمارت کو گذشتہ ماہ بلڈر مافیا نے متروکہ وقف املاک بورڈ کی ملی بھگت سے راتوں رات مسمار کردیا ہے اور یہان کثیر المنزلہ عمارت تعمیر کی جارہی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد جواہر لعل نہرو پاکستان کا دورہ کرنے والے پہلے بھارتی وزیراعظم تھے۔ جواہر لعل نہرو نے 1953 میں پاکستان کا دورہ کیا، اس وقت محمد علی پاکستان کے وزیراعظم تھے۔جواہر لعل نہرو نے دوسری مرتبہ 1960 میں صدر ایوب خان کے دور میں پاکستان کا دورہ کیا۔ جواہر لعل نہرو کے اس دورے کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کا تنازع حل کرنے کے لئے تاریخی سندھ طاس معاہدہ ہواتاہم ان کے دورے کے دوران کراچی میں انکے گھر کے نام سے منسوب آنند بھوں کو دیکھنے جانے کے حوالے سے ہم نے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی شواہد نہیں مل سکے
بھارت میں نریندر مودی کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے ہندو قوم پرست حامیوں کو خوش کرنے کے لیے ناموں کی تبدیلی کی ایک نئی لہر شروع کر دی ہے بھارتی شہر ممبئی کے علاقے باندرہ میں گذشتہ سال 60 سال پُرانی کراچی بیکری کے مالک کو ہندو انتہا پسند تنظیم شیو سینا کی جانب سے بیکری کا نام تبدیل کرنے کے لیے دھمکی دی گئی ہے مگر کراچی میں آج تک کسی نے یہاں ایسا مطالبہ نہیں کیا اور یہی وجہ ہے کہ سولجر بازار میں آنند بھون کی قدیم عمارت موجود ہے لیکن اس پرانی عمارت پر بلڈر مافیا نے نظریں گاڑی ہوئیں ہیں جس کی وجہ سے سولجر بازار کے آنند بھون کا وجود خطرے سے دوچار ہے




