اسلام آباد: توانائی کے شدید بحران اور سرکاری یوٹیلٹی اداروں کی کارکردگی پر عوامی بے چینی کے درمیان وزیراعظم شہباز شریف کے لیے قدرتی گیس کے شعبے میں اصلاحات ایک اہم موقع بن کر سامنے آئی ہیں، جہاں ماہرین کے مطابق سرکاری گیس کمپنیوں کی دہائیوں پر محیط اجارہ داری نے نااہلی، بدعنوانی اور ناقص تقسیم نظام کو جنم دیا ہے جس کا بوجھ صنعتوں اور عام صارفین دونوں پر پڑ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گیس ٹرانسپورٹیشن ٹیرف میں آپریٹنگ اخراجات کے علاوہ فرسودگی اور اثاثوں پر منافع کی مد میں اربوں روپے وصول کیے جاتے ہیں جو عملی طور پر خرچ نہیں ہوتے، جس سے صارفین پر دوہرا مالی بوجھ پڑتا ہے اور قیمتیں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں، جبکہ نیٹ ورک میں 7.5 فیصد تک تکنیکی و تجارتی نقصانات، گیس چوری اور بدانتظامی بھی بلوں میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ صنعتی شعبہ غیر یقینی گیس فراہمی سے متاثر ہو کر پیداوار میں مشکلات کا شکار ہے اور گھریلو صارفین سردیوں میں لوڈشیڈنگ، مہنگے بل اور خراب سروس برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ ماہرین کا مؤقف ہے کہ برطانیہ اور اسپین جیسے ممالک میں نجی شعبے کی شمولیت اور مسابقتی نظام نے توانائی کے شعبے کو زیادہ مؤثر بنایا، اس لیے پاکستان میں بھی مرحلہ وار ڈی ریگولیشن، مضبوط ریگولیٹری نگرانی، شفاف قیمتوں کے نظام اور صارفین کے تحفظ کے ساتھ نجی کمپنیوں کو مواقع دینے سے گیس قیمتوں میں کمی، سرمایہ کاری میں اضافہ اور گردشی قرضوں کے بحران میں کمی ممکن ہے، جبکہ موجودہ اجارہ دارانہ نظام کو برقرار رکھنا معیشت اور صارفین دونوں کے لیے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔


