برصغیر کی تاریخ میں 1857 کی جنگِ آزادی ایک ایسا سنگِ میل ہے جس نے انگریز سامراج کے خلاف منظم اور مسلح مزاحمت کی بنیاد رکھی۔ یہ عظیم جدوجہد 10 مئی 1857 سے یکم نومبر 1858 تک، تقریباً ایک سال پانچ ماہ اور بائیس دن جاری رہی ۔ایک ایسی داستانِ حریت جو تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔ اس جنگ کا زیادہ ذکر دہلی، لکھنؤ، کانپور اور میرٹھ کے حوالے سے کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سندھ اور خصوصاً کراچی نے بھی اس جدوجہد میں اپنا حصہ ڈالا اور یہاں کے لوگوں نے آزادی کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔
1857 میں کراچی میں تعینات برطانوی فوج کی 21ویں رجمنٹ کے چند ہندوستانی سپاہیوں نے انگریز اقتدار کے خلاف بغاوت کا منصوبہ بنایا۔ اس منصوبے کی قیادت سپاہی رام دین پانڈے کر رہے تھے۔ منصوبہ یہ تھا کہ رات کی تاریکی میں سپاہی ملیر کینٹ پر قبضہ کریں، برطانوی فوجی افسران کو ہلاک کر کے شہر میں آزادی کا اعلان کر دیں۔ لیکن بدقسمتی سے اس منصوبے کی خبر چند مخبروں کے ذریعے انگریز حکام تک پہنچ گئی۔ ستمبر1857ء کی شب تقریباً رات کے ساڑھے گیارہ بجے ایک مقامی فوجی صوبیدار رام بنے کمانڈنگ افسر کے بنگلے پر ان سے ملنے کیلئے پہنچا اور گارڈ کو پیغام دیاکہ وہ کمانڈنگ افسر سے مل کر انہیں اہم معلومات دینا چاہتا ہے۔
صوبیدارنے کمانڈنگ افسر کو بتایا کہ 21 ویں بمبئی نیٹو انفنٹری رجمنٹ نے آج رات دو بجے بغاوت کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ چھاؤنی کا نقشہ سمیت دیگر انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں، اور اس سلسلے میں شہریوں سے مدد حاصل کرنے کیلئے ایک سپاہی کوشہر کی طرف بھیجاگیا ہے اور ایک سپاہی کو 14 ویں نیٹو انفنٹری رجمنٹ سے مدد حاصل کرنے کیلئے بھیجاگیا ہے ۔ یوں جب اس بغاوت کا راز فاش ہوا توکمانڈنگ افسر میجرمیک گریگر کی آنکھوں کی نیند اڑ گئی اور انہوں نے یہ پیغام سندھ کے کمشنر بارٹل فریئر کو بھیجا۔ کراچی کنٹونمنٹ کا اس وقت نظام برگیڈیئر لاؤتھ اور کمانڈنگ افسر میجر میک گریگر کے پاس تھا۔اس وقت وکٹوریہ روڈ (موجود عبداللہ ہارون روڈ، پیرا ڈائز مارکیٹ سے لے کر برنس گارڈن تک ایک فوجی ایریا تھا، جہاں برطانوی توپ اور اسلحہ کو رکھا جاتا تھا ۔بغاوت کی اطلاع ملنے پر یورپین رجمنٹ کی دونوں کمپنیوں کو بغیر کسی بگل یا ڈرم بجانے کے فوراً مسلح ہونے اور 21 ویں رجمنٹ کی بیرکوں کے سامنے مختلف جگہوں پر پوزیشن سنبھالنے کا حکم دیا گیا تھا ۔ یہ سارا کام انتہائی پھرتی اور رازداری سے کیاگیا۔21 رجمنٹ میں اکثریت کا تعلق اودھ، لکھنو، دہلی اور بنگال سے تھا، بغاوت کی قیادت سپاہی رام دین پانڈے اورسورج بالی تیوری کررہے تھے ۔تاریخی حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ کراچی کا ایک معروف تاجر ناؤ مل ہوت چند انگریزوں کا مخبر تھا جس نے اس بغاوت کی اطلاع فراہم کی۔ چنانچہ چھاؤنی میں غیر معمولی نقل و حرکت کے بعد باغیوں نے فیصلہ کیا کہ رام دین پانڈے دیگر 21 سپاہیوں کے ہمراہ نکل جائیں اور سورج بالی تیوری اور دیگر اندرموجود رہ کر صورتحال کا جائزہ لیں۔اندر موجود 21 رجمنٹ کے سپاہیوں کو باہر نکلنے کی وارننگ اور حکم دیاگیا۔جس کے بعدحوالدار سورج بال تیوری سمیت دیگر باغیوں کوگرفتار کرلیاگیا۔باغیوں کی کل تعداد 44 تھی۔میٹھادر کے علاقے لیاری ندی کے قریب تین باغیوں کو مقابلے میں شہید کیاگیا اور ان کی لاشوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے سمندر میں بہادیاگیا۔ 16 ستمبر تک 15 باغیوں کو مختلف مقامات سے گرفتار کرلیاگیا۔رام دین پانڈے اور تین دیگر سپاہیوں کو گوٹھ احمد خان گڈاپ موجودہ نادرن بائی پاس سے گرفتار کیاگیا۔ بغاوت کے الزام میں دیگر گرفتار 25 سپاہیوں کو کورٹ مارشل کرکے فوج سے نکالاگیا اور انہیں کالے پانی کی سزا دیکر انڈیمان جزیرے کی طرف بھیج دیاگیا۔انگریز حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے رام دین پانڈے اور اس منصوبے میں شامل مزید چودہ سپاہیوں کو گرفتار کر لیا۔ بعد ازاں رام دین پانڈے سمیت چار باغیوں کو 13اور14ستمبرکی درمیانی شب کراچی کے اُس میدان میں، جہاں آج ایمپریس مارکیٹ قائم ہے اس خالی میدان میں لا کرسرِعام پھانسی دی گئی جبکہ رام دین پانڈے سمیت دیگر 3 باغیوں کو توپوں کے مُنہ پر باندھ کر اڑا دیا گیا۔ بعد ازاں ان لاشوں کے ٹکڑے اکٹھے کرکے ایک گڑھے میں پھینک دیے گئے۔ جن باغیوں کو پھانسی دی گئی تھی اُن کی لاشوں کے بھی ٹکڑے کیے گئے اور اسی گڑھے میں پھینک دیا گیا۔ رام دین پانڈے اور اس کے ساتھی، کراچی کے شہریوں کے لیے ہیرو کا درجہ اختیار رکھتے تھے ۔ لہذالوگ رات کے وقت آتے، اس میدان میں دیئے اور موم بتیاں روشن کرتے اور پھولوں کے گلدستے رکھ کر چلے جاتے۔ اس صورت حال سے انگریز سرکار کو خدشہ پیدا ہوا کہ کہیں یہ مقام آزادی کےشہداء کی یادگار نہ بن جائے اورکسی نئی بغاوت کا پیش خیمہ ثابت نہ ہو، ہانگریز سرکار نے 1884 میں یہاں مارکیٹ تعمیر کرنے کا سنگ بنیاد رکھا- 12 مارچ 1889کو اس وقت کی کمشنر سندھ مسٹر رچرڈ نے ایمپریس مارکیٹ کا باقاعدہ افتتاح کیا چونکہ اس سال ملکہ وکٹوریہ کی گولڈن جوبلی منائی جا رہی تھی چنانچہ اس کی مناسبت سے اس مارکیٹ کا نام ایمپریس مارکیٹ رکھا گیا یہ واقعہ کراچی کی تاریخ میں آزادی کے لیے دی گئی ایک دردناک مگر عظیم قربانی کی علامت ہے۔ برطانوی راج کے خلاف ہندوستانیوں کی اس پہلی مشترکہ مسلح جدوجہد کے سو سال مکمل ہونے اورکراچی کے شہریوں کی اس جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کرنےکے لئے 10مئی 1957 کو جنگِ آزادی کی صد سالہ تقریبات کے سلسلے میں ملک بھر میں خصوصی ہفتہ منایا گیا تھا۔ اس کا مقصد اس تاریخی واقعے کو محض “غدر” کے بجائے پہلی جنگِ آزادی کے طور پر اجاگر کرنا تھا، جس میں ہندو اور مسلمان دونوں نے متحد ہو کر سامراجی قوتوں کا مقابلہ کیا۔ اس موقع پر کراچی میں سرکاری طور پر عام تعطیل کا اعلان کیا گیا، شہر بھر میں جلسے اور تقاریب منعقد ہوئیں جن میں مجاہدینِ آزادی اور آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کی جدوجہد اور زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی۔ سرکاری عمارتوں پر چراغاں کیا گیا اور ریڈیو پاکستان سے خصوصی پروگرام نشر کیے گئے۔ممتاز محقق ادیب سابق ڈائریکٹر قائداعظم اکادمی خواجہ رضی حیدر کے مطابق کراچی میں ہونے والی جنگ آزادی کی صد سالہ تقریب میں وہ اسکاوٹس کی حیثیت سے شریک تھے اس روز اسکولوں میں تقریبات ہوئیں تھین اور طلباء کو جنگ آزادی کے سپاہی بنایا گیا تھا طلباء و طالبات کے اسکولوں میں مباحثہ وتقاریر کے مقابلے منقد ہوئے تھے قومی اخبارات اور رسائل نے خصوصی شمارے شائع کئے تھے ، سندھ مدرستہ الاسلام ۔شیلڈن ہائی اسکول بولٹن مارکیٹ گورنمٹ ہائی اسکول چاکیواڑہ ٹرام پٹہ حسینی ہائی اسکول ناظم آباد ایرانیان ٹیکنکل ہائی اسکول سندہ اسلامیہ اسکول کھارادر، رونق السلام گرلز ہائی اسکول مچھی میانی مارکیٹ ۔ اسلامیہ کالج ، جناح کالج ناظم آباد ۔نیشنل کالج ۔ اردو کالج میں تقریبات کا انعقاد کیا گیا تھا طالبات کو خاص ہدائت کی گئی تھی کہ وہ سفید وار قمیض پر ہرا ڈوپٹہ پہن کر آئین
ان تقریبات کے دوران 12مئی 1957کو اُس وقت کے چیف کمشنر کراچی ایم این خان نے جمشید کوارٹر کے علاقے میں، سابقہ جواہر لعل نہرو روڈ اور دادا بھائی نوروجی روڈ (موجودہ جگر مرادآبادی روڈ) کے درمیان ایک سو فٹ بلند یادگاری مینار کا سنگِ بنیاد رکھاتھا۔ مزار قائد اور اسلامیہ کالج کے درمیان اس یادگار کو کراچی میونسپل کارپوریشن نے تقریباً تین لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا تھا۔افسوس کہ اس یادگاری مینار کوسڑک کی تعمیر کے دوران گرادیا گیا اس کا کتبہ کافی عرصہ تک مزار قائد کے عقب میں واقع پپلزچورنگی میں پڑا رہا اسی طرح اس وقت کے میونسپل کمشنر کراچی مسٹر قریشی نے موہن داس روڈ کے نالے پر تعمیر ہونے والی میونسپل کارپوریشن کی تین منزلہ عمارت کو جدوجہدِ آزادی کی یاد میں حصہ لینے والے مغل خاندان کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے نام پر بہادر شاہ ظفرمارکیٹ” کا نام دیاگیا۔یہ مارکیٹ ریڈیو پاکستان اور اردوبازار کے درمیان برساتی نالے پرواقع ہےجبکہ
کراچی میں جاری صد سالہ جشن کی تقریبات میں ایک شاندار مشاعرہ بھی منعقد کیا گیا تھااس مشاعرہ کمیٹی کے سربراہ معروف بیوروکریٹ اور فلم ساز سید فضل کریم فضلی تھے جبکہ کمیٹی کے دیگر ارکان میں عہد ساز شاعر جوش ملیح آبادی، حفیظ جالندھری، آلِ رضا، رئیس امروہوی اور تابش دہلوی شامل تھے۔ اس مشاعرے میں شعر و ادب کے ذریعے آزادی کی جدوجہد اور اس کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیاتھا۔
