کراچی : وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے51ویں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پالیسی بورڈ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دریائے سندھ پر ایک نئے پل کی تعمیر کی منظوری دے دی، جو سکھر، روہڑی اور ملحقہ علاقوں کے درمیان نیا رابطہ فراہم کرے گا اور موجودہ راستوں پر ٹریفک کا دباؤ کم کرے گا۔ وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں صوبائی وزرا ؛ سید ناصر حسین شاہ، ضیا الحسن لنجار، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی سید قاسم نوید ، چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ سمیت متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز شریک ہوئے ۔
صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے بتایا کہ سکھر اور روہڑی ایک مربوط شہری اور معاشی راہداری بن چکے ہیں فی الحال مرکزی گزرگاہ لینس ڈاؤن پل ہے، جبکہ سکھر بیراج بھی معاونت کرتا ہے۔ تاہم مرمت کے باعث سکھر بیراج کم از کم 2027ء تک عوامی آمدورفت کے لیے بند رہے گا ۔ ان مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے نئے سکھرروہڑی پل منصوبے کے لیے پروجیکٹ ڈیولپمنٹ فیسلٹی (پی ڈی ایف) کی منظوری دی تاکہ ماہر مشیروں کی خدمات حاصل کی جاسکیں ۔ یہ پل بکھر جزیرے کے شمال میں تقریباً 1.5 کلومیٹر طویل، کثیرلین (ملٹی لین) ہوگا، جس میں بھاری تجارتی گاڑیوں کے لیے گنجائش اور پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص راستے شامل ہوں گے۔
پی پی پی بورڈ نے 39 کلومیٹر طویل شاہراہِ بھٹو ایکسپریس وے کا جائزہ لیا، جو اس وقت 88.2 فیصد مکمل ہو چکی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت دی کہ اسے اپریل 2026 تک مکمل طور پر فعال بنایا جائے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) نظام کو زیادہ شفاف اور قابلِ سرمایہ کاری بنانے کے لیے کئی اہم فیصلوں کی منظوری دی۔ پی پی پی بورڈ نےانفراسٹرکچر منصوبوں میں غیر معمولی بولیوں (abnormal bids) کی جانچ کے لیےنئےقواعد منظورکیے، جن کے تحت تخمینہ لاگت سے 15 فیصد زیادہ یا کم بولیوں کو مسترد کر دیا جائے گا تاکہ مالی نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے۔ اسی طرح، نجی شعبے کی جانب سے پیش کیے جانے والے منصوبوں (unsolicited proposals) کے لیے بھی باقاعدہ طریقہ کار منظور کیا گیا۔ اس میں ’رائٹ آف فرسٹ ریفیوزل‘ (ROFR) کا نظام شامل ہے، جس کے تحت اگر ابتدائی تجویز دینے والا سب سے کم بولی دہندہ نہ بنے، مگر اس کی بولی جیتنے والی بولی سے 20 فیصد سے زیادہ نہ ہو، تو وہ یا تو جیتنے والی بولی کے برابر آ سکتا ہے یا منصوبے کی تیاری کے اخراجات کی واپسی حاصل کر سکتا ہے (زیادہ سے زیادہ 10 کروڑ روپے یا کل لاگت کا 1 فیصد جو کم ہو)۔ ان اقدامات کا مقصد شفافیت بڑھانا، نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور سندھ میں پائیدار انفراسٹرکچر ترقی کو یقینی بنانا ہے۔


