loader image

Latest News & Article

Post: میہڑ میں دادا، والد اورچچا کا قتل: ام رباب کیس ہارگئی ، سردار جیت گئے

میہڑ میں دادا، والد اورچچا کا قتل: ام رباب کیس ہارگئی ، سردار جیت گئے

دادو: ساڑھے چار سو سماعتیں ۔۔ آٹھ سال کا طویل انتظار۔ ننگے پاؤں عدالتوں کا سفر ۔۔ مگر فیصلہ امیدوں کے برخلاف ۔۔ میہڑ کی ام رباب ۔ اپنے ہی چانڈیو سرداروں کے خلاف عدالتی جنگ کا پہلا مرحلہ ہارگئی۔

دادو میں ام رباب چانڈیو کے دادا، والد اور چچا کے تہرے قتل کیس کا فیصلہ آگیا ۔ ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ دادو کے جج حسن علی کلوڑ نے ناکافی شواہد کی بنا پر تمام ملزموں کو بری کردیا ۔ محفوظ فیصلہ سنانے کے موقع پرعدالت کے اندر غیر متعلقہ افراد اورمیڈیا کے داخلے پرمکمل پابندی عائد کی گئی تھی ۔ مدعی پرویز چانڈیو اور کیس کی پیروی کرنے والی ام رباب چانڈیو کو عدالت تک پہنچانے کے لیے بھی سکیورٹی کے انتظامات کیے گئےتھے ۔ ہائی پروفائل کیس کے فیصلے کے پیش نظرسیشن جج دادو کے احکامات پرضلع دادو میں دفعہ 144 نافذ کی گئی ۔ دادو پولیس کی جانب سے 6 ڈی ایس پیز، 33 ایس ایچ اوزسمیت 700 پولیس اہلکار عدالت کے اندراورمرکزی سڑکوں پر سکیورٹی پرمامورتھے۔

17 جنوری 2018 کو میہڑ میں ام رباب چانڈیو کے دادا کرم اللہ چانڈیو، والد مختیار چانڈیواورچچا قابل چانڈیو کو قتل کیا گیا تھا ۔ ہائی پروفائل قتل کیس کی 450 سماعتوں میں گواہوں کے بیانات اوردلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے29 مارچ کو فیصلہ محفوظ کیا تھا ۔ اس مقدمے میں 4 ملزم ذوالفقار، علی گوہر، مرتضیٰ اور سکندرچانڈیو جیل میں ہیں جبکہ ایم پی اے سرداراحمد چانڈیو، برہان خان چانڈیو، ستارچانڈیواوراس وقت کے ایس ایچ اوکریم چانڈیو ضمانت پررہا تھے۔

ام رباب چانڈیو کے وکیل صلاح الدین پنہور نے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میہڑ میں تین افراد کا دن دہاڑے قتل کیا گیا۔ تین عینی شاہد بھی موجود تھے ۔ فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرینگے ۔ ام رباب چانڈیو نے بھی فیصلے پر اپنا ویڈیو بیان جاری کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے مایوس نہیں ہونگی ۔ انصاف کے لیے لڑتی رہیں گی ۔ اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کیا جائیگا ۔

امِ رباب چانڈیو اس وقت شہ سرخیوں میں آئیں جب وہ تہرے قتل کیس میں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج نہ ہونے پرننگے پاؤں دادو کی مقامی عدالت آئی تھیں۔ اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے کیس کو 3 ماہ میں مکمل کرنے کا حکم صادرکیا تھا۔

Share this post :

Facebook
Twitter
LinkedIn