معروف مذہبی اسکالرمحمد علی مرزا پر قاتلانہ حملے کا مقدمہ جہلم کے تھانہ سٹی میں درج کرلیا گیا ۔ ملزم محمد عاصم کے خلاف اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ۔ ملزم کا تعلق خیبرپختونخوا کے شہر ایبٹ آباد سے ہے ۔ انجینئر محمد علی مرزا پرمبینہ قاتلانہ حملے کا مقدمہ اُن کی قرآن وسنت ریسرچ اکیڈمی کی کورکمیٹی کے رکن کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آرکے مطابق پندرہ مئی بروز اتوار کو لیکچرکے اختتام پرفوٹو سیشن کے دوران ملزم عاصم انجینیئر محمد علی مرزا پر حملہ کرتے ہوئے اُن کےعمامے کو زمین پرپٹخ دیا اوراُن کے گلے کو اپنے دونوں ہاتھوں سے دبوچ کراُن کا سانس روکنے کی کوشش کی۔اس دوران حملہ آور نے بلند آوازمیں مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے نعرے لگائے۔ ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر موجود افراد نے ملزم کو پکڑا اور اسے اکیڈمی میں ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کے حوالے کردیا ۔ جہلم پولیس کے مطابق انجینیئرمحمد علی مرزا پرمارچ 2021 میں بھی چاقو سے حملہ کیا گیا تھا ، اُن کے بازو پرزخم آیا تھا تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے ۔ اس سے قبل 2017 میں ایک قاتلانہ حملہ ہوچکا ہے ۔ گذشتہ برس انجینیئر محمد علی مرزا کو مبینہ توہین مذہب کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم دسمبر 2025 میں انھیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔


