شہرِ قائد ایک بار پھر معمولی بارش اور تیز آندھی کے بعد اندھیرے میں ڈوب گیا۔ کے-الیکٹرک کے 800 سے زائد فیڈرز ٹرپ ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ شہر کا بجلی کا نظام اب بھی کمزور بنیادوں پر کھڑا ہے۔ دو کروڑ سے زائد آبادی اور پاکستان کے معاشی مرکز کی حیثیت رکھنے والے اس شہر میں بجلی کی مسلسل بندش نہ صرف شہری زندگی کو مفلوج کرتی ہے بلکہ صنعتی و تجارتی سرگرمیوں پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔
یہ امر باعثِ تشویش ہے کہ نجکاری کے طویل عرصے گزرنے کے باوجود کے الیکٹرک اپنی کارکردگی کو اس معیار تک نہیں لے جا سکی جس کی عوام کو توقع تھی۔ ہر بارش کے بعد شہر کا بڑا حصہ گھنٹوں بلکہ بعض اوقات پوری رات بجلی سے محروم رہتا ہے۔ حالیہ واقعے میں بھی شام سے معطل ہونے والی بجلی سحری تک بحال نہ ہو سکی، جس نے رمضان جیسے مقدس مہینے میں شہریوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا۔
نجکاری کو عمومی طور پر کارکردگی میں بہتری اور ادارہ جاتی اصلاحات کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، مگر پاکستان میں اس کا تجربہ اکثر متنازع رہا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک کی مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ نجکاری کی کامیابی کا دارومدار صرف اثاثوں کی فروخت پر نہیں بلکہ مضبوط ریگولیٹری نظام، شفافیت اور جوابدہی پر ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے یہاں یہ عناصر کمزور دکھائی دیتے ہیں، جس کے باعث نجی ادارے عوامی خدمت کے بجائے منافع کو ترجیح دیتے ہیں۔
سابق گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی جانب بجلی کے نظام کی بہتری کے بلند بانگ دعوی کئے گئے تھے کے الیکٹرک کے سی اور مونس علوی سے متعدد ملاقاتین بھی کی گئیں اس کے باوجود صورتحال میں کوئی نمایاں بہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔ ادارے کی جانب سے انھیں نظام کے مستحکم ہونے کے دعوے کئے گئے تھے مگر یہ دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔
اب جبکہ نئے گورنر سندھ سید نہال ہاشمی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں، ان پر لازم ہے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں۔ محض بیانات اور رسمی اجلاسوں کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ کے-الیکٹرک کی کارکردگی کا آزادانہ آڈٹ، انفراسٹرکچر کی بہتری، اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی ترتیب دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وفاقی و صوبائی حکومتوں کو بھی چاہیے کہ وہ بجلی کے شعبے میں ریگولیٹری اداروں کو مضبوط بنائیں تاکہ نجی اجارہ داری کے نقصانات کو کم کیا جا سکے۔ شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے، جس سے کسی صورت چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔
اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف عوام کا اعتماد مزید متزلزل ہوگا بلکہ کراچی کی معاشی حیثیت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ دعوؤں کے بجائے عملی اصلاحات کی جائیں تاکہ شہر قائد کو بارش کے ساتھ آنے والے اندھیروں سے نجات دلائی جا سکے۔
تحریر: : شاہ ولی اللہ جنیدی
