آبنائے ہرمزیا اسٹریٹ آف ہرمز، خلیج عمان اورخلیج فارس کے درمیان واقع ایک اہم آبنائے ہے۔ اس کے شمالی ساحلوں پر ایران جبکہ جنوبی ساحلوں پر متحدہ عرب امارات اور اومان واقع ہیں۔ یہ تیل کی دولت سے مالا مال خلیجی ریاستوں کے تیل کی برآمدات کا واحد بحری راستہ ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ روزانہ دنیا بھر میں تیل کی کل رسد کا 20 فیصد اس آبنائے سے گزرتا ہے۔ اس آبنائے کے نام سے متعلق تاریخ دانوں کی اکثریت متفق ہے کہ یہ آبی گزرگاہ فارس کے بادشاہ شاہ پوردوم کی والدہ افیرا ہرمز کے نام سے موسوم ہے ، جس نے 309 سے 379 عیسوی کے درمیان حکومت کی تھی ۔

آبنائے ہرمز یا اسٹریٹ آف ہرمز سب سے کم مقام پر تقریباً 33 کلومیٹر چوڑا ہے لیکن اس کی گہرائی ہر جگہ اتنی نہیں کہ بڑے جہاز آسانی سے گزر سکیں۔ اسی لیے تیل بردار اور مال بردار جہازوں کی آمدورفت کے لیے ٹریفک سیپریشن اسکیم بنائی گئی ہے جس میں داخلے اور اخراج کے لیے الگ الگ راستے مقرر ہیں۔ ہر راستہ صرف تقریباً تین کلومیٹر چوڑا ہے جبکہ ان کے درمیان مزید تین کلومیٹر کا بفر زون رکھا گیا ہے تاکہ جہاز آپس میں نہ ٹکرائیں۔ یعنی دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی محض 6 کلومیٹر کے اس تنگ راستے پر منحصر ہے۔

یہ شپنگ لینز ایران کے جزائر قشم اور ہرمز کے قریب سے گزرتی ہیں جہاں سے ایران کسی بھی جہاز کو سیکنڈوں میں توپ خانے یا
اینٹی شپ میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنا سکتا ہے۔ ایران کے لیے بحری جہازوں کو نشانہ بنانا اس لیے بھی آسان ہے کیونکہ ان تجارتی بحری جہازوں کا سائز بڑا ہوتا ہے، ان کی سپیڈ صرف 20 کلومیٹرفی گھنٹہ کے قریب ہوتی ہے اوران کے پاس ڈیفنس کے لیے کوئی خاص ایڈوانسڈ سوفییسٹیکٹڈ سسٹم نہیں ہوتا۔ اگر کوئی جنگی بحری جہاز بھی کسی تجارتی جہاز کو اسکواڈ فراہم کرنے کے لیے اس راستے میں داخل ہوتا ہے تو اس تنگ گزرگاہ میں ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کی بروقت ڈیٹیکشن، ٹریکنگ اور ٹارگٹنگ چیلنجنگ ہے۔

ایران نےاپنے کئی ایڈوانسڈ اینٹی شپ بیلسٹک اور کروز میزائل جیسے ابو مہدی، قدیر، قادر اور نور ابھی تک بڑی تعداد میں استعمال نہیں کیے ہیں اور اسی مقصد کے لیے محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔ 50 کلوگرام وار ہیڈ لے کر جانے کی صلاحیت والے کم لاگت کے شاہد ڈرونز پورے ایران کے کسی بھی علاقے سے آسانی سے لانچ کیے جا سکتے ہیں، تیز رفتار بوٹس اورمائنز سے بھی کسی بحری جہاز کو نشانہ بنا کر ناکارہ کیا جا سکتا ہے۔ اسٹریٹ آف ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنا ضروری نہیں۔ اگر اسے صرف مائنز اور فوری حملوں کے ذریعےغیر محفوظ بنا دیا جائے تو شپنگ اور انشورنس کمپنیاں خود ہی اپنے جہاز بھیجنے سے گریز کرتی ہیں۔ اسی تناظر میں ایران بارہا یہ مؤقف پیش کرتا رہا ہے کہ اسٹریٹ آف ہرمز بظاہر کھلا ہوتا ہے لیکن جہاز خود گزرنے سے ہچکچاتے ہیں۔


