loader image

Latest Article

Post: “والد کی نصیحت”

“والد کی نصیحت”

والدکہا کرتے تھے کہ

یہ دنیا مٹی کا ایک کھلونا ہے۔

چمکدار ضرور ہے مگر پائیدار نہیں،

جیسے بچے کے ہاتھ میں مٹی کا بنا ہوا چراغ

جو ذرا سی ٹھوکر سے بکھر جاتا ہے

وہ کہتے تھے

بیٹا! دنیا کی رونقیں صبح کی شبنم کی طرح ہوتی ہیں،

دھوپ نکلتے ہی مٹ جاتی ہیں

آج جو محفل سجی ہے

کل اسی جگہ خاموشی کا بسیرا ہوگا

میں جب دنیا کے جھمیلوں میں الجھ کر

پریشانیوں کا بوجھ اٹھانے لگتا

تو والد مسکرا کر کہتے

کیوں اس مٹی کے کھلونے کے لئے دل کو تھکاتے ہو؟

یہاں جو کچھ ہے

سب عارضی ہے، سب ادھار کا ہے۔

انہوں نے سکھایا

کہ خوشی آئے تو شکر کرو

اور غم آئے تو صبر۔

کیونکہ وقت کا دریا

کسی ایک کنارے پر ٹھہرتا نہیں۔

اب جب وہ خود اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں

ان کی باتیں دل میں چراغ کی طرح جلتی ہیں۔

دنیا کی چکاچوند میں بھی

ان کی آواز سنائی دیتی ہے

بیٹا! یہ دنیا مٹی کا کھلونا ہے

اس کے ٹوٹنے پر دل مت توڑنا۔

اصل زندگی تو وہ ہے

جو فنا کے بعد بھی باقی رہتی ہے

تحریر: : شاہ ولی اللہ جنیدی

Share this post :

Facebook
Twitter
LinkedIn