جیل غیرت سے کاٹی جاتی ہے، مشکلات برداشت نہیں توکچھ اورکرلو! صدر زرداری کا بانی پی ٹی آئی کو مشورہ
صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایک بار پھر پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کو آڑے ہاتھوں لےلیا ۔ صوبہ پنجاب کے شہر وہاڑی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ جیل غیرت سے کاٹی جاتی ہے، ڈیڑھ سال ہوا اوران کی آوازیں آنا شروع ہوگئی ہیں ۔ سیاست میں تو ایسا ہوتا ہے۔ اگر برداشت نہیں کرسکتے تو کوئی آسان کام کرلو۔ صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا ملک ایک سال رک جائے تو 10 سال پیچھے چلا جاتا ہے، پی ٹی آئی حکومت میں ملک چار سال رک گیا تھا، چیئر مین پی ٹی آئی کو روز بھاشن دینے کی عادت تھی، ہرٹی وی پراس کی تقریرآتی تھی تو باقی تقریریں بند ہوجاتی تھیں ۔ ڈیڑھ سال نہیں ہوا کہ جیل سے آواز آرہی ہے، بیٹا کہہ رہا ہےکہ اسے ملنے نہیں دیا جا رہا، میں نے 14 سال جیل کاٹی ، بلاول کو چھوٹا سا چھوڑ کر گیا تھا ۔ رہائی کے بعد ملا تو بلاول مجھ سے قد میں بڑے تھے۔ یہ تکالیف تو آپ نے برداشت کرنی ہیں، یہ تو زندگی کا حصہ ہے، اگر نہیں برداشت کرسکتے تو کوئی اور آسان کام کرو! یہ کام کرنا ضروری ہے! تم مدر ٹریسا بن جاتے، کرکٹ کے گاڈ بن جاتے، ہر جگہ کرکٹ کلبز بناتے، تم ایک شعبے کو لے لیتے، اگر سیاست ہے تو اس میں ہر شعبہ آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے پی حکومت مار کٹائی پر اتری ہوئی ہے، ملک ان کو بنانا نہیں، لوگوں کا کام کرنا نہیں، کے پی حکومت نے کوئی کام نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا حکمرانی کے لیے لچک اور سیاسی بلوغت ضروری ہے، سیاسی تعاون اتنہا پسندانہ رجحانات کو روکنے میں مدد دیتا ہے، م سندھ اور بلوچستان تک محدود ہے، مجھے بلوچستان کے عوام کے درد کا معلوم ہے ۔ ملک کے حالات پہلے سے بہتر ہیں، مکمل بہتر ہونےمیں وقت لگے گا ۔ میں ہر کام سمجھ اور سوچ کر کرتا ہوں۔ ہم نے وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو ووٹ دیئے اور بدلے میں صدر کے عہدے کے لیے ان سے ووٹ بھی لیے ۔۔ صدر مملکت نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، اس کے ایک انچ پر بھی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے علاقائی خطرات کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا۔