بعض اوقات ایک واقعہ پورے معاشرے کے پوشیدہ زخموں کو نمایاں کر دیتا ہے۔ حالیہ دنوں میں عدالت میں پیش ہونے والی ایک خاتون، جسے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر عرفِ عام میں “پنکی” کہا جا رہا ہے، اپنے بے خوف انداز، پُراعتماد لہجے اور غیر معمولی طرزِ گفتگو کے باعث غیر معمولی توجہ کا مرکز بنی۔ بظاہر یہ ایک سنسنی خیز خبر تھی، مگر درحقیقت یہ واقعہ ہمارے معاشرے کے ایک نہایت تلخ اور خطرناک المیے کی علامت ہے، اور اس المیے کا نام ہے: منشیات۔
1950ء میں “پنکی” کے نام سے ایک فلم بنی تھی جس میں شناخت، سماجی تفاوت اور معاشرتی تضادات کو موضوع بنایا گیا تھا۔ آج کی “پنکی” بھی ایک علامت بن چکی ہے، مگر اس بار موضوع نسلی امتیاز نہیں بلکہ وہ تاریک دنیا ہے جس نے لاکھوں گھروں کے چراغ گل کیے، بے شمار ماؤں کی گودیں اجاڑیں اور نوجوان نسل کے خواب نگل لیے۔
عدالت میں اس خاتون کا پُراعتماد انداز محض ایک فرد کی جرأت نہیں بلکہ اس پورے منظم نیٹ ورک کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے جو قانون کی گرفت کو کمزور سمجھتے ہوئے ریاستی اداروں کو چیلنج کرنے کی جسارت کر رہا ہے۔ یہی پہلو ہمارے نظامِ انصاف اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک اہم سوال بن کر سامنے آتا ہے۔
منشیات ایک ایسی لعنت ہے جو وقتی سکون کے فریب سے شروع ہوتی ہے اور زندگی کی مکمل تباہی پر منتج ہوتی ہے۔ ابتدا میں یہ ذہنی آسودگی کا دھوکہ دیتی ہے، مگر آہستہ آہستہ انسان کی صحت، شعور، کردار، رشتے اور مستقبل سب کچھ اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ نشے کا عادی شخص صرف اپنی ذات کو برباد نہیں کرتا بلکہ اپنے خاندان کی عزت، سکون اور معاشی استحکام کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق انمول عرف “پنکی” کو ایک وفاقی حساس ادارے نے لاہور کے نواب ٹاؤن سے گرفتار کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیوائس لوکیشن کے ذریعے اسے ٹریس کیا گیا، جبکہ اس کے زیرِ استعمال مکان سے کروڑوں روپے مالیت کی منشیات برآمد ہوئی۔ ذرائع کے مطابق اس نے پنجاب پولیس کے ایک سابق انسپکٹر سے دوسری شادی کر رکھی تھی اور کرائے کے ایک گھر میں منشیات کی تیاری اور ترسیل کا منظم کاروبار چلا رہی تھی۔ مزید یہ کہ اس کے مبینہ نیٹ ورک کی جڑیں کراچی سمیت ملک کے دیگر بڑے شہروں تک پھیلی ہوئی تھیں۔
اس گرفتاری سے قبل سامنے آنے والی ایک مبینہ آڈیو ریکارڈنگ نے اس پورے معاملے کو مزید تشویشناک بنا دیا۔ آڈیو میں وہ اپنے مبینہ گاہکوں کو ہدایات دیتے ہوئے کہتی ہے:
“اگر آپ میرا یہ پیغام سن رہے ہیں تو یا میرے ساتھ کوئی مسئلہ پیش آ گیا ہے یا پھر میں اس دنیا میں نہیں ہوں۔ اگر مجھے کچھ ہو جائے تو اسی نمبر سے ایک شخص آپ سے رابطہ کرے گا اور تمام معاملات سنبھالے گا۔”
یہ الفاظ اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا کاروبار کسی ایک فرد پر منحصر نہیں بلکہ ایک منظم، مربوط اور پیشہ ورانہ نیٹ ورک کی صورت اختیار کر چکا ہے، جہاں گرفتاری یا موت کے باوجود کاروبار جاری رکھنے کے انتظامات پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔
پاکستان میں منشیات کا مسئلہ روز بروز سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ نوجوان نسل، جو کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتی ہے، اس زہر کا سب سے بڑا شکار بن رہی ہے۔ تعلیمی اداروں، پوش علاقوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے منشیات کی آسان دستیابی نے صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔ ذہنی دباؤ، بے روزگاری، خاندانی عدم توجہ اور بری صحبت نوجوانوں کو اس خطرناک دلدل میں دھکیل رہی ہے۔
جب کوئی فرد نشے کا عادی ہو جاتا ہے تو اس کی اخلاقی قوت ماند پڑ جاتی ہے۔ ابتدا میں وہ گھر کی اشیاء فروخت کرتا ہے، پھر جھوٹ، چوری، دھوکہ دہی، تشدد اور دیگر جرائم کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ منشیات جرائم کی ماں ہیں۔
اس تناظر میں سندھ پولیس، اینٹی نارکوٹکس فورس، وفاقی تحقیقاتی ادارہ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ ان کی ذمہ داری صرف منشیات فروشوں کی گرفتاری تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ان کے پورے نیٹ ورک، مالی وسائل، سہولت کاروں اور سرپرست عناصر کو بے نقاب کرنا بھی ضروری ہے۔ کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے منشیات فروخت کرنے والے گروہوں کے خلاف حالیہ کارروائیاں قابلِ تحسین ہیں، تاہم یہ جنگ ابھی طویل اور صبر آزما ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ آئس، کوکین اور دیگر مہلک منشیات کے استعمال میں معاشرے کے بااثر طبقات کے بعض افراد یا ان کی اولادیں بھی ملوث پائی جاتی ہیں۔ بعض سیاسی خاندانوں، بیوروکریسی، کاروباری حلقوں اور شوبز سے وابستہ شخصیات کے گھرانے بھی اس المیے سے محفوظ نہیں رہے۔ کراچی کے پوش علاقوں میں متعدد نوجوان نشے کی لت کا شکار ہو کر اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جبکہ کئی خاندان خاموشی سے اس اذیت کو سہہ رہے ہیں۔ غالباً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ریاستی اداروں کو زیادہ مؤثر کریک ڈاؤن پر مجبور کیا، ورنہ غریب طبقے کے نوجوان برسوں سے سڑکوں پر بے یار و مددگار موت کے منہ میں جا رہے تھے۔
اس بحران کا حل صرف گرفتاریوں میں نہیں بلکہ ایک جامع قومی حکمتِ عملی میں پوشیدہ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ منشیات کے علاج اور بحالی کے لیے خاطر خواہ بجٹ مختص کرے، ہر ضلع میں جدید بحالی مراکز قائم کرے، تعلیمی اداروں میں مؤثر آگاہی مہمات چلائے اور نوجوانوں کو کھیل، تحقیق، ادب اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرے۔ والدین اور اساتذہ کو بھی بچوں کی صحبت، رویّوں اور ذہنی کیفیت پر گہری نظر رکھنی ہوگی
“پنکی” کا واقعہ وقتی طور پر خبروں کی زینت بن سکتا ہے، لیکن اس کے پس منظر میں چھپا سوال پوری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ اگر منشیات فروش قانون کے سامنے بھی بے خوف کھڑے ہوں، تو یہ اس امر کا تقاضا ہے کہ ریاست، معاشرہ اور ہر شہری اپنی ذمہ داری کو سنجیدگی سے سمجھے۔
منشیات کے خلاف خاموشی دراصل اس لعنت کو طاقت دینے کے مترادف ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ اپنی آنے والی نسلوں کو اس اندھیرے سے بچائیں گے، قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں گے، انصاف کے نظام کو مضبوط کریں گے اور ایک ایسا پاکستان تعمیر کریں گے جہاں زندگی کی خوشبو ہو، امید کے چراغ روشن ہوں اور نشے کا دھواں ہمیشہ کے لیے چھٹ جائے
