امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ملکی و عالمی امور پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔ پاکستان، ایران، پاک بھارت کشیدگی، غیر قانونی امیگرنٹس اور تجارتی ٹیرف سمیت اہم معاملات پر پالیسی واضح کی ۔ اس خطاب کی ایک خاص بات اس کی طوالت بھی تھی ۔ امریکا کے اناسی سالہ صدرنے تقریباً ایک گھنٹہ پچاس منٹ تک بھاشن دیا ۔ جو کسی بھی امریکی صدر کا طویل ترین خطاب تھا ۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ صدر بل کلنٹن کے پاس تھا ۔ ڈونلڈ ٹرمپ نےکہا وہ ایران سے تنازع کوسفارت کاری سے حل کرنا چاہتے ہیں،لیکن ایک بات یقینی ہے کہ میں دنیا میں دہشت گردی کے نمبرون سرپرست، جو کہ وہ بلاشبہ ہیں، کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دوں گا۔ ایسا نہیں ہونے دیا جا سکتا۔ ایران نے پہلے ہی ایسے میزائل تیار کر لیے ہیں جو یورپ اور بیرونِ ملک ہمارے اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور وہ ایسے میزائل بنانے پر کام کر رہے ہیں جو جلد ہی ریاست ہائے متحدہ امریکہ تک پہنچ سکیں گے۔‘ انہوں نے ایران کی جوہری سائٹس پر فضائی حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’مڈنائٹ ہیمر کے بعد ایران کو خبردارکیا تھا کہ وہ اپنے ہتھیاروں کے پروگرام، خصوصاً جوہری ہتھیاروں کی بحالی کی کوئی آئندہ کوشش نہ کریں۔ اس کے باوجود وہ سب کچھ دوبارہ شروع کررہے ہیں، صدرٹرمپ حسب عادت گزشتہ برس مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ کا ذکر کرنا بھی نہ بھولے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ٹیرف پالیسی کے ذریعے پاک بھارت نیوکلیئر جنگ سمیت کئی جنگیں رکوائیں۔ جب میں آیا تو شروع کے آٹھ مہینے محفوظ نہیں تھے، پھر میں نے ٹیرف کی مدد سے آٹھ جنگیں ختم کروائیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان اور بھارت ایک وقت میں ایٹمی جنگ کے قریب پہنچ چکے تھے، وزیراعظم شہبازشریف نے کہا جنگ نہ رکواتے تو پینتیس ملین لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ انسدادِ دہشتگردی تعاون جاری رکھنے اور خطے میں استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں پرزور دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ خطے میں امن کو اپنی ترجیح سمجھتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے غیر قانونی امیگریشن کو قومی سلامتی کا بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے سرحدی نگرانی سخت کرنے، غیر قانونی تارکین وطن کی ملک بدری اور سرحدی نظام کو مزید مؤثر بنانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ نئی پالیسیوں کے بعد غیر قانونی داخلوں میں واضح کمی آئی ہے اور امریکی سرحدیں پہلے سے زیادہ محفوظ ہو چکی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنی ٹیرف پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے تجارتی دباؤ اور درآمدی محصولات کے ذریعے عالمی سطح پر بہتر معاہدے حاصل کیے۔انہوں نے کہا کہ ٹیرف کے باعث امریکی صنعت، روزگار اور مقامی پیداوار کو فائدہ پہنچا ہے اور غیر منصفانہ تجارت کے خلاف سخت اقدامات جاری رہیں گے۔صدر کے مطابق یہ پالیسی “امریکہ فرسٹ” وژن کا بنیادی حصہ ہے، جس کے ذریعے معیشت کو مضبوط اور بیرونی انحصار کو کم کیا جا رہا ہے۔ صدر نے معیشت کو مضبوط قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوا ہے۔ ٹیکس اصلاحات اور دفاعی بجٹ میں اضافے کو اپنی حکومت کی بڑی کامیابیاں قرار دیا گیا۔خطاب کے دوران حکومتی ارکان نے بھرپور حمایت کا اظہار کیا جبکہ اپوزیشن کی جانب سے بعض نکات پراختلاف اور تنقید بھی سامنے آئی،غیر ملکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس الہان عمر اور رشیدہ طالب نے خطاب کے دوران صدر ٹرمپ پر جملے کسے اور نعرے بازی کی۔ دونوں ارکان نے صدر پر الزام عائد کرتے ہوئے بلند آواز میں کہا آپ نے امریکیوں کو قتل کیا ہے جس پر ٹرمپ نے کہا کہ آپ کو مجرموں کا تحفظ کرتے ہوئے خود پر شرم آنی چاہئے۔اس موقع پر ایوان میں شور شرابا شروع ہوگیا جبکہ ریپبلکن ارکان نے صدر کی حمایت میں تالیاں بجائیں۔


