مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا گیا ہے، جو اپنے والد علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد اس عہدے پر فائز ہوئے ہیں۔ 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کی بااثر مذہبی کونسل مجلس خبرگانِ رہبری نے منتخب کیا۔
وہ ایران کے مذہبی شہر مشہد میں 1969 میں پیدا ہوئے اور بعد ازاں قم میں دینی تعلیم حاصل کی۔ انہیں ایرانی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ خصوصاً اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے قریب سمجھا جاتا ہے اور طویل عرصے تک اپنے والد کے بااثر مشیر اور “گیٹ کیپر” کے طور پر جانے جاتے رہے۔
انہوں نے ایران عراق جنگ کے آخری برسوں میں بھی خدمات انجام دیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای ماضی میں امریکا کی پابندیوں کا سامنا بھی کر چکے ہیں جبکہ انہیں ایران کی خارجہ پالیسی، سکیورٹی اور جوہری پروگرام جیسے اہم معاملات پر حتمی اختیار رکھنے والے منصب پر فائز کیا گیا ہے۔


