loader image

Latest News & Article

Post: امریکہ کی ایران پالیسی: زمینی فوج کی تعیناتی فی الحال زیر غور نہیں، لیکن آپشن کھلا ہے

امریکہ کی ایران پالیسی: زمینی فوج کی تعیناتی فی الحال زیر غور نہیں، لیکن آپشن کھلا ہے

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ ایران میں امریکی زمینی فوج کی تعیناتی موجودہ فوجی حکمت عملی کا حصہ نہیں، تاہم اس آپشن کو مکمل طور پر خارج نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلی حکومتیں بعض اوقات جلدی فیصلے کر کے اپنی اسٹریٹجک گنجائش محدود کر دیتی تھیں، اس لیے موجودہ حکمت عملی زیادہ لچک اور فیصلہ سازی کی گنجائش محفوظ رکھتی ہے۔ “آپریشن ایپک فیوری” کے آغاز کے بعد سے امریکہ اور اسرائیل نے فضائی اور بحری حملوں پر انحصار کیا ہے، جن کا مقصد ایران کے بیلسٹک میزائل خطرے کو ختم کرنا، بحری صلاحیت کو تباہ کرنا، میزائل اور ڈرون کی پیداوار کو متاثر کرنا اور تہران کے ایٹمی ہتھیار کے راستے کو روکنا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور قانون سازوں نے زمینی فوج کے امکان پر محتاط انداز اختیار کیا ہے، جبکہ کانگریس میں بعض ارکان طویل جنگ کے خدشات ظاہر کر رہے ہیں۔ انتظامیہ کا موقف ہے کہ موجودہ حکمت عملی میں زمینی فوج کی ضرورت نہیں، لیکن “بوٹس آن دی گراؤنڈ” کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا گیا تاکہ مستقبل میں لچک برقرار رکھی جا سکے۔

Share this post :

Facebook
Twitter
LinkedIn