اسلام آباد : ایران امریکا اور اسرائیل جنگ میں پاکستان ایک بار پھر مرکزنگاہ بن گیا ۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور نشریاتی اداروں نے بھی جنگ بندی کے لیے پاکستان کی کوششوں اور اقدامات کا خاص طور پر ذکر کیا ۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق فیلڈ مارشل سیدعاصم منیرنےاتوارکو امریکی صدر ٹرمپ سےٹیلیفونک گفتگوکی۔ دونوں رہنمائوں نے مشرق وسطی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ پیرکو وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سےبات چیت کی۔ پاکستان خود کو ایران کےخلاف جنگ کےخاتمے کے لیے ثالث کے طورپرپیش کررہا ہے۔ اخبارکا کہنا ہے کہ سینئرپاکستانی حکام نےایرانی عہدیداروں ، خصوصی ایلچی اسٹیووٹکوف اورجیرڈ کشنر کے پسِ پردہ رابطےکرائے۔
رائٹرزخبرایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران اورامریکا کے مابین مذاکرات ہوئے جس کے لیے پاکستان نے اہم کردارادا کیا۔ پاکستان نےامریکااورایران کے درمیان ثالثی کی کوشش کی۔ترکیہ اورمصرنےبھی کشیدگی میں کمی کےلیے اپنا کردارادا کیا۔ تینوں ممالک نےاسٹیووٹکوف اورعباس عراقچی سے الگ الگ مذاکرات میں موجودہ کشیدگی میں کمی پر بات کی۔ واشنگٹن نےایران سےاپنی بات چیت کےبارے میں اسرائیل کوآگاہ کردیا۔
ترجمان دفترخارجہ طاہر اندرابی نے سی این این کو بتایا کہ امریکا اورایران رضامند ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کےلیےہر وقت تیار ہے۔الجزیرہ کے مطابق امریکی اورایرانی وفودکی مذاکرات کےلیے اسلام آباد آمد متوقع ہے۔۔بات چیت رواں ہفتے کے اوائل میں ہوسکتی ہے۔۔امریکی وفدمیں نائب صدر جے ڈی وینس،اسٹیووٹکوف اورجیرڈکشنرشامل ہونے کا امکان ہے۔


