تہران: ایران کے شہید سپریم لیڈرسید علی حسینی خامنہ ای کے بیٹے56 سالہ آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کرلیا گیا ہے ۔ سرکاری میڈیا کے مطابق مجلس خبرگان نے نئے رہنما کے انتخاب کیلئے ووٹنگ کی جس میں مجتبیٰ خامنہ ای کو اکثریت کی حمایت حاصل ہوئی، مجتبی خامنہ ای امام خمینی اور سید علی خامنہ ای کے بعد ایران کے تیسرے رہبرہیں۔
سپریم لیڈر کا باضابطہ اعلان مجلس خبرگان کے سیکرٹریٹ کی جانب سے کیا گیا ۔ مجلس خبرگان کے بیان کے مطابق ’’ مفصل اوردقیق مشاورت کے بعد اور آئین کے آرٹیکل 108 سے استفادہ کرتے ہوئے، شرعی ذمہ داری اور خداوندِ متعال کی موجودگی پر ایمان کے ساتھ، آج کے غیر معمولی اجلاس میں مجلس کے معزز نمائندوں کی فیصلہ کن اکثریت کے ووٹ سے آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس نظام کا تیسرا رہبرمقرراور متعارف کرایا گیا ہے۔ آخر میں آئین کے آرٹیکل 111 کے تحت قائم عارضی کونسل کے ارکان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ہم ایران کی پوری معززقوم، خصوصاً حوزہ ہائے علمیہ اورجامعات کے علماو دانشوروں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ قیادت کے ساتھ بیعت کریں اور ولایت کے محور کے گرد اتحاد و یکجہتی ‘‘کو برقراررکھیں۔
آیت اللہ مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے نام اعلان عوامی مقامات پر کیا گیا جس کا عوام نے نعرہ تکبیر کے ساتھ بھرپور جوش و خروش سے جواب دیا ۔ عرب میڈیا نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ مجلس خبرگان کے اکثریتی ارکان مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر منتخب کرنے پر متفق ہوگئی ہےتاہم باضابطہ اعلان میں تاخیر سکیورٹی خدشات کی وجہ سے تھی۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مجتبیٰ خامنہ ای کی بطور سپریم لیڈر تقرری کو ناقابل قبول قرار دیا تھا اور انہیں شہید کرنے کی دھمکی بھی دی تھی ۔
رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کئی دہائیوں سے سپریم لیڈر کے قریبی حلقے میں ایک با اثر شخصیت سمجھے جاتے رہے ہیں اور ان کے پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ بھی گہرے تعلقات بتائے جاتے ہیں ۔


