کراچی: کراچی میں آیت اللہ سید علی سیستانی کی شہادت کے خلاف احتجاج میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی ۔ مظاہرین نے امریکی قونصلیٹ کے اندر ہلہ بول دیا ۔ فائرنگ سے دس افراد جاں بحق ، تیس سے زائد زخمی ہوگئے ۔
تہران میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کا کراچی میں شدید ردعمل دیکھنےمیں آیا ۔ مظاہرین کا ہجوم ایم ٹی خان روڈ اورمائی کلاچی روڈ کے سنگم پر واقع امریکی قونصلیٹ کی دیواریں اورگیٹ کود کر اندر داخل ہوا ۔ عمارت میں توڑ پھوڑ کی اورآگ بھی لگائی ۔ اس دوران شدید فائرنگ ہوئی جس سے نو مظاہرین جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے ۔ عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ گولیاں سفارتخانے میں موجود اہلکاروں نے چلائی تھیں ۔
ایران میں آیت اللہ خامنہ کی شہادت کی تصدیق ہونے کے بعد مختلف شیعہ تنظیموں نے نمائش چورنگی سے امریکی قونصلیٹ تک ریلی نکالنے کا اعلان کیا تو پولیس نے ٹاور سے جانے والے راستے ہی بند کردیئے ۔ امریکی قونصلیٹ کے قریب بھی حفاظتی انتظامات کو سخت کردیا گیا ۔ لیکن اچانک مظاہرین نکل کر آگئے ۔ پولیس کی جانب شدید لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی لیکن مظاہرین پتھراؤ کرتے امریکی قونصلیٹ کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے ۔ جب گولیاں چلیں تو مظاہرین باہرکی جانب بھاگے۔ ریسکیو اداروں نے لاشیں اور شدید زخمیوں کو سول اسپتال ٹراما سینٹر اوردیگر اسپتال منتقل کیا ۔
سول اسپتال کے ایم ایس کے مطابق اسپتال میں نوافراد کی لاشیں لائی گئیں جب ایک زخمی دوران دم توڑ گیا ۔ جبکہ مجموعی طور پر 34 زخمی افراد اسپتال منتقل کیئے گئے تھے،4 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے ۔ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ رینجرز کو بھی طلب کرلیا گیا ۔ کراچی پولیس چیف بھی خود موقع پر پہنچ گئے ۔ مائی کولاچی روڈ پر امریکن قونصلیٹ کے قریب ہنگامہ آرائی اور ایم ٹی خان روڈ پرمظاہرین کے پتھراؤ اور پولیس کی شدید شیلنگ پھر شروع ہوگئی ۔ سلطان آباد پُل کے نیچے ٹریفک پولیس چوکی کو بھی آگ لگا دی گئی ۔ فائرنگ کے واقعے کے بعد مظاہرین کی بڑی تعداد کی امریکی قونصلیٹ کی جانب پیش قدمی کرنے لگی ۔ وقفے وقفے سے جھڑیوں کا سلسلہ جاری رہا ۔
ا


