loader image

Latest Article

Post: سندھ کا ہاضمہ اور نہال ہاشمی کا نسخہ

سندھ کا ہاضمہ اور نہال ہاشمی کا نسخہ

وفاق کو جب بھی سندھ کی “خراب ہوتی ہوئی صحت” یاد آتی ہے تو وہ کسی نہ کسی سیاسی حکیم کو نسخہ بنا کر روانہ کر دیتا ہے۔ اس بار قرعۂ فال نہال ہاشمی کے نام نکلا ہے، گویا دہائیوں پر محیط مسائل اب چند بیانات کے شربت سے تحلیل ہو جائیں گے۔
بچپن کی ایک معصوم یاد آج بھی ذہن میں تازہ ہے۔ جب پیٹ خراب ہوتا تو امی ہمیں ہمدرد کا نونہال گرائپ واٹر پلا دیتی تھیں چند ہی لمحوں میں سکون مل جاتا۔ مگر اس سادہ علاج اور آج کے سندھ کے پیچیدہ مسائل میں وہی فرق ہے جو ایک معمولی درد اور ایک دائمی مرض میں ہوتا ہے۔
سندھ خصوصاً کراچی اس وقت جن مسائل سے دوچار ہے، وہ کسی ایک “خوراک” سے ٹھیک ہونے والے نہیں۔ مثال کے طور پر کے فور پانی کا منصوبہ—جو تقریباً 650 ملین گیلن یومیہ پانی کی فراہمی کے دعوے کے ساتھ شروع کیا گیا تھا—ایک دہائی گزرنے کے باوجود مکمل نہ ہو سکا۔ شہر جہاں روزانہ پانی کی طلب 1200 ملین گیلن سے تجاوز کر چکی ہے، وہاں فراہمی بمشکل 600 سے 700 ملین گیلن تک محدود ہے۔ باقی خلا ٹینکر مافیا پُر کرتا ہے، جو عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
اسی طرح گرین لائن بس منصوبہ، جس پر اربوں روپے خرچ کیے گئے، تاحال اپنی مکمل افادیت حاصل نہیں کر سکا۔ ٹاور تک اس کی توسیع ایک ایسا وعدہ ہے جو ہر دور میں دہرایا جاتا ہے، مگر عملی شکل اختیار نہیں کرتا۔ یومیہ لاکھوں مسافروں کے شہر میں جہاں پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی شدت اختیار کر چکی ہے، وہاں یہ تاخیر خود ایک المیہ بن چکی ہے۔
پھر منگھوپیر روڈ کا حال دیکھیے سالہا سال سے زیرِ تعمیر، مگر تکمیل سے کوسوں دور اندازاً لاکھوں افراد روزانہ اس سڑک سے گزرتے ہیں، اور ٹریفک جام، ٹوٹ پھوٹ اور گرد و غبار ان کا مقدر بن چکا ہے۔ یہ صرف ایک سڑک نہیں، بلکہ حکومتی ترجیحات کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے۔
ایسے میں اگر گورنر نہال ہاشمی واقعی سندھ کا “ہاضمہ” درست کرنے آئے ہیں تو انہیں بیانات کے بجائے ان منصوبوں پر پیش رفت دکھانا ہوگی۔ عوام اب الفاظ نہیں، نتائج چاہتے ہیں۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ سندھ کا مسئلہ بدہضمی نہیں، بلکہ ایک طویل المدتی انتظامی بیماری ہے جس کے علاج کے لیے وقتی شربت نہیں بلکہ مضبوط پالیسی، شفافیت اور جوابدہی درکار ہے۔
طنز اپنی جگہ، مگر اصلاح کی گنجائش ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ اگر وفاق اور صوبہ سنجیدگی سے بیٹھ کر ترجیحات طے کریں، وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائیں، اور جاری منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کریں، تو صورتحال بدل سکتی ہے۔ دنیا کے بڑے شہروں نے بھی مسائل کا سامنا کیا، مگر مستقل مزاجی اور نیک نیتی سے انہیں حل کیا۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ بچپن کا وہ “گرائپ واٹر” وقتی سکون تو دے سکتا تھا، مگر آج کے سندھ کو ایک مکمل علاج کی ضرورت ہے۔ ورنہ ہم ہر چند سال بعد ایک نیا “نسخہ” آزمانے کے عادی ہو جائیں گے اور بیماری جوں کی توں برقرار رہے گی

تحریر: : شاہ ولی اللہ جنیدی

Share this post :

Facebook
Twitter
LinkedIn