ووفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی کہتے ہیں ۔ لاہور کی آبادی جب دو لاکھ تھی تب بھی وہ ایک ضلع تھا ۔ آج دو کروڑ کی آبادی پر بھی وہ ایک ہی ضلع ہے ۔ کراچی میں سات ضلعے کیا شہر کی محبت میں بنائے گئے ہیں ۔ پیپلز پارٹی پنجاب کی تقسیم کی حمایت کرتی ہے ۔ کیا سندھ کوئی الگ سے ملک ہے جس کی تقسیم کی بات کرنا غداری ہے ۔ کراچی میں نذیر حسین یونیورسٹی میں حیدرآباد کے طلبہ میں وزیر اعظم اسکیم کے تحت لیپ ٹاپ کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کے پاس قرضے اور دفاعی اخراجات کے بعد کچھ نہیں بچتا ۔ صوبوں میں تعلیم اور ٹیکنالوجی مہیا کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ ہمارے یہاں ترقیاتی بجٹ سے کرپشن نہیں ہوتی بلکہ کرپشن سے بچ جانے والے پیسے سے ترقیاتی کام ہوتے ہیں ۔انہوں نے صوبے پاکستان کا حصہ ہیں ۔ مغربی پاکستان میں چار صوبے بننے سے پاکستان تقسیم نہیں ہوا ہے ۔ تو مزید صوبے بننے سے کیسے تقسیم ہوجائیگا ۔ صوبوں کی تقسیم کا طریقہ کار آئین میں درج ہے ۔ یہ عجیب ہے کہ پیپلز پارٹی کے نزدیک کراچی کی ضلع در ضلع تقسیم جائز ہے ، پنجاب میں نئے صوبے بننا بھی جائز ہیں لیکن سندھ میں نئے انتظامی یونٹ بننا ناجائز ہےو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔


