loader image

Latest Article

Article: مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، عالمی سیاست اور امن کی سفارتی کوششیں

مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، عالمی سیاست اور امن کی سفارتی کوششیں

مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر عالمی سیاست کے مرکز میں آچکا ہے جہاں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں ہونے والی عسکری کارروائیوں اور جوابی حملوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ایرانی افواج کی جانب سے اسرائیلی اہداف اور خطے میں موجود امریکی مفادات پر میزائلوں اور ڈرونز کی پے در پے لہریں اس بات کا اشارہ ہیں کہ یہ تنازع کسی بھی وقت وسیع تر علاقائی تصادم میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
اس تناظر میں ایران کی جغرافیائی اہمیت ایک بنیادی حقیقت کے طور پر سامنے آتی ہے۔ خلیج فارس کے دہانے پر واقع آبنائے ہرمز عالمی تجارت خصوصاً تیل کی ترسیل کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ اس لیے اگر اس گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات فوری طور پر عالمی معیشت پر پڑتے ہیں اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ پوری دنیا کے لیے معاشی دباؤ کا باعث بن جاتا ہے۔
ایسے نازک حالات میں سفارتی سرگرمیوں کا اچانک بڑھ جانا اس بات کی علامت ہے کہ عالمی طاقتیں اس بحران کو مزید پھیلنے سے روکنا چاہتی ہیں۔ اسی تناظر میں چین کے سفیر جیانگ زے ڈونگ نے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسلام آباد کے کردار کو قابلِ تعریف قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ اور خطے میں کشیدگی کم کرنے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے ثالثی کا مثبت کردار ادا کر رہا ہے، جو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اس کی سفارتی بصیرت کو ظاہر کرتا ہے۔
چینی سفیر نے اس موقع پر بعض ممالک کے اجارہ دارانہ رویوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ طاقت کے زور پر فیصلے مسلط کرنا عالمی روایات، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے اصولوں کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق عالمی اداروں خصوصاً اقوام متحدہ کو اس صورتحال میں فوری اور مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ دنیا کو ایک بڑے تصادم سے بچایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین کے صدر شی جن پنگ نے دنیا میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے گلوبل گورننس کے تصور کو فروغ دینے کی تجویز پیش کی تھی، جس کی پاکستان سمیت کئی ممالک نے حمایت کی۔ اس تجویز کا بنیادی مقصد ایک ایسا منصفانہ عالمی نظام قائم کرنا ہے جہاں طاقت کے بجائے انصاف، باہمی احترام اور عالمی قوانین کو بنیاد بنایا جائے۔
درحقیقت موجودہ بحران صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان اثر و رسوخ کی کشمکش کا عکاس بھی ہے۔ ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادی ہیں تو دوسری جانب چین اور دیگر طاقتیں ایک متوازن عالمی نظام کی بات کر رہی ہیں۔ ایسے میں پاکستان جیسے ممالک کا سفارتی کردار اہمیت اختیار کر جاتا ہے جو مختلف فریقین کے درمیان رابطے کا پل بن سکتے ہیں۔
اگر یہ تنازع طویل عرصے تک جاری رہتا ہے تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے سنجیدہ حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ عسکری طاقت کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔
موجودہ حالات میں پاکستان کی ثالثی کی کوششیں، چین کی جانب سے متوازن عالمی نظام کی بات اور عالمی اداروں کی ذمہ داری ہمیں اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ امن صرف طاقت سے نہیں بلکہ دانشمندانہ سفارت کاری، انصاف پر مبنی عالمی نظام اور مشترکہ مفادات کے احترام سے قائم رہتا ہے۔ اگر عالمی قیادت نے بروقت دانشمندی کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ کشیدگی ایک بڑے عالمی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے جس کے اثرات پوری دنیا کو بھگتنا پڑیں گے

Share this post :

Facebook
Twitter
LinkedIn
[pt_view id="5e22087ncy"]