عیدالفطر مسلمانوں کا وہ پرمسرت تہوار ہے جو صرف ایک ماہ کی عبادت کے اختتام کا اعلان ہی نہیں بلکہ محبت، اپنائیت اور خاندانی رشتوں کی تجدید کا بھی خوبصورت موقع بن جاتا ہے۔ اس مبارک دن کی خوشیوں میں عیدی دینے کی روایت ایک دلکش اور قدیم روایت کے طور پر صدیوں سے قائم ہے۔ یہ روایت جہاں بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرتی ہے وہیں بڑوں کے درمیان شفقت، خلوص اور محبت کے جذبات کو بھی مضبوط بناتی ہے۔
مؤرخین کے مطابق عیدی دینے کی روایت کی جڑیں قدیم مصر سے جا ملتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس روایت کو باقاعدہ رواج خلافت فاطمیہ کے دورِ حکومت میں ملا۔ اس زمانے میں حکمران خوشی اور مسرت کے مواقع پر اپنے دربار میں سپاہیوں، جرنیلوں اور درباریوں میں انعام و اکرام تقسیم کیا کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ یہ روایت عوامی زندگی میں بھی سرایت کر گئی اور عید کے موقع پر تحائف اور رقوم تقسیم کرنے کا سلسلہ عام ہو گیا۔
بعد ازاں یہی روایت سلطنتِ عثمانیہ میں بھی برقرار رہی۔ عثمانی دور میں خلفائے وقت اپنے وزراء اور معززین کو سونے کے سکے اور کم درجے کے اہلکاروں کو چاندی کے سکے بطور عیدی دیا کرتے تھے، جبکہ بچوں کو بھی سکوں اور تحائف کی صورت میں خوش کیا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ روایت گھریلو زندگی کا حصہ بنتی گئی اور عیدی بچوں کی عید کی سب سے بڑی خوشی بن گئی۔
عثمانی معاشرت میں عید کے دن کی ایک دلچسپ روایت بھی بیان کی جاتی ہے۔ عید کی نماز سے واپسی پر جب شوہر گھر میں داخل ہوتے تو ان کی شریکِ حیات انہیں سب سے پہلے قہوے کی پیالی پیش کرتیں۔ قہوہ پینے کے بعد شوہر اسی خالی پیالی میں سونے کی انگوٹھی رکھ کر بطور عیدی اپنی اہلیہ کو پیش کرتے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ روایت آج بھی شام، لیبیا، سوڈان اور مصر کے بعض علاقوں میں کہیں کہیں باقی ہے۔
برصغیر میں عید اور عیدی برسوں سے ہماری تہذیب، ثقافت اور سماجی روایات کا دلکش حصہ بن چکی ہے۔ عید کی صبح نماز کے بعد گھر لوٹ کر بزرگوں کو سلام کرنا اور ان سے عیدی لینا ایک مانوس اور دلکش منظر ہوتا ہے۔ شاید یہی دنیا کا واحد تہوار ہے جو بڑوں کی نسبت بچوں میں زیادہ مقبول ہے، اور جس کا انتظار بچے پورا سال بے تابی سے کرتے ہیں۔
بچپن کی عیدیں یاد آئیں تو دل ایک عجیب سی مٹھاس سے بھر جاتا ہے۔ نمازِ عید کے بعد گھر آکر سب کو فرداً فرداً سلام کیا جاتا تھا۔ پھر والدہ مرحومہ، والد صاحب مرحوم، آپا، بھائی صاحب اور خاندان کے بزرگوں سے عیدی ملا کرتی تھی۔ اس وقت ملنے والی رقم اگرچہ معمولی ہوتی تھی مگر اس کی خوشی بے حد بڑی ہوتی تھی۔ اکثر ایسا ہوتا کہ ہم اپنی عیدی خوشی خوشی والدہ کے ہاتھ میں رکھ دیتے تھے اور اس عمل میں ایک عجیب سی طمانیت محسوس کرتے تھے۔
وقت گزرتا گیا، بچپن جوانی میں بدل گیا۔ اسکول، کالج اور پھر یونیورسٹی کے زمانے آئے تو عیدی لینے کے ساتھ ساتھ اپنے سے چھوٹوں کو دینے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ محلے میں بھی کچھ ایسے لوگ تھے جو ہر سال بڑے خلوص سے عیدی دیا کرتے تھے۔ ان میں شمس النسا بھابھی مرحومہ اور معمانی علیم بھائی کی والدہ کا ذکر آج بھی دل کو نم کر دیتا ہے۔ اگرچہ ان سے کوئی خونی رشتہ نہ تھا مگر محبت اور شفقت کا ایسا رشتہ تھا جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔
شمس النسا بھابھی مرحومہ ہر سال محبت سے سوئیاں کھلاتیں اور پھر ایک رومال یا لفافے میں عیدی رکھ کر مسکراتے ہوئے تھما دیتیں۔ اسی طرح معمانی مرحومہ کو بھی میرا شدت سے انتظار رہتا۔ اگر عید کے دن نہ جا پاتا تو دوسرے یا تیسرے دن ضرور ان کے گھر حاضر ہوتا، اور اگر دیر ہو جاتی تو پیغام آ جاتا کہ “امی یاد کر رہی ہیں۔” میں فوراً جا کر سلام کرتا اور ان کے ہاتھ سے عیدی وصول کرتا۔
مگر وقت کی تیز رفتار ہوا بہت کچھ بدل دیتی ہے۔ والدین کے انتقال کے بعد آہستہ آہستہ وہ لوگ بھی رخصت ہوتے چلے گئے جو خلوص اور محبت سے عیدی دیا کرتے تھے۔ اب یادوں کے دریچے کھلتے ہیں تو وہ سب چہرے، وہ شفقت بھرے ہاتھ اور وہ سادہ سی خوشیاں دل میں ایک میٹھی سی کسک جگا جاتی ہیں۔
بھائی صاحب آج بھی والد بزرگوار کی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا معمول ہے کہ رمضان کا آخری عشرہ شہرِ مقدس میں گزارتے ہیں، یوں ان کی عید اکثر مدینہ منورہ میں ہوتی ہے۔ اس لیے وہ روانگی سے پہلے ہی ہم سب میں عیدی تقسیم کر دیتے ہیں۔ یہ روایت یقیناً خوشی کا باعث ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ماں باپ کے ہاتھ سے ملنے والی عیدی کی بات ہی کچھ اور تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ عیدی کی روایت صرف گھروں اور خاندانوں تک محدود نہیں رہی بلکہ معاشرتی اور سرکاری حلقوں میں بھی اس کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ عیدالفطر کے موقع پر بعض اوقات اربابِ اختیار، مثلاً گورنر، وزیراعلیٰ اور دیگر اعلیٰ سرکاری افسران بھی اپنے ماتحت عملے، ملازمین اور محافظوں میں عیدی یا خصوصی انعامات تقسیم کرتے ہیں۔ اس عمل کا مقصد صرف رسمی خوشی کا اظہار نہیں بلکہ ماتحت عملے کی حوصلہ افزائی اور اداروں کے اندر خلوص اور اپنائیت کی فضا کو فروغ دینا بھی ہوتا ہے۔
یوں عیدی دراصل چند نوٹوں یا سکوں کا نام نہیں بلکہ محبت، شفقت اور یادوں کا وہ سرمایہ ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عید کی خوشیوں میں جب عیدی کا ذکر آتا ہے تو دل کے کسی گوشے میں بچپن کی مسکراہٹیں، بزرگوں کی دعائیں اور گزرے ہوئے زمانوں کی خوشبو ایک ساتھ زندہ ہو اٹھتی ہے۔
تحریر: : شاہ ولی اللہ جنیدی
