کراچی (نامہ نگار خصوصی ) سندھ کے سینئر وزیر اطلاعات ، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ پرامن احتجاج کا حق سب کوحاصل ہے لیکن عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کا حق کسی کو نہیں ہے۔ کراچی میں احتجاج کے دوران جماعت اسلامی کے کارکنا ن پولیس پر پتھراﺅ کررہے تھے، پولیس والوں کے بھی بچے ہیں، عوام کا کیا قصور ہے کہ کوئی بھی سڑک بند کردی جائے۔انہوں نے یہ بات پیر کو سندھ اسمبلی میں جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق کے ایک نقطہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہی۔ محمد فاروق نے 14 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر جماعت اسلامی کے احتجاجی دھرنے پر پولیس کے مبینہ تشدد کا معاملہ اٹھایا تھا۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پولیس نے جماعت اسلامی کے تمام عہدیداران کو کہا تھا کہ آپ ریڈ زون میں داخل نہیں ہونگے لیکن آپ لوگ زبردستی ریڈ زون میں داخل ہوئے۔ جماعت کے کارکنان پولیس والوں پر پتھراﺅ کر رہے تھے۔ چند دن پہلے شاہراہ فیصل پر جلسہ کیا گیا اس کی بھی کوئی اجازت نہیں لی گئی تھی۔ آئے دن کے جلسے جلوسوں سے عام شہری رل جاتے ہیں۔ہفتے کے دن اسمبلی بند تھی۔ آپ لوگ وہاں کیا کرنے گئے تھے؟ شرجیل میمن نے الزام لگایا کہ سندھ اسمبلی کے ایک سابق ممبر پولیس پر پتھراﺅ کروا رہے تھے۔ پولیس والے بھی فیملی والے ہیں کیا ان کے بچے نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ حافظ نعیم حلف کیوں نہیں لیتے ؟ وہ پریس کانفرنس تو روز کر لیتے ہیں۔ شرجیل میمن نے کہا کہ آپ لوگوں کو سڑکوں پر عوام کو تنگ نہیں کرنا چاہیے ۔اسمبلی میں دو گھنٹے تقریر کریں کس نے منع کیا ہے۔حکومت کو پیغام پہنچانے کا طریقہ اسمبلی میں بات کرنا ہے۔ مگر ان لوگوں کا رویہ ایسا ہے کہ انہیں جلسے جلوس کے لئے کسی اجازت کی بھی ضرورت نہیں۔اس طرح سے کراچی کی کوئی خدمت نہیں کی جاسکتی۔قبل ازیں جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے اپنے نقطہ اراعتراض پر کہا کہ ان کی جماعت کراچی کے مسائل کے لیے احتجاج کررہی تھی ۔ ہم لوگ کراچی شہر کے لئے جو ٹیکس دیتا ہے اپنا حق مانگ رہے تھے۔ محمد فاروق نے پولیس تشدد سے زخمی ہونے والے کارکنان کی تصاویر دکھا ئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے احتجاج سے کوئی ایک پتہ بھی نہیں گرا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ایک ہفتے میں دو بار لاک اپ کیا گیا۔ محمد فاروق نے کہا کہ حکومت سندھ کراچی کو اس کا حق نہیں دے رہی تو کم از کم احتجاج کا حق ہی دیدے۔پی ٹی آئی کے رکن شبیر قریشی نے اپنے نقطہ اعتراض پر کہا کہ گزشتہ دنوں ہمارے ایک ایم پی اے اور کارکارکنان پر پولیس تشدد ہوا تھا۔شرجیل میمن نے کہا کہ اس حوالے سے وزیر داخلہ نے نہ صرف بات کی بلکہ معذرت کا اظہار بھی کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ایک ایم پی اے پر تشدد ہوا اس پر ہم شرمندہ ا ور معذرت خواہ ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ ایسے واقعات نہ ہوں ۔انہوں نے کہا کہ ایم پی اے پر تشدد پر ایس ایس پی فدا جانوری کے خلاف ایکشن ہوگا لیکن یہاں یہ بھی یاد دلانا چاہتا ہوں کہ جب پی ٹی آئی کی حکومت تھی تو آپ نے کبھی معافی نہیں مانگی ۔آپ کی حکومت نے اپنے مخالفین پر ظلم کے پہاڑ گرائے تھے ۔انہوں نے کہا کہ جس طرح آپ کے حکومت نے سیاسی رہنماو¿ں کے خلاف مقدمے بنائے یاد کریں۔فریال تالپور کو عید کی رات کو جیل میں ڈالا گیا۔ خورشید شاہ اور آغا سراج درانی کو گرفتار کیا گیا۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس پیر کو اسپیکر سید اویس قادر شاہ کی زیر صدارت شروع ہوا۔ ایوان میں پیر کو محکمہ اطلاعات سے متعلق وقفہ سوالات تھا۔ سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے ارکان کے مختلف تحریری اور ضمنی سوالوں کے جواب دیئے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میںسزا جزا کے قوانین موجود ہیں مگرپیکا ایکٹ کا ایک صوبے میں غلط استعمال ہوا۔ ایک صحافی کو غلط طریقے سے اٹھایا گیا بعد میں چھوڑدیا گیا۔ میری درخواست ہے کہ اس معاملے پر پارلیمانی کمیٹی بنائیں اور ڈی فیمینیشن کی سزا سخت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کا کام قانون سازی ہے۔ سوشل میڈیا پر جو خبریں چلتی ہیں انکا کوئی سر اور پیر نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی کی آزادی کے خلاف بالکل نہیں ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں شرجیل میمن نے کہا کہ اخبارات کی مالی امداد کا کوئی طریقہ موجود نہیں تاہم حکومت اخبارات کی سرکیولیشن چیک کر کہ انہیں اشتہار دیتی ہے۔ نجی میگزین بھی مارکیٹ میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہفتہ روزہ اخبارات کو ہم کم اشتہار دیتے ہیں جبکہ حکومت روزناموں کو زیادہ اہمیت دیتی ہے ۔ پیپلز پارٹی کے رکن آصف موسی نے دریافت کیا کہ صحافیوں کی مالی امداد کا کیا طریقہ کار ہے؟ شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ حکومت سندھ مختلف پریس کلبز کو گرانٹس دیتی ہے ، صحافتی تنظیموں کو گرانٹس دی جاتی ہے۔ وہ اپنے حساب سے صحافیوں کو پیسے دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ ضرورت مند صحافیوں کو علاج معالجے میں بھی بلاامتیاز مدد فراہم کرتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم صحافیوں کے کہتے ہیں خط و خطابت بعد میں ہوتی رہے گی پہلے آپ علاج کروائیں۔ہم چوبیس گھنٹے صحافیوں کے لیے موجود رہتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے رکن سجاد سومرو نے پوچھا کہ کتنے اخبارات شائع ہوتے ہیں اور کتنے کاغذی کارروائی کی حد تک موجود ہیں۔ شرجیل میمن نے کہا کہ چند اخبارات کی سرکیولیشن اچھی ہے۔ وفاقی حکومت سے اخبارات کا اے بی سی ہونا لازمی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اخبارات کے اشتہارات کے ریٹ بھی وفاقی حکومت طے کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اے پی این ایس سے کہا ہے کہ اشتہارات آپ تقسیم کریں۔ انہوں نے پہلے حامی بھرلی تھی لیکن پھر جواب نہیں آیا۔تحریری طور پر خط لکھا تو اس کا جواب بھی نہیں آیا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ میں تیار ہوں کہ اے پی این ایس اشتہارات تقسیم کرے۔ سجاد سومرو نے پوچھا کہ جھوٹی خبر چلانے پر کتنے اخبارات کے خلاف کارروائی کی گئی۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ فیک نیوز کے بارے میں قوانین موجود ہیں۔ ہم قانون بنائیں گے تاکہ جھوٹی خبر کے خلاف کارروائی کر سکیں۔ یہ قوانین سیاستدانوں پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے ابھی ڈجیٹل میڈیا کو بھی اشتہارات دینا شروع کئے ہیں۔ بعدازاںسندھ اسمبلی کا اجلاس منگل دوپہر بارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا۔


