کابل نے امن کی ضمانت نہ دی تو دوبارہ کارروائی سے گریز نہیں کریں گے، خواجہ آصف
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ اگر کابل کی حکومت امن کی ٹھوس ضمانت فراہم نہ کر سکی تو پاکستان دوبارہ کارروائی کرنے سے ہچکچائے گا نہیں۔ ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے اور اس صورتحال کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ میں ملوث ہے اور نئی دہلی، کابل اور بعض شدت پسند گروہ ایک ہی صفحے پر ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی 2025 کی کشیدگی کے بعد کوئی براہِ راست یا بالواسطہ رابطہ نہیں ہوا، جبکہ جنگ کا امکان مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ وزیر دفاع نے کہا کہ ماضی میں سرحدی جھڑپوں اور دہشت گرد حملوں کے بعد پاکستان نے افغانستان کے اندر مخصوص اہداف پر کارروائیاں کیں۔ تاہم متعدد مذاکرات کے باوجود جنگ بندی نہ ہو سکی کیونکہ کابل حکومت شدت پسند تنظیموں کے خلاف مؤثر اقدامات میں سنجیدہ نظر نہیں آئی۔ ملک میں سیکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی مختلف شاخیں موجود ہیں جس کی بڑی وجہ افغان حکومت کی عدم سنجیدگی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ دوست ممالک نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کی کوشش کی، مگر خاطر خواہ نتائج حاصل نہ ہو سکے۔ اسرائیل سے متعلق سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی واضح ہے اور فلسطینیوں کو خودمختار ریاست ملنے تک اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ انہوں نے غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر شرائط موزوں ہوئیں تو پاکستان بین الاقوامی امن فورس میں کردار ادا کرنے پر غور کر سکتا ہے۔