loader image

Latest Article

Post: کراچی میں بعل کے مجسمے کی حقیقت

کراچی میں بعل کے مجسمے کی حقیقت

کراچی میں ہاہا کارمچا ہوا تھا کہ بت پرستوں کے شیطانی خدا بعل کا مجسمہ سڑکوں پر بننے لگا ۔ یہودی لابی کراچی میں بھی سرگرم ہوگئی ۔ صیہونیوں، شیطانی طاقتوں ۔ فری میسنز ۔ المناٹی کے گٹھ جوڑ کی سازشیں بے نقاب کرنے کے دعوے کیے گئے ۔ کسی نے کہا بت پرستوں کے خفیہ عزائم سامنے آگئے ۔ ایران، اسرائیل ،امریکا جنگ سمیت مشرق اورمغرب کے قلابے ملادیئے گئے۔

گویا کہ سازشی نظریات کے کھوجیوں نے سوشل میڈیا پرایک طوفان برپا کررکھا تھا۔ لیکن ہوا کیا ۔ کھودا پہاڑنکلا چوہا ۔۔ اورچوہا بھی مرا ہوا ۔۔ ماجرا کیا تھا اب وہ بھی سن لیں ۔ کراچی کا ایک علاقہ ہے کورنگی مہران ٹاؤن یہاں ایک مجسمہ سازعمران کی دکان تھی ،، وہ بھائی صاحب اپنی دکان کے باہر سڑک پر کسی شخص کی جانب سے دیئے گئے آرڈر پر سانڈ کی شکل کا شیطانی مجسمہ بنارہا تھا جسےعرف عام میں بعل کہتے ہیں ۔

        یہ ایک شیطانی خدا ہے،جسے ہزاروں سال پہلے کنعان کا قبیلہ پوجا کرتا تھا۔اسے بارش،زراعت اور فصلوں کا خدا کہا جاتا تھا ۔ حضرت الیاس علیہ السلام کی قوم بھی اسی بت کی پوجا کیا کرتی تھی ۔ قرآن مجید کی سورۃ صافات میں بھی اس بت کا ذکر ہے ۔ اس بت کا خوف ناک پہلو یہ تھا کہ اسے بچوں کی بھینٹ چڑھائی جاتی تھی ۔ غزہ پر صیہونیوں کے حملوں میں ہزاروں کی تعداد میں بچوں کی شہادت کو بھی اس امر سے تعبیر کیا گیا کہ اسرائیلی فوج اسی بعل کے مجسمے کو بچوں کی بلی چڑھا رہی ہے ۔ یہی وجہ تھی کہ ایران میں جب اسرائیل کے خلاف مظاہرہ کیا گیا تو وہاں بھی بعل کے مجسمے کو نذر آتش کیا گیا تھا ۔ ایران میں جب امریکا اور اسرائیل نے پہلا حملہ کیا تو وہاں بھی کم سن بچیوں کے اسکول کو ہی نشانہ بنایا گیا ۔ سیکڑوں کی تعداد میں معصوم طالبات لقمہ اجل بن گئیں ۔

دیکھیں باتوں ہی باتوں میں بات کہاں سے کہاں نکل گئی ۔ تو بات ہورہی تھی کہ کراچی کے علاقے کورنگی میں عمران نامی ایک مجسمہ ساز دکان کے باہر سڑک پربعل کا مسجمہ بنا رہا تھا ۔ اسی دوران وہاں سےکسی ایماں کی حرارت والے کا گزرہوا جس نے اس شیطانی مجسمے کو بنتا دیکھ کر ویڈیو بنالی ۔ اور جذبہ ایمانی کے تحت سوشل میڈیا پرڈال دی ۔ ویڈیو آنے کی دیر تھی یہ جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی ۔ پھرتوبھیا پولیس بھی حرکت میں آگئی ۔ آؤ دیکھا نہ تاؤ، دکان پر گئی اوربت کو مجسمہ سازسمیت اٹھا کرتھانے میں لےآئی ۔

      جب تفتیش ہوئی تو پتہ چلا مجسمہ سازعمران سے تھرموپول اورفوم کا یہ مجسمہ ایک شیعہ تنظیم کے رہنما شبرزیدی نے بنوایا تھا ۔ پولیس کے مطابق مجسمہ ساز عمران نے بیان دیا کہ ۔ شبر زیدی کے مطابق یوم القدس کے لیے مجسمہ بنوایا تھااور کہا جمعہ کے روز اسے پتلے کو ریلی کے دوران نذر آتش کیا جائیگا ۔ اس طرح ان تمام سازشی نظریات کے غبارے سے ہوا نکل گئی جو سوشل میڈیا پر پھیلائےجارہے تھے ۔ بے شک مسلمانوں کے بطور بیدار فرد دین خدا کے دشمنوں کی سرگرمیوں پر نطر رکھنی چاہیے اور اس کے انسداد کے لیے ہمہ وقت تیار بھی رہنا چاہیے ۔ مگر اس میں از حد احتیاط کی بھی ضرورت ہے ، آپ کی نیک نیتی سے بنائی گئی ویڈیو کسی کے لیے شرارت اور کسی کے لیے زندگی کا روگ بھی بن سکتی ہے

تحریر: ظہیر اعوان

Share this post :

Facebook
Twitter
LinkedIn